Tuesday, October 20, 2009

شیخ ابو الخبیب سہروردی بہاو?الدین زکریا ملتانی 923016778069

شیخ ابو الخبیب سہروردی
1
شیخ ابو الخبیب سہروردی نام
490ہجر&تاریخ پیداءش
وجھ شھرت
آپ کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کے نام سے تمام عالم اسلام میں پھیلا اور خوب پھیلا۔

آپ کاشجرہ نسب بارہ واسطوں سے حضرت ابو بکر صدیق سے جا ملتا ہے

490ہجری عراق کے ایک چھوٹے سے قصبے ونجان کے قریب سہرورد نام ایک گاو?ں میں پیدا ہوئے۔ شجرہ نسب بارہ واسطوں سے حضرت ابو بکر صدیق سے جا ملتا ہے۔ آغاز جوانی میں سہرورد سے تحصیل علم کے لیے بغداد چلے آئے جہاں امام اسعد المتوفی 527 مدرس اعلیٰ مدرسہ نظامیہ بغداد سے فقہ ، اصول فقہ اور علم کلام کی تحصیل کی۔ علامہ ابو الحسن فصیح النحوی المتوفی516ہجری مدرس علم نحو سے علم ادبیہ کی تحصیل کی اور کئی محدثین کرام سے علم حدیث کی تعلیم پائی۔ غرض تھوڑے ہی دنوں میں ایک متحبر عالم بن گئے۔ اپنے ہم عصر علماءمیں نہایت شہرت و ناموری پائی۔ علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد آپ کے دل میں علوم باطنی کے حاصل کرنے کی لگن پیدا ہوئی۔ اگرچہ اپنے چچا وجیہ الدین ابو حفص عمرسہروردی کی صحبت میں بچپن ہی سے آپ کی طبیعت پر صوفیانہ رنگ تھا اور آپ فقر و درویشی کی طرف مائل تھے۔ لیکن اب آپ کی عمر کے ساتھ ساتھ یہ جذبہ بھی جوان ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ آپ نے درس و تدریس کا مشغلہ ترک کر کے علوم باطنی کی تحصیل کے لیے پہلے اپنے چچا کی طرف رجوع کیا۔ ان سے فراغت پانے کے بعد امام محمد غزالی کے بھائی احمد غزالی کی طرف رجوع کیا۔ ان سے علم تصوف حاصل کیا اور منازل سلوک طے کیے۔ تذکرہ نویسوںنے بیان کیا ہے کہ آپ اپنے پیر بھائی محبوب سبحانی سید عبدالقادر جیلانی کی خدمت میں بھی پہنچے اور ان سے بھی استفادہ کیا۔ منازل سلوک طے کرنے کے بعد آپ نے دین اسلام کی اشاعت و خدمت کے لیے کمر ہمت باندھ لی اور درس و تدریس کا سلسلہ پھر سے شروع کیا۔

545ہجری میں آپ سلجوقی بادشاہ مسعود اور المفتی امر اللہ عباسی خلیفہ کی خواہش پر مدرسہ نظامیہ بغداد کا اہتمام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور آپ اس کے مہتمم مقرر ہوئے۔ مگر 547ہجری میں دو سال ہی کے بعد اس مدرسہ سے علیحدہ ہو گئے۔ واقعہ یہ ہوا کہ بغداد کے مشہور کاتب شیخ یعقوب جو مدرسہ ہی میں رہا کرتے تھے فوت ہو گئے۔ وہ چونکہ بے وارث تھے۔ اس لیے حکومت کی طرف سے متعلقہ شعبہ کے افراد نے آ کر ان کے سامان پر قبضہ کر لیا اور تالا ڈالنا چاہا۔ طلباءمزاحم ہوئے۔ اس پر مدرسہ میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ جناب شیخ اس ہنگامہ سے کچھ ایسے متاثر ہوئے, کہ عہدے ہی سے مستعفیٰ ہو گئے۔ اس کے بعد آپ نے اپنا مدرسہ جو پہلے سے قائم تھا دوبارہ جاری کیا جس میں فقہ و حدیث کے بڑے بڑے عالم پیدا ہوئے مثلاًامام فخر الدین ابو علی واسطی ، قاضی ابوالفتوح تکوینی ، علامہ کمال الدین ابن الانباری، علامہ ابن الغبیری، حافظ ابن عساکر، علامہ حافظ قاسم ابن عساکر، حافظ عبدالکریم سمعانی وغیرہ محدثین واکابرین آپ کے شاگردان رشید ہیں غرض یہ کہ آپ کے چشمہ فیض و عرفان سے ایک عالم سیراب ہوا۔
طریقت کے علم میں بھی آپ کے اخلاص کیشان تصوف کی تعداد بے شمار ہے۔ جن میں سے چند مشہور مشائخ و اولیائے کرام یہ ہیں۔شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی ، شیخ نجم الدین کبریٰ، شیخ عبداللہ مطرومی، شیخ جمال الحق ، عبدالصمد زنجانی، خواجہ اسمٰعیل قیصری وغیرہ صوفیائے کرام آپ ہی کے مریدین خاص اور آپ کے خلفائے با اخلاص ہیں۔
آپ کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کے نام سے تمام عالم اسلام میں پھیلا اور خوب پھیلا۔ جناب شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی، مولانا فخر الدین عراقی، حضرت امیر حسینی سادات ، مولانا جلال الدین رومی ، جناب خواجہ فرید الدین عطار، مولانا شمس الدین تبریزی، شیخ الاسلام سید نور الدین مبارک غزنوی، مولانا مغربی، مخدوم جہا نیاں سید السادات ، مخدوم جلال الدین بخاری، خواجہ نجیب الدین فردوسی، مولانا شمس الدین تبریزی اور شیخ الاسلام جناب غوث زکریا بہائو الدین ملتانی وغیرہ اہم بزرگان دین آپ ہی کے سلسلہ سہروردیہ کے مشائخ اعلام ہیں۔

بہاو?الدین زکریا ملتانی
غوث بہاو?الدین زکریانام
578ھتاریخ پیداءش
وجھ شھرت
آپ کی طبیعت کی فیاضی اور دل کی سخاو ت نے آپکو ہر دلعزیز بنا دیا
خواجہ گیلانی بھی آپ کے اس جودو سخا سے اتنے متاثر ہوئے کہ دنیا کی دولت کو لات مار کر فقیر ہو گئے

۵۷۸ھمیں ملتان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے باپ دادا چنگیز خان کے زمانے میں کوارزم سے نکل کر ملتان آئے اور یہیں آباد ہو گئے۔ آپ کے جد اعلیٰ کمال الدین علی شاہ مکہ معظمہ سے نکل خوارزم میں آباد ہوئے۔ جہاں شیخ وجیہ الدین پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ میہار بن اسود بن مطلب بن عبد العزیز بن اقصٰی قریشی سے جا ملتا ہے۔ شیخ وجیہ الدین کی شادی مولانا حسام الدین ترمزی ایک ممتاز بزرگ کی بیٹی سے ہوئی ۔ جن کے بطن سے جناب غوث بہاو?الدین زکریا تولد ہوئے۔ آپ کو پانچ برس کی عمر ہی سے تعلیم دین کی طرف راغب کیا گیا۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ بارہ برس کی عمر کو پہنچنے تک آپ کو اتنی تحصیل علم ہو گئی تھی کہ جتنی کوئی صاحب شعور سات برس کی مدت میں حاصل کر سکتا ہے۔ آپ ابھی سن شعور کو نہیں پہنچے تھے کہ آپ کی والدہ محترمہ انتقال فرما گئیں۔ عین عالم جوانی میں آپ کے والد محترم انتقال فرما گئے۔ والد محترم کے بعد چونکہ ان کے سرپر کسی مشفق بزرگ کا سایہ نہ رہا۔ اس لیے وہ حصول تعلیم کے لیے ملتان سے خراسان چلے گئے اور یہاں کے علماءفضلا ءسے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ پھر بخارا چلے گئے۔ وہاں نہ صرف تحصیل علوم ظاہری کی بلکہ اجتہاد کا درجہ پا لیا۔ پھر بخارا سے مکہ معظمہ کا رخ کیا۔ یہاں پانچ برس تک مجاوری کرتے رہے۔ یہاں سے مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔ شیخ کمال الدین محمد یمنی سے علم حدیث حاصل کیا۔

پھربیعت المقدس پہنچے شیوخ سے ملے یہاں سے چل کر پھر بغداد آ ئے اور جناب شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی سے فیض صحبت اٹھایا۔ ان سے علوم باطنی حاصل کیے اور خرقہ خلافت پایا۔ کہتے ہیں جناب شیخ شہاب الدین کے درویشوں نے یہ دیکھ کر کہ زکریا ملتانی کو صرف سترہ دن جناب شیخ کی خدمت میں رہنے سے خرقہ خلافت مل گیا۔ آپس میں کھسر پھسر کی کہنے لگے کہ ہم اتنی مدت سے آپ کی خدمت میں حاضر ہیں ہمیں تو خرقہ خلافت عطا نہیں ہوا۔ مگر یہ ہندی درویش چند ہی دنوں کی حاضری سے خرقہ خلافت لے کر چلتا بنا ۔ کہتے ہیں کہ بات کہیں ہوتے ہوتے جناب شیخ تک پہنچ گئی ۔ آپ نے فرمایا اے درویشو تم لوگ تر اور سوکھی لکڑی کی طرح ہواور زکریا ملتانی خشک لکڑی کی مانند ہے ۔ جس تیزی و سرعت کے ساتھ سوکھی لکڑی آگ پکڑتی ہے تر لکڑی نہیں پکڑ سکتی۔ درویشوں نے یہ بات سن کر ندامت محسوس کی اور خاموش ہو رہے۔ جناب زکریا خرقہ خلافت پانے کے بعد اپنے مرشد کے حکم سے ملتان واپس آگئے اور یہاں پہنچ کر آپ نے سلسلہ رشد وہدایت جاری کیا۔ آپ کے ایک پیر بھائی جناب شمش الدین تبریزی جو آپ سے بڑی محبت رکھتے تھے ۔ تبلیغ اسلام میں آپ کے بڑے ممدو معاون بن گئے۔ جناب زکریا نے ملتان میں دین اسلام کی تعلیم کے لیے سب سے پہلے ایک مدرسہ قائم کیا ۔ جس کے اثر سے ملتان میں اسلامی زندگی ظہور میں آئی اور لوگوں کے دلوں میں خدا کی یاد رہنے لگی۔ اس کے بعد آپ کی طبیعت کی فیاضی اور دل کی سخاوت نے خلق خدا کو ولایت کا مفہوم سمجھا نا شروع کیا چنانچہ کہتے ہیں ایک مرتبہ آپ کے ایک مرید جناب خواجہ کمال الدین مسعود شیروانی جوہیرے جواہرات کی تجارت کیا کرتے تھے۔ دیگر سوداگروں کے ساتھ بحری جہاز میں سوار تھے۔ جب جہاز عدن کے لیے روانہ ہوا تو ابھی تھوڑی ہی دور پہنچا ہو گا کہ باد مخالف چلنے لگی اور جہاز کے مسافر گھبرا گئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے کسی کو بچنے کی امید نہ رہی۔ ایسے عالم حسرت میں خواجہ کمال الدین نے خدا کی بارگاہ میں فریاد کی اور تما م تاجروں نے اپنے دل میں کہا کہ اے پروردگار اگر ہم اس عذاب اور طوفان سے تیرے فضل و کرم سے صحیح و سالم پار اتر گئے تو ہم تیری راہ میں اپنے مال و اسباب کا تیسرا حصہ خیرات کریں گے۔

کہتے ہیں خواجہ کمال الدین و دیگر تاجروں کی نگاہوں کو یوں محسوس ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جانے جناب زکریا ملتانی کو جہاز والوں کی مدد کے لیے بھیج دیا اور قدرت خدا جہاز بخیر و عافیت عدن پہنچ گیا۔ تمام سوداگروں نے اپنے مال و اسباب کا تیسرا حصہ خواجہ کمال الدین کے حوالے کیا۔ خواجہ نے فخر الدین گیلانی کے ہاتھ جناب زکریا ملتانی کے پاس بھیج دیا۔ تاریخ فرشتہ میں لکھا ہے کہ یہ رقم ستر لاکھ روپے تھی۔ جناب زکریا ملتانی نے اس رقم کو قبول کر کے اسی وقت شہر کے تمام غریبوں یتیموں اور بیواو?وں میں تقسیم کر دیا اور خود اس سے دامن جھاڑ کر علیحدہ ہو گئے۔ کہتے ہیں اس واقعہ سے تمام ملتان میں آپ کی سخاوت و فراخدلی کی دھوم مچ گئی اور آپ نے لوگوں پر عملاً ثابت کر دکھایا کہ جن خوش نصیبوں کو خدا مل جاتا ہے انہیںپھر کسی شے کی حاجت نہیں ۔ جو خدا کے قرب کو پا لیتے ہیں وہ دنیا کی ہر شے سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔

لکھا ہے خواجہ گیلانی بھی آپ کے اس جودو سخا سے اتنے متاثر ہوئے۔ کہ دنیا کی دولت کو لات مار کر فقیر ہو گئے اور آپ کے دست حق پر بیعت کر لی اور پچیس برس تک آپ کی خدمت میں رہے۔ اس کے بعد آپ مکہ معظمہ کو روانہ ہوئے۔ مگر ابھی راستے میں ہی تھے کہ جدہ پہنچ کر انتقال کر گئے۔ یہیں ان کا مزار ہے۔ جناب زکریا ملتانی کا یہ معمول تھا کہ خود تو روزے رکھتے اور سادہ غذا کھاتے مگر ایک خلق خدا کو بلا بلا کر باورچی خانے میں لاتے اور طرح طرح کے لذیذ کھانے کھلاتے اورانہیں کھانا کھاتے دیکھ کر خوش ہوتے۔ ایک مرتبہ ملتان میں سخت قحط پڑا ملتان کے حاکم کوغلہ کی ضرورت پڑی۔ آپ نے کئی من غلہ اس کے پاس پہنچا دیا۔ جب وہ غلے کو بحفاظت کسی جگہ رکھوا رہا تھا تو اس میں سے نقرئی سکےّ کے سات کوزے بھی نکلے۔ ملتان کے حاکم نے آپ کو اس کی اطلاع دی ۔ آپ نے فرمایا ہمیں ان سے کوئی واسطہ نہیںیہ بھی ہم نے تمہی کو بھیجے ہیں۔ ایک روز آپ نے خادم سے فرمایا جاو? فلاں صندوقچہ اٹھا لاو?۔ اس میں پانچ ہزار اشرفیاں پڑی ہیں ۔ خادم گیا۔ ادھر ادھر دیکھا بھالا مگر اتفاق سے نہ ملا۔ خدمت میں واپس آیا اور عرض کیا معلوم نہیں صندوقچہ کہاں رکھا ہے۔ مجھے تو نہیں ملا۔ آپ نے فرمایا۔ الحمد للہ اور خاموش ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد خادم پھر آیا اور آ کر صندوقچہ کے مل جانے کی اطلاع دی۔ آپ نے پھر فرمایاالحمدللہ ۔ ایک شخص جو آپ کے قریب ہی بیٹھا تھا۔ کہنے لگا یا حضرت آپ کے دونوں مرتبہ الحمد للہ کہنے کے کیا معنی ہیں۔ میں سمجھ نہیں سکا۔ آپ نے فرمایا کہ ہم فقیروں کے نزدیک کسی شے کا ہونا یا نہ ہونادونوں یکساں ہیں۔ اس لیے ہمیں نہ کسی کے آنے کی خوشی اور نہ کسی کے جانے کا غم۔ اس کے بعد آپ نے وہ پانچ ہزار اشرفیاں اسی وقت محتاجوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیں۔

آپ کسی سے اپنی تعظیم و تکریم کی خواہش نہیں رکھتے تھے ایک مرتبہ آپ کے چند ایک درویش وضو کر رہے تھے کہ آپ بھی ان کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔ یہ دیکھ کر تما م درویش آپ کی تعظیم کو اٹھ کھڑے ہوئے۔ مگر ایک درویش نے جو وضو کررہا تھا۔ اس وقت آپ کی تعظیم و تکریم کی کہ جب وہ وضو سے فراغت پا چکا۔ آپ نے فرمایا تم درویشوں میں سے سب سے افضل و زاہد ہو۔ لیکن آپ دوسروں سے بڑی تعظیم و تکریم کے ساتھ پیش آتے ایک موقع پر جلال الدین تبریزی نیشا پور میں آپ سے علیحدہ ہو کر خراسان چلے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد آپ سلطان التمش کی دعوت پر دہلی تشریف لائے۔ سلطان مع علماءو مشائخ کے شہر سے باہر آپ کے استقبال کو بڑھا اور ان کو دیکھتے ہی گھوڑے سے اتر پڑا ۔ پھر انہیں سب کا امام بنا کر ان کے پیچھے پیچھے شہر کو روانہ ہوا ۔ کہتے ہیں شیخ الاسلام نجم الدین حضری کوسلطان کی یہ ادا پسندنہ آئی اور وہ تبریزی سے حسد کرنے لگا۔ بعد میں بغض و حسد کی آگ یہاں تک بھڑک اٹھی کہ انہیں سلطان کی نگاہوں سے گرانے کے لیے اس نے ان پر زنا کا الزام لگا دیا اور اس جرم کا ثبوت بہم پہنچانے کے لیے ایک فاحشہ عورت گواہی دینے کے لیے معاوضہ لے کر تیار ہو گئی۔

جب سلطان کے سامنے اس واقعے کو پیش کیا گیا تو سلطان سکتے میں آ گیا اس کے وہم و گمان میں بھی کبھی ایسا جرم نہ آ سکتا تھا کہ جس کا کوئی ولی اللہ مرتکب ہو ۔ ہر چند وہ سمجھتا تھا کہ یہ الزام غلط ہے اور گواہی دینے والی عورت جھوٹی ہے اور فاحشہ کار ہے۔ تا ہم قانون کا تقاضا جب پورا نہ ہو وہ انصاف نہیں کر سکتا تھا۔ آخر اس نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہندوستان کے تمام علماءو مشائخ کو دربار میں تشریف لانے کی زحمت دی۔ بہاو?الدین زکریا سے بھی التماس کیا گیا۔ چنانچہ آپ بھی دہلی تشریف لے گئے۔

دہلی کی جامع مسجد میں اس مقدمہ کے فیصلے کا اہتمام کیا گیاتھا۔ چنانچہ جمعہ کا دن تھا۔ تمام علمائو مشائخ نے شرکت کی ۔ شیخ الاسلام نجم الدین حضری کو آپ کی اور جناب تبریزی کی آپس میں کشیدگی کا علم تھا۔ اس نے اس موقع سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے جناب زکریا بہاو?الدین کہ حَکَمَہ مقرر کر دیا۔ جمعہ کی نماز کے بعد سوچی سمجھی بات کے مطابق فا حشہ عورت پیش ہوئے اور جناب تبریزی کو بھی طلب کیا گیا۔ جس وقت جناب تبریزی مسجد کے دروازے تک پہنچے تو تمام علمائے ربانی و مشائخ سبحانی آپ کی تعظیم کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ جب حضرت اپنی جوتیاں اتار کر آگے بڑھے تو جناب زکریا نے آپ کی جوتیاں اٹھا کر اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ سلطان نے یہ دیکھ کر کہ جس بزرگ کا جناب زکریا ایسے عالی مرتبت ولی اتنا ادب و احترام کریں۔ وہ کیونکر مجرم ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ سوچ کر کہ بظاہر تو جناب تبریزی کو مجرم کہا جا رہا ہے۔ اس لیے آپ کو اس احترام سے روک دینا چاہا۔ اس پر آپ نے فرمایا میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میں شیخ جلال الدین تبریزی کی خاک پا کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناو?ں لیکن شاید شیخ الاسلام نجم الدین حضری کے دل میں یہ خیال ہو کہ میں نے جناب تبریزی کا احترام کر کے ان کے عیب کو چھپانے یا اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ گواہ کو پیش کیا جائے۔

کہتے ہیں جب فاحشہ عورت گواہی کے لیے آپ کے سامنے لائی گئی تو اس پر آپ کی بزرگی و عظمت کا کچھ ایسا رعب طاری ہو گیا۔ کہ وہ آپ کے قدموں میں گر پڑی اور اول سے لے کر تمام واقعہ اگل دیا اور شیخ الاسلام کی تمام سازش طشت اذبام کر دی ۔ جناب تبریزی سے بڑی تعظیم و توقیر کے ساتھ معافی مانگی گئی اور نجم الدین کو شیخ السلام کے عہدے سے بر طرف کر دیا گیا۔ کہتے ہیں اس کے بعد سلطان نے آپ کی خدمت میں درخواست پیش کی کہ آپ شیخ السلام کا عہدہ قبول فرما لیں۔ چنانچہ آپ نے یہ عہدہ قبول فرما لیا جو آپ کے خاندان میںطویل عرصے تک قائم رہا۔ بعضوں نے شیخ السلام نجم الدین حضری کی اس ناپاک حرکت کے واقعہ کو جناب بختیار کاکی سے منسوب کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہی صحیح ہو کیونکہ جناب کاکی کا اثر و نفوذ اور مقام و منصب دہلی والوں میں اتنا بلند ہو گیا تھا کہ نجم الدین جلنے لگا یہی سبب ہے کہ جناب خواجہ معین الدین چشتی جب آپ سے ملنے دہلی تشریف لائے اور یہ حال دیکھا تو آپ سے فرمایا۔ بابا بختیار تمہارے یہاں رہنے سے کسی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ تم دہلی چھوڑ کر میرے ساتھ اجمیر چلے چلو۔ چنانچہ بابا اپنے مرشد کے ساتھ چلنے پر فوراً آمادہ ہو گئے مگر اہل دہلی نے واویلا کر کے آپ کو رکوالیا۔ ممکن ہے یہ واقعہ ان دونوں بزرگوں ہی کے نام سے منسوب ہو کیونکہ تاریخوںسے اس بات کا ثبوت ضرور ملتا ہے۔ کہ جناب تبریزی ، حضرت بختیار کاکی سے ملنے کے لیے دہلی تشریف لائے تھے۔ سلطان کی دعوت پر نہیں۔ بلکہ سلطان کو ان کے آنے کی بروقت اطلاع ملی تھی۔ جس پر وہ آپ کے استقبال کو نکلے اور جناب کاکی آپ کے استقبال کو علیحدہ بڑھے۔

تصانیف:۔جناب زکریا بہاو?الدین کی کسی تصنیف و تالیف کا حال تو معلوم نہیں ۔ البتہ آپ نے اپنے مریدوں کو جو خطوط دوصایا تحریر کیے وہ بمنزلہ آپ کے ملفوظات کے ہیں۔ ?الا خبار الاخیار میں مل سکتے ہیں۔ آپ نے 661ھ تا 666ھ میں وفات پائی۔ آپ کا مزار پر انوار ملتان ہی میں مرجع خلائق ہے۔

آپ کی اولاد میںشیخ صدر الدین عارف ایک ولی کامل کی حیثیت میں سب سے زیادہ مشہور ہیں والد محترم کی تمام خوبیاں، سخاوت ، و فیاضی آپ کی طبیعت اور مزاج میںبدرجہ اتم موجود تھیں ۔ آپ نے اپنے والد گرامی قدر کے انتقال کے بعد تمام دولت ایک ہی دن میں فقیروں اور مسکینوں، محتاجوں اور غریبوں میں تقسیم کر دی۔ کسی نے اس پر آپ سے پوچھا کہ یا حضرت آپ کے والد ماجد تو اپنے خزانے خزانے جمع رکھتے تھے اور اسے تھوڑا تھوڑا خرچ کرنا پسند کرتے تھے مگر آپ نے تو اپنے لیے ایک دام بھی نہ رکھا۔ سب کچھ ایک ہی دن میں لٹا دیا فرمایا حضرت بابا دنیا پر غالب تھے اس لیے دولت ان کے پاس جمع رہتی اور اس میں سے تھوڑا تھوڑا خرچ کرتے تھے۔ مگر مجھ میں یہ خوبی پیدا نہیں ہوئی۔مجھے ڈر ہے کہ میں دنیا کے فریب میں نہ آ جاو?ں ۔ اس لیے میں نے تمام دولت اپنے سے علیحدہ
کر دی۔ہمارے ہاں سہر وردی سلسلہ جناب زکریا ملتانی سے ہی پھیلا ہے۔

سید محمد المعروف سلطان المشائخ۔ ByMuhammadAmirSultanChishti923016778069

نظا م الدین محبوب الہٰی
سید محمد المعروف سلطان المشائخ۔نام
ہجرتاریخ پیداءش
ایک شخص آپکو گالیاں دیتا تھا آپ نے دعا فرمائی میں نے معاف کیا یااللہ تو بھی اسے معاف فرما

آپ کے باپ دادا کسی زمانے میں بخارا سے نکل کر بدایوں آ ئے تھے جہاں636ہجری سلطان التمش کے زمانے میں آپ کی ولادت با سعادت ہوئی۔ آپ ابھی پانچ برس برس کے تھے کہ آپ کے والد محترم جناب مولانا سید احمد کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا اور آپ یتیم ہو گئے۔ آپ کی والدہ محترمہ سیدہ بی بی زلیخا ایک سمجھ دار اور دین دار خاتون تھیں۔ مولانا کے انتقال کے بعد آپ کی پرورش و تربیت کا بار تنہا سیدہ ہی نے اٹھایا۔ انہوں نے آپ کو ابتدائی تعلیم دی اور آپ کے دل میں دین کی اشاعت کے حصول کا شوق پیدا کیا۔ بی بی زلیخا سوت کاتتی اور اس سے جو معاوضہ میسر آتا اس سے گھر کے اخراجات چلاتی تھیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ کئی روز فاقے سے گزر جاتے۔ لیکن جناب نظا م الدین باوجود نہا یت کم سن ہونے کے کیا مجال جولب پر ایک حرف بھی شکایت کا لے آتے۔ بلکہ صبر و تحمل اور حوصلے کے ساتھ علوم دین کی تحصیل میں لگے رہتے۔ جس روز کھانے پینے کو گھر میں کچھ نہ ہوتا۔ بی بی کہتیں، بابا نظام آج ہم اللہ میاں کے مہمان ہیں۔ بھولا بھالا نظا م بھی اس مہمانی کا اتنا قدر دان تھا کہ ہمیشہ اس کے دل میں یہی خیال رہتا کہ وہ دن کب آئے گا جب اماں پھر کہیں گیں بابا نظام آج ہم اللہ میں کے مہمان ہیں۔ ماں کی اس خاص توجہ اور تربیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ سولہ برس ہی کی عمر میں تمام علوم دین میں کامل ہو گئے۔ تفسیر، حدیث ، فقہ پر انہیں دسترس ہو گئی۔ تعلیم سے فراغت پائی تو والدہ محترمہ نے تمام شہر کے علماءو فضلاءکو جمع کیا اور اپنے ہاتھ سے بنے ہوئے سوت کی آپ کے سر پر پگڑی بندھوائی۔

اس کے بعد مزید تحصیل باطنی کے لیے آپ اپنی والدہ اور ہمشیرہ کو لے کر بدایوں سے دہلی آ گئے۔ جہاں آپ کو شمس الملک مولانا شمس الدین تبریزی خوارزمی سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ مولانا خوارزمی اپنے زمانے کے ممتازعلماءمیں شمار کیے جاتے تھے۔ سلطان بلبن ان کا بے حد احترام کرتا تھا۔ خواجہ صاحب دہلی میں ہلال طشت وار کی مسجد کے نیچے ایک حجرے میں رہا کرتے تھے۔ ان کے قریب ہی خواجہ فرید الدین گنج شکر کے چھوٹے بھائی شیخ نجیب الدین متوکل رہتے تھے۔ آپ اکثر ان کے مکان پر جایا کرتے تھے اور ان کی زبانی آپ کو جناب فرید الدین گنج شکر کے فیض باطنی و کمالات علمی کا حال معلوم ہوا۔ آ پ کو ان سے ملاقات کرنے کا بے حد اشتیاق پیدا ہوا۔ چنانچہ آپ خواجہ فرید الدین گنج شکر سے ملاقت کرنے کے لیے پاکپٹن روانہ ہوئے۔ جب آپ بابا صاحب کی خدمت میں پہنچے تو بابا صا حب نے آپ کو دیکھتے ہی ایک شعر پڑھا، اور گلے سے لگا لیا۔ آپ ایک مدت تک ان کے پاس رہے۔ ان سے بیعت کی اور خرقہ خلافت پایا۔ ان دنوں بابا کے لنگر میں بڑی تنگدستی تھی۔ آپ کے درویش کیا کرتے کہ اپنے حصے کا ایک کام لے لیتے اور اس کو سر انجام دیتے۔ چنانچہ مولانا بدر الدین اسحٰق لنگر خانہ کے لیے جنگل سے ایندھن لاتے۔ شیخ جمال الدین بانسوی ایک جنگلی پھل ویلا اچار بنانے کو لاتے۔ حسام الدین کابلی پانی بھرتے اور برتن صاف کیا کرتے اور خواجہ صاحب کے ذمے کھانا پکانے اور کھلانے کا کام تھا۔ کہتے ہیں ایک روز کھانے میں نمک کی کمی تھی۔ آپ بازار گئے اور کسی بنیے سے ادھار پر نمک لے آئے۔ بابا صاحب کو جب معلوم ہوا تو لقمہ سے ہاتھ روک لیا اور فرمایا:۔ ازیں بونسے اسراف می آید?
آپ نے عرض کیا قرض سے نمک آیا ہے۔ بابا نے فرمایا درویشوں کے لیے قرض سے موت بہتر ہے۔ اگر کسی مقروض درویش کو اچانک موت آ جائے تو قیامت میں اس کی گردن جھکی رہے گی۔ خواجہ صاحب نے اسی وقت کانوں کو پکڑ لیا اور آئندہ قرض لینے سے توبہ کی ۔ بابا صاحب نے خدا کی بارگاہ میں آپ کے لیے دعا کی:۔ کہ اے پروردگار یہ تجھ سے جو کچھ مانگا کرے اسے عنایت کر دیا کر ? بابا کی دعا قبول ہوئی اسی لیے جناب نظام الدین کو محبوب الہیٰ کہا جاتا ہے۔

آخری مرتبہ جب آپ دہلی سے پاکپٹن اپنے مرشد جناب بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی زیارت کو گئے تو آپ کو بابا صاحب نے پھر ایک دعا دی۔ فرمایا نظام الدین اللہ تعالیٰ تمہیں نیک بخت بنائے۔ انشاءاللہ تم ایک ایسے درخت ہو گے جس کے سائے میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق آرام پائے گی۔ چنانچہ بابا صاحب کی یہ دعا اور پشین گوئی بھی آپ کے حق میں حرف بحرف بوری ہوئی۔ اولیائے کرام کی فہرست میں شاید ہی کوئی ایسا ولی نظر آئے جس کے قرب و صحت کی باد شاہوں تک نے آرزو کی ہو۔ آپ کے لنگر خانہ کا یہ عالم تھا کہ سینکڑوں غریب و مسکین لولے، لنگڑے اور اپاہج کھانا کھاتے۔ ان کے علاوہ باہر سے جو سیاح آتے انہیں بھی یہاں آرام میسر آتا۔ اور وہ مہینوں آپ کے مہمان رہتے اور سینکڑوں اشرفیاں اور زاد راہ لے کر واپس جاتے۔ آپ کا یہ معمو ل تھا کہ جب تمام لوگ کھانے سے فارغ ہو جاتے تب اپنا کھانا منگواتے اور تناول فرماتے۔ آپ نے عمر بھر کبھی مرغن غذا نہیں کھائی۔ عموماً جو کی روٹی اور ابلی ہوئی ترکاری ہوتی۔ کبھی رو پڑتے اور فرماتے جی نہیں چاہتا کہ اللہ کے ہزاروں بندے مسجدوں بازاروں اور گھر کے کونوں گوشوں میں بھوکے پیاسے پڑے ہوں اور میں مزے مزے کی چیزیں کھاو?ں۔ سردی کے دنوں میں فرماتے بار الٰہا کس غضب کی سردی ہے۔ غریب لوگ تیرے عاجز بندے کس طرح برداشت کر رہے ہوں گے۔

ایک مرتبہ ایک شخص کے مکان کو آگ لگ گئی۔ لوگ اس کی مدد کو دوڑے آپ بھی لوگوں کے ساتھ آگ بجھانے کو دوڑے۔ آتش زنی سے اس غریب کا بڑا نقصان ہوا۔ آپ کو اس کی بربادی پر سخت قلق ہوا۔ آپ نے خادم سے فرمایا۔ لنگر سے اس کے بیوی بچوں کے لیے کھانا لے جاو? اور اتنی رقم بھی دے آو? جس سے اس کی ضروریات آسانی سے پوری ہو جائیں۔ شان کی بے پروائی یہ تھی کہ اکثر بادشاہوں کو آپ سے میل جول بڑھانے کی تمنا رہتی۔ وہ چاہتے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائیں۔ غیاث الدین بلبن کے پوتے معزالدین کیقباد کو آپ سے دلی محبت تھی ۔ اس لیے اسی سبب سے آپ کے مسکن کے قریب ہی اپنا محل تعمیر کرایا اور اس میں سکونت اختیار کی۔ لیکن آپ اس کی تعمیر کی ہوئی مسجد میں جانے کے سوا کبھی اس کے پاس نہیں گئے۔ کیقباد کے بعد جب جلال الدین خلجی کا زمانہ آیا تو اس نے بھی آپ کے قرب کی خواہش کی لیکن آپ نے منظور نہ کیا۔ اس کے بعد علاو?الدین خلجی آیا۔ تو اس نے بھی آپ کو نہایت قدرو منزلت کی نگاہوں سے دیکھا۔ وہ آپ کے اشعار کو کئی مرتبہ پڑھاتا اور زارو قطار روتا جاتا۔ علاو?الدین کو بھی آپ کے قرب کی حسرت ہی رہی۔ مگر اس نے اس آرزو کی خواہش میں اپنے ولی عہد خضر خاں اور چھوٹے بیٹے شادی خاں کو آپ کی مریدی میں دے دیا۔

علاو?الدین کے مرنے کے بعد سلطنت کے احوال میں کچھ ایسی پچیدگیاں پیدا ہو گئیں۔ کہ خضر خاں تاجدار ہند نہ بن سکا۔ علاو?الدین خاں کے تیسرے بیٹے قطب الدین خاں نے سلطنت اپنے زیر نگین کر لی اور اپنے بڑے بھائی خضر خاں کو پہلے اندھا کر دیا پھراپنے دوسرے بھائی شادی خاں سمیت اسے قتل کروا دیا۔ قطب الدین ایک نا تجربہ کار اور نو عمر بادشاہ تھا اسے دیوانگی ہو گئی کہ وہ کسی طرح لوگوں کے دلوں سے آپ کی عظمت مٹا دے۔ چنانچہ اس نے بزور شمشیر اس ناپاک ارادے میں کامیاب ہونے کی کوشش کی۔ اس نے آپکو اپنے دربار میں بلانے کے لیے حکم دیا کہ تمام علماءو فضلاءکی طرح سلام کی غرض سے آپ بھی میرے حضور میں پیش ہوا کریں۔ آپ نے اسے کہلا بھیجا کہ بادشاہوں سے ملنے کا ہم فقیروں کا دستور نہیں۔ قطب الدین اس جواب پر بڑا سیخ پا ہوا اور کہا کہ اگر وہ نہ آئیں گے تو میں زبردستی بلاو?ں گا بہتر یہ ہے کہ وہ اس مہینے کے فلاں دن مجھ سے ملاقات کریں۔ آپ کو اطلاع ہوئی تو فرمایا میں اپنی ذاتی رائے بدل سکتا ہوں۔ لیکن بزرگوں کے طریقے کو نہیں بدل سکتا۔

قدرت خدا کہ جب وہ مقررہ دن آیا تو یکایک شورو غل ہوا کہ سلطان قطب الدین مارا گیا۔ قطب الدین اپنے ایک حسین و جمیل نو خیز غلام خسرو پر ہزار جان سے فدا تھا۔ اس نے اپنی حکومت قائم کرنے کی آرزہو میں موقع پا کر قتل کر دیا اور ہزار ستوں کی چت پر اس کا سر کاٹ کر نہا یت ذلت و حقارت سے نیچے پھینک دیا۔ خسرو خاں ایک نو مسلم رعایا کا ہندو بچہ تھا۔ اس کی آرزو پوری نہ ہو سکی۔ کہ وہ بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ خلجیوں کے بعد تغلقوں کا دور آیا۔ غیاث الدین تغلق خسرو کو ٹھکانے لگانے کے بعد امور سلطنت کی طرف متوجہ ہوا۔ اراکین حکومت نے اسے ایک مذہبی مجلس قائم کرنے کی طرف توجہ دلائی جس میں دین کے مسائل پر آپس میں تبادلہ خیالات ہو ا کرے۔ چنانچہ یہ مجلس قائم ہوئی اور اس میں سب سے پہلے سماع کا مسئلہ پیش ہوا اور جناب نظام الدین کو دعوت دی گئی۔ آپ اس مجلس میں تشریف لے گئے اور اس مسئلہ پر ایک ایسی مدلل اور پر مغز تقریر فرمائی۔ کہ شرارت کرنے والوں کے تمام ارادوں پر پانی پھر گیا۔ با دشاہ بے حد خفیف ہوا اور شرمندہ ہو کر بنگالہ کی مہم پر چلا گیا۔ ایک مدت کے بعد جب وہ مہم سے فراغت پا کر دہلی کی طرف روانہ ہوا تو اس نے آپ کو یہ کہلا بھیجا کہ میرے دہلی پہنچنے سے پہلے پہلے شہر چھوڑ کر چلے جائیں۔ آپ نے فرمایا ?ہنوز دلی دور است? کہتے ہیں اس نے آپ کو کئی دفعہ پیغام بھیجا اور آپ نے ہر مرتبہ یہی جواب اوشاد فرمایا۔ غیاث الدین تغلق کے ولی عہد نے باپ کے استیصال کے لیے بڑی بڑی دھوم دھام سے تیاریاں کیں۔ شہر کی آبادی سے دو میل کے فاصلے پر ایک چوبی محل تیار کیا۔ جب تغلق وہاں پہنچا اور اسی محل میں اس کی شاندار دعوت کی۔ تو عین اس وقت کہ جب تمام لوگ کھانا کھا چکے اور باہر آ گئے اور یہ اپنے چند مقربین کے ساتھ ابھی محل ہی کے اندر تھا۔ قدرت خدا کہ یکایک محل کی چھت گر گئی اور سلطان مع اپنے مقربین کے اس میں دب کے مر گیا۔
ت
تغلقوں کے بعد جب مغلوں کا زمانہ آیا انہوں نے آپ کی توقیر و عظمت تمام بادشاہان ہند سے زیادہ کی ان کی اکثر یہ خواہش رہی کہ آپ ان کے ہدیے اور نذرانے قبو ل فرمائیں۔ اکثر وں نے آپ کے متعلقین اور عزیزوں، رشتہ داروں کو بیچ میں ڈالا اور سفارشیں کروائیں اور کہا کہ اگر آپ اپنے لیے کچھ نہیں لیتے تو لنگر خانہ کے لیے ہی کچھ قبو ل کر لیں ۔ آپ نے مکدّر طبیعت سے کہا ہم فقیروں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم جاگیر دار بنیں۔ ضرورتوں کا تو پورا کرنے والا صرف وہی کار ساز ہے اور میں نے اس پر توکل کیا ہے۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ آپ کی اولاد نے بھی آپ کے بعد اسی نظریے پر عمل کیا۔ مغلوں نے کئی مربہ بڑی بڑی جاگیریں اور دیہات دینے چاہے لیکن انہوں نے کبھی قبول نہ کئے۔ 825ہجری میں آپ کو مرض الموت لاحق ہوا۔ آپ نے حکم دیا کہ گھر میں جو کچھ ہے وہ سب غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اس کے بعد لنگر خانے کے مہتمم کو بلا کر فرمایا کہ باورچی خانے میں اس وقت جتنا بھی اناج اور غلہ محفوظ ہے وہ اسی وقت کھڑے کھڑے سب کا سب تقسیم کر دو یہاں تک کہ ایک دانہ باقی نہ رہے۔ وصال کے دنوں آپ کو بار بار غش پڑتا جب ہوش میں آتے تو یہی سوال کرتے ۔ نماز کا وقت ہوا ۔ کوئی مسافر آیا ہے۔ تو اس کی خاطر مدارت اور تواضع کرو۔ نماز کا وقت آیاہے تو مجھے بٹھاو? اور نماز پڑھاو?۔ اللہ اللہ یہ شان تھی بزرگان دین کی شرعی محا فظ ہونے کی اور یہی وہ ان بزرگوں کی کرامت ہے۔ کہ جس کے سبب آج تک ان کا نام زندہ ہے اور لوگوں کے دلوں میں ان کی عظمت قائم ہے۔ اور یہ ان بزرگوں کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج چمن اسلام سر سبز و شاداب ہے۔

تذکرہ نویسوں نے لکھا ہے کہ آپ کے دستر خوان پر کئی کئی ہزار لوگ کھانا کھاتے تھے۔ مگر لوگ حیران تھے کہ اتنا روپیہ آپ کے پاس کہاں سے آتا ہے اور جب وہ یہ دیکھتے کہ نذرو نیاز کی رقمیں بھی آپ اپنے پاس نہیں رکھتے۔ بلکہ اسی وقت فقیروں میں بانٹ دیتے ہیں تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہتی۔ ایک مرتبہ علاو?الدین خلجی نے آپ کی خدمت میں پانچ سو اشرفیاں پیش کیں ۔ اس وقت ایک فقیر آپ کے پاس بیٹھا تھا۔ اس نے کہا بابا اس میں سے نصف میرا ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ سب تمہارا ہے اور یہ کہہ کر تمام اشرفیاں اسے دے دیں۔ مستحقین میں دولت کو تقسیم کرنا تو خیر آپ جانتے ہی تھے۔ کہ یہ انہی کا حصہ ہے مگر ایک بات ایسی بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ جس سے آپ کے اخلاق حمیدہ اور عالی ظرف ہونے کا یہ ایک اندازہ ہوتا ہے کہتے ہیں کہ ایک شخص آپ کو گالیاں دیتا تھا اور آپ اسے دو اشرفیاں دیتے ایک دن لوگوں نے اسے غیرت دلائی۔ تو اس نے آپ کو گالیاں دینا ترک کر دیا اور وعدہ کیا کہ میں اب آپ کی شان کی گستاخی نہیں کرونگا۔ چنانچہ جب اس روز وہ آپ کی خدمت میںگیا تو جپ رہا۔ مگر جب چلنے لگا تو اپنا وظیفہ مانگا۔ آپنے فرمایا بھائی میرا حق بھی دے دو ۔ کہتے ہیں ایک مدت کے بعد جب اس کا انتقال ہوا اور آپ کو اطلاع ہوئی تو آپ اس کی قبر پر گئے۔ اور یہ دیا کی۔ اے پروردگار اس شخص کو بخش دے میں نے اس کی غلطیوں کو بخش دیا۔

آپ نے 825ہجری میں انتقال فرمایا ۔ آپ سے حسن عقیدت و ارادت مندی رکھنے والے مسلمان نظامی کہلاتے ہیں اور وہ آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔

تصانیف:آپ کے وہ ملفوظات جن کی حیثیت آپ کی تصنیفات کی ہے ۔یہ ہیں:۔
١۔فوائد الفوائد ٢۔افضل الفوائد ٣۔راحت المحبین

Thursday, October 1, 2009