Tuesday, October 20, 2009

مجدد الف ثانی ابو بکر شبلیByMuhammadAmirSultanChishti923016778069


الف ثانی
-1
شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانینام
971ہجر&تاریخ پیداءش

ا حمد سر ہندی کو ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد دوسرے ہزار سالہ دور کا رہبرکہا جاتا ہے

971ہجری میں سرہند میں پیدا ہوئے۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں یہ مقام ایک جنگل تھا۔ جس میں شیر رہا کرتے تھے۔ جب یہاں شہر آباد کیا گیا تو اسی مناسبت سے اس کا نام ?شیر ہند?تجویز ہوا۔ جو آگے چل کر ?شیر ہند ? سے بگڑتے بگڑتے ?سر ہند ? بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی سرہند میں جناب عمر فاروق کی ایک اولاد کو لا کر یہاں آباد کر دیا۔ جن سے بزرگ محترم جناب شیخ عبدالاحد فاروقی سلسلہ چشت کے ایک عالم باعمل بزرگ ، یہی بزرگ جناب شیخ احمدسرہندی مجدد الف ثانی کے والد گرامی قدر تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے پائی۔ ان کے علاوہ آپ نے دیگر علمائے اسلام کے سامنے بھی زانوئے تلمذ تہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپکو کچھ ایسا ذہن عطا فرمایا تھا کہ جملہ اسلامی علوم بہ تمام و کمال سترہ برس کی عمر تک حاصل کر لیے بلکہ ان میں کمال متحبر پیدا کر لیا۔ اولاآپ نے قرآن حکیم حفظ کیا پھر فقہ ، حدیث و تفسیر و دیگر اسلامی علوم حاصل کئے غرض نہایت ہی قلیل مدت میں آپ ایک متحبر عالم دین ہو گئے۔ علوم ظاہری و باطنی میں تکمیل پانے کے بعد آپ کے والد محترم مولانا شیخ عبدالاحد فاروقی نے آپ کو خرقہ خلافت عطا فرمایا اور اس امانت کے سونپنے کے بعد مولانا عالم جاودانی کو رحلت فرما گئے۔ والد کے انتقال کے بعد آپ حج کے ارادے سے دہلی تشریف لے گئے۔ وہاں جا کر ایک بزرگ کے ہاں قیام فرمایا۔ انہوں نے ایک عارف کامل جناب خواجہ باقی باللہ نقشبندی کا آپ سے ذکر کیا۔ آپ کو ان کے فضائل سن کر ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ چنانچہ آپ ان کے ہمراہ جناب خواجہ باقی باللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مختصر یہ کہ دونوں ٰٰایک دوسرے سے مل کر بہت مسرور ہوئے۔ اور دونوں ان بزرگ سے آپس میں ایک دوسرے کی ملاقات کرانے کے شکر گزار تھے۔ خواجہ باللہ کا طرز عمل آپ سے نہایت مخلصانہ و مشفقانہ رہا ۔ انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا کہ یہ جناب شیخ احمد کے مرید ہیں۔ حالانکہ جناب شیخ احمد سر ہندی جناب خواجہ باقی باللہ کے مرید تھے۔ خواجہ باقی باللہ آپ کا بڑا احترام کرتے اور آپ سے دلی محبت رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے آپ سے فرمایا ۔ ہم نے یہاں سرہند میں ایک بہت بڑا چراغ روشن کیا۔ اس کی روشنی یک لخت بڑھنے لگی۔ پھر ہمارے جلائے ہوئے چراغ سے بیسیوں چراغ روشن ہو گئے اور وہ چراغ تم ہو۔

دسویں صدی ہجری ، اکبر کے زمانے میں اسلام ایک ایسے دور سے دو چار تھا جس میں کفر و زندقہ نقطہ عروج پر تھا۔ ایک طرف علمائے اسلام کے آپس میں خر خشے، ایک دوسرے پر حملے ، شدید باہمی رقابتیں ، دوسری طرف ہندوستان کی زمام اقتدار اکبر جیسے بے علم و بے دین بادشاہ کے ہاتھ میں تھی۔ جسے ملک پر حکومت کرنے کے ساتھ ساتھ ایک نئے مذہب کا بانی بن کر لوگوں کے دل و دماغ پر قبضہ کرنے کی خواہش تھی۔ اکبر نے اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ایک ایسی چال چلی جسے آج ہمارے زمانے کی زبان میں ڈپلومیسی کہتے ہیں۔ وہ ہر مذہب و ملت کے شخص کی دل جوئی کرتا اور اس کے مذہب کو بر حق سمجھتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ نہایت چالاکی سے اسے یہ باور کرانے کی کوشش کرتا کہ اب زمانے کے بدلتے ہوئے رجحانات و خیالات اور تقاضوں کے پیش نظر یہ مذہب ختم ہو گیا اب اس کی ضرورت نہیں۔ اکبر چاہتا تھا کہ ہندوستان کے تمام مذاہب کو مٹا کر ایک نیا مذہب قائم کیا جائے جس میں تمام مذاہب کے لوگ اپنا اپنا دین و مذہب ترک کر کے شامل ہوں اور اس کی سلطنت کے استحکام کا باعث بنیں۔ چنانچہ ملا ّمبارک جو اپنے زمانے کا ایک متحبر عالم تھا۔ دین کو چھوڑ کر دنیا کی طلب میں اکبر کے فاسد خیالات کا سر گرم کارکن بن گیا۔ اکبر ایسے بے علم بادشاہ نے ملاّ مبارک جیسے عا لم و فاضل انسان کی تائید پا کر ?دین الٰہی? کے نام سے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھ دی۔ اور اس میں داخل ہونے والوں کے لیے ایک عہد نامہ ترتیب دیا ۔ جس کے الفاظ یہ تھے۔
?میں فلاں ابن فلاں اپنی ذاتی خواہش و رغبت اور دلی ذو ق شوق سے دین اسلام مجازی و تقلیدی کو ترک کر کے اکبر کے ?دین الٰہی ? میں داخل ہوتا ہوں اور اس دین کے اخلاص کے چاروں مرتبے قبول کرتا ہوں۔ یعنی ترک مال، ترک جان، ترک عزت و ناموس اور ترک دین کا اقرار کرتا ہوں۔ ?
اکبر کے دین الٰہی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سورج کی پرستش چار وقت لازمی قرار دی گئی۔ آگ، پانی ، درخت اور گائے وغیرہ کا پوجنا جائز ہو گیا۔ ماتھے پر قشقہ لگانا۔ گلے میں زنار پہننا ، مذہب حقہ کی علامت بن گیا۔ ان کے علاوہ داڑھی منڈوانا، غسل جنابت نہ کرنا، ختنہ کی رسم کو بیکار و باعثِ آزار سمجھ کر ترک کرنا۔ دین الٰہی کے ماننے والوں کی شناخت قرار پائی۔ غرض تمام شعائر اسلامی کو یہ کہہ کر ترک کر دیا کہ دین اسلام ایک ہزار برس گزر جانے کے بعد بالکل اسی طرح بیکار و بے مصرف ہو گیا۔ جس طرح اسلام سے پہلے کے مذاہب اپنے ہزار سال گزارنے کے بعد عضو معطل کی طرح ختم ہو گئے۔ اصل میں اکبر شروع شروع میں ایک مسلمان آدمی تھا۔ لیکن بعد میں جوں جوں ہندوو?ں سے اس کا میل جول بڑھتا گیا۔ حتٰی کہ ان کے ہاں رشتے ناطے ہونے لگے توں توں ان کے اختلاط کے اثر سے وہ ہندو مذہب کے قریب سے قریب تر ہوتا چلا گیا۔ وہ اسلامی روایات جو اس کے بزرگوں نے قائم کی تھیں ۔ ہندوو?ں سے گہرے اختلاط کے سبب ایک ایک کر کے مٹنے لگیں۔ ایسے حالات میں ضرورت تھی کہ ایک عارف کامل اور مرد مجاہد کی جو اسلام کی مدافعت میں سینہ سپر ہو کر باطل کی قوتوں کے سامنے کھڑا ہو جائے اور اپنے سینہ میں وہ عزم و جوش اور ولولہ پیدا کر کے میدان عمل میں آگے بڑھے کہ اس کی ہیبت و صولت سے قدم قدم پر کامرانی اس کی قدم بوسی کرے۔ اکبر کے عہد حکومت میں ہندو بڑی بڑی کلیدی آسامیوں پر فائز تھے۔ ہر جگہ ان کا اقتدار قائم تھا وہ بے خوف و خطر مسلمانوں کی دلآزاری کرتے۔ مسجدیں شہید کر کے وہاں مندر بناتے کعبہ کی طرف پیٹھ کر کے حوائج ضروریہ سے فراغت پاتے۔ ہندوو?ں کے برت کا دن آتا ہے تو اکبر کی طرف سے تمام سخت حکم نافذ کئے جاتے کہ آج کے دن کوئی مسلمان روٹی نہ پکائے اور نہ کچھ کھائے پیئے۔ اس کے برعکس جب رمضان کا مہینہ آتا ۔ ہندو اعلانیہ کھاتے پیتے اور کھلے بندوں رمضان کے مہینے کی بے حرمتی کرتے۔ شہر کے بازاروں اور گلی کوچوں میں پھرا کرتے تھے۔

ان دنوں اکبر کا دارالحکومت بجائے دہلی کے آگرہ ہوتا تھا اور اس زمانے میں آگرہ کا نام اکبر آباد تھا۔ جناب شیخ احمد مجدد الف ثانی سرہند سے آگرے کو روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر آپ نے بڑی دلیری و بے باکی سے اکبر کے درباریوں سے فرمایا۔
?اے لوگو ?؛تمہارا بادشاہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے پھر گیا ہے اور اللہ کے دین سے باغی ہو گیا ہے۔ جاو? اسے میری طرف سے جا کر کہہ دو کہ دنیا کی یہ دولت و حشمت اور تخت و تاج سب فانی ہیں وہ توبہ کر کے خدا اور اس کے رسول کے دین میں داخل ہو جائے اور ان کی اطاعت کرے ورنہ اللہ کے غضب کا انتظار کرے۔ ?
درباریوں نے آپ کا پیغام لیا اور اکبر کو پہنچا دیا۔ لیکن اکبر نے سنی ان سنی کر دی اور مطلق پرواہ نہ کی۔ بلکہ الٹا آپ کو مباحثہ کا چیلنج کر دیا۔ جسے آپ نے فوراً قبو ل کر لیا۔ دنیا کو دین پر ترجیح دینے والے علماءاکبر کی طرف تھے۔ دنیا کو دین پر قربان کرنے والے چند بوریہ نشین اصحاب آپ کے ساتھ۔ مباحثہ کا انتظام ہو چکا تھا مگر کارکنانِ قضا و قدر کو منظور نہیں تھا کہ اکبر ایسے بے علم و بے دین بادشاہ کے دربار میں جناب محمد رسول اللہ کے دین پر مر مٹنے والوں کی رسوائی ہو۔ ابھی مباحثہ کا آغاز ہونے بھی نہ پایا تھا کہ ہوا کا ایک سخت طوفان آیا اور تمام دربار اکبری تہ و بالا ہو گیا۔ خیموں کی چوبیں اتنے زور سے اکھڑیں کہ ہزار کو ششوں کے باوجود پھر انہیں سنبھالانہ جا سکا۔ قدرت خدا کہ اکبر اور اس کے تمام ساتھی تو زخمی ہو گئے۔ لیکن جناب شیخ اور ان کے درویشوں میں سے کسی کو ایک خراش تک نہ پہنچی۔ مورخین کہتے ہیں کہ انہی زخموں کی وجہ سے جو مباحثہ کے دن خیموں کی چوبوں سے اکبر کو آئے اکبر کی موت واقع ہوئی۔ نیز لکھا ہے کہ مرنے سے پہلے وہ اپنے عقائد سے تائب ہوا اور بستر مرگ پر نئے سرے سے اسلام قبول کر کے دنیا سے گیا۔

اکبر کے مرنے کے بعد اب آپ کا دوسرا محاذ ان دنیا پرستوں کے خلاف قائم ہوا۔ جن کی خوشامد، چاپلوسی اور بے جا تعریف سے اکبر عقلِ سلیم سے محروم ہو کر دین الہٰی کے قائم کرنے کا مدعی ہوا۔ ان لوگوں میں علماءفضلاءبھی شامل ہیں اور وہ لوگ بھی شریک تھے جن کے اغراض محض سیاسی تھے۔ اب ہندوستان کے تخت پر تو شہنشاہ نورالدین جہانگیر تھا اور حکم اس کی ملکہ نورجہاں کا چلتا تھا۔ جہانگیر خود کہا کرتا تھا۔ ?ہم نے ایک سیر شراب اور آدھ سیر گوشت کے عوض سلطنت نورجہاں کو دے دی۔?
اللہ کے جن بندوں کو آداب محمدی آتے ہیں وہ آداب شاہی کی کبھی پرواہ نہیں کرتے۔ ایک طرف ہندوستان کا طاقتور بادشاہ اکبر، دوسری طرف اکبر کی حکومت سے ٹکر لینے والا اللہ کا وہ نیک بندہ جو بظاہر ایک بوریہ نشین سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ معرکہ لوگوں کی نگاہ میں بڑی اہمیت حاصل کر گیا۔ حکومت کے بڑے بڑے اراکین سے معمولی سے معمولی آدمی تک سب کے دلوں میں آپ کی حق گوئی و بے باکی نے آپ کی شخصی عظمت ، عملی فضیلت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کی روحانی قوت کا رعب و جلال بٹھا دیا۔ ایک خلق خدا آپکے حلقہ ارادت مندی میں داخل ہو گئی۔ دنیا پرست لوگوں کا وہ گروہ جس نے دین کے عا لموں کا لبادہ پہن کر بادشاہ کی مصاحبت و رفاقت اختیار کی۔ آپ کی دن پر دن بڑھتی ہوئی مقبولیت کو اپنے لیے سخت مہلک محسوس کیا۔ چنانچہ وہ آپ سے حسد کرنے اور آپ کے اثرو نفوذ کو کم کرنے کے لیے آپ کے متعلق طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلانے لگے۔ حتیٰ کہ آپ کے مکتوبات کی تحریف کر کے انہیں لوگوں میں پھیلانا شروع کیا۔ان بد باطن لوگوں کی کاروائیوں نے یہاں تک اثر کیا کہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی ایسے بزرگ ان کی باتوں میں آ گئے ۔ اور انہوں نے آپ کے خلاف کتابیں لکھیں اور آپ کے قتل کا فتویٰ دے دیا۔ جس کا انہیں بعد میں عمر بھر قلق رہا۔

حاسدوں نے آپ کے خلاف جہانگیر کے کان بھرنے کے لیے نورجہاں کو آلہ کار بنایا۔ نورجہاں چونکہ اپنے بھائی آصف جاہ کو ولی عہد سلطنت بنائے جانے کے خواب دیکھ رہی تھی اور یہ لوگ اس کی تائید میں تھے۔ اس لیے اس آرزو کی تکمیل کے لیے اس سے جہاں تک بن پڑا۔ اس نے جہانگیر کو آپکے خلاف خوب اکسایا۔ آخر چند غلط فہمیوں میں مبتلا ہو کر جہانگیر نے آپ کو دربار میں طلب کر لیا۔ آپ تشریف لے گئے ۔ وہاں چند سوال و جواب ہوئے۔ آپ کے طرز کلام میں چونکہ کوئی ایسی بات پیدا نہ ہوئی جو قابل مواخذہ ہوتی۔ لہٰذا سلامتی کے ساتھ واپس آ گئے۔ بد باطن لوگوں نے دیکھا کہ ان کا پہلا وار ناکام گیا۔ اب انہوں نے دوسرا حربہ یہ اختیار کیا کہ جہانگیر کی نظروں سے وہ کتابیں گزاریں جو غلط فہمیوں میںپڑ کر شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے آپ کے خلاف لکھی تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے آپ کی طرف اشارہ کر کے جہانگیر سے کہا کہ یہ شخص آپ کی حکومت کے لیے سخت خطرناک ہے۔ سجدئہ تعظیم جو اکبر بادشاہ کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ یہ اس کے خلاف اپنا فتویٰ دے چکا ہے۔ اس کے پاس اس وقت کم و بیش دو ہزار سوار ہیں۔ جو کسی وقت بھی آپ کے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں۔ حاسدوں نے سوچا کہ یہ ہماری چال دوہرا اثر دکھائے گی۔ کہ اگر آپ نے بادشاہ کو سجدہ نہ کیا تو بادشاہ کے عتاب میں آجائیں گے اور اگر کر دیا تو اپنے مریدین سے جائیں گے۔ ان کے دلوں میں آپ کی فضیلت و عظمت مطلق باقی نہ رہے گی۔ جہانگیر کو مذہب کے معاملے میں حکومت زیادہ پیاری تھی۔ وہ یہ باتیں سن کر تلملا اٹھا ۔ اس نے فوراً آپ کو ربار میں حاضر کیے جانے کا حکم دیا۔ آپ دربار میں تشریف لے گئے۔ لیکن سجدہ شاہی جس کا وہ طالب تھا۔ قطعاًادا نہ کیا۔ اس پر جہانگیر غضب ناک ہوا۔ آپ نے جہانگیر سے بڑی دلیری کے ساتھ پوچھا۔ مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ اپنے لیے سجدہ تعظیم ؟ اللہ کا بندہ کبھی غیر کا بندہ نہیں ہو سکتا۔ جو حاکموں کے حاکم کی بارگاہ میں سر جھکائے وہ کبھی کسی چھوٹے اور مٹ جانے والے حاکم کے سامنے سر نہیں جھکا سکتا۔ بھلا میں اپنے ہی جیسے ایک مجبور و بے بس انسان کو سجدہ کروں۔ ہر گز نہیں ۔ کیونکہ سجدہ خدا کے سوا کسی کو جائز نہیں۔

جہانگیر آپ کے یہ کلمات سن کر آپے سے باہر ہو گیا۔ اس کے غصے کی انتہا نہ رہی۔ اس کے سان گمان میں بھی نہیں تھا۔ کہ کوئی شخص اتنی دلیری، بے باکی اور جرا?ت سے گفتگو کرے گا۔ اس نے فوراً آپ کے قتل کئے جانے کا حکم دے دیا۔ ? اللہ اکبر ? حکم قتل پا کر آپ کے چہرے پر مطلق کسی پر یشانی اور خوف و ہراس کے آثار پیدا نہیں ہوئے۔ نہایت استقلال اور حوصلے کے ساتھ کھڑے رہے۔ مگر اس خدا کی حکمت دیکھئے۔ کہ تھوری ہی دیر میں جہانگیر نے اپنا فیصلہ بدل دیا اور بجائے قتل کے قید کیے جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ قید کر دیے گئے اس کے علاوہ جہانگیر کے حکم سے آپ کا گھر بھی لوٹا گیا۔ یہ وقت اصل میں وہ تھا کہ جس کی پیشن گوئی آپکے قیدہونے سے بہت پہلے اپنے درویشوں مریدوں اور معتقدوں سے کر چکے تھے۔ آپ کے قید کیے جانے کی اطلاع پا کر سب سے پہلے شاہجہاں نے آپ سے رجوع کیا۔ اس نے اپنے خاص الخاص دو معتمد افضل خان اور خواجہ عبدالرحمان کو آپ کی خدمت میں بھیجا اور فقہ کی وہ کتابیں جن میں سجدہ تعظیمی کی اباحت بیان کی گئی تھی۔ ہمراہ بھیجیں اور کہلا بھیجا کہ اگر آپ بادشاہ سے ملاقات کے وقت سجدہ تعظیمی کر لیں تو میں ذمہ لیتا ہوں کہ آپ کو مطلق کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔آپ نے شاہجہاں کے پیغام میں اسے یہ جواب ارشاد فرمایا کہ ہر چند جان بچانے کے لیے یہ بھی جائز ہے۔ لیکن عزیمت اسی میں ہے کہ غیر اللہ کو سجدہ نہ کیا جائے۔ جہانگیر نے حکومت کے بڑے بڑے اراکین کو آپ کے قید کئے جانے سے پہلے ہی مختلف علاقوں کے گورنر بنا کر ادھر ادھر بھیج دیا تھا۔ مصلحت اس کے نزدیک یہ تھی کہ آپ کے اوپر گرفت کرنے میں اسے آسانی رہے۔ لیکن جب ان گورنروں کو آپ کی گرفتاری کا علم ہوا تو سب نے آپس میں ایکا کر کے جہانگیر کے خلاف بغاوت کر دی حتیٰ کہ مہابت خان، مرتضیٰ خان، تربیت خان ، سید صدر جہاں، اسلام خان، خان جہاںلودھی ، حیات خان، دریا خان، غرض یہ کہ آپ کے تمام معتقدین جہانگیر کے مقابلے کو نکل ا ئے۔

مہابت خا ن نے بادشاہان بدخشان و خراسان اور تران سے امداد لے کر جہانگیر پر لشکر کشی کا حکم دے دیا۔ جہانگیر بھی اپنی فوج و سباہ لے کر مقابلے کو نکلا۔ ابھی دونوں لشکر مقابلہ پر آنے ہی کو تھے کہ جہانگیر کے لشکر سے بہت سے آدمی مہابت خان سے جا ملے۔ آخر جہانگیر اور آصف جاہ دونوں کو مہابت خان نے گرفتار کر لیا اور خطبے و سکے سے اس کا نام باہر نکال دیا۔ اس کے بعد مہابت خان نے آپ کی خدمت درخواست کی کہ ہماری خواہش ہے کہ مغل سلطنت کے تخت شاہی پر اب آپ جلوہ افروز ہوں۔ آپ نے اس کے جواب میں مہابت خان کو لکھا۔ مجھے سلطنت پانے اور حکومت کرنے کی ہر گز ہوس نہیں اور میں تمہارے اس فتنہ و فساد کو پسند نہیں کرتا۔ میں نے جو قید و بند کی صعوبتیں اٹھائی ہیں وہ کسی اور مقصد کے لئے ہیں۔ وہ مقصد جب پورا ہو جائے گا تو میں آپ سے آپ قید سے رہائی پا لوں گا۔ یہ فساد میرے مقصد میں حائل ہے بہتر ہے کہ تم بغاوت سے باز آجاو? اور فوراً اپنے بادشاہ کی اطاعت قبول کر لو ۔ میں بھی انشاءاللہ جلد ہی قید سے رہائی پا لوں گا۔ اسی اثنا میں نور جہاں کو بھی گرفتار کیا جا چکا تھا کہ جہانگیر و آصف جاہ کی گرفتاری کی اطلاع پر انہیں چھڑانے آئی تھی قریب تھا کہ مہابت خان کے غیض و غضب سے یہ تینوں اپنے کیے کی سزا پا لیتے کہ آپ کا خط آ گیا۔ مرشد کے حکم کی تعمیل کی ۔ مہابت خان جہانگیر کے پاس آیا اور کہا کہ میں آپ کو مرشد کے حکم سے رہا کرتا ہوں اور اس کے بعد جہانگیر کو تخت شاہی پر بٹھا کر تمام آداب شاہی بجا لایا۔

تذکرہ نویسوں کا بیان ہے کہ آپ کامل ایک برس تک زنداں میں پڑے رہے۔ جہانگیر نے جب دیکھا کہ ان کے مریدوں نے جوش محبت میں آکر بغاوت کی اور قریب تھا کہ سلطنت مغلیہ کا چراغ گل کر دیا جاتا ?۔ ایسے حالات میں بھی آپ نے سلطنت سے کوئی دل چسپی نہیں لی۔ بلکہ انہوں نے اپنے مریدوں کو بغاوت سے روک دیا تو اس کے دل میں بد کردار لوگوں کے پیدا کیے ہوئے آپ کے خلاف شکوک و شبہات جاتے رہے اور اس نے آپ کو نہایت ادب و احترام کے ساتھ رہا کر دیا۔ جو اللہ کے ہو جاتے ہیں اللہ ان کاہوجاتا ہے۔ بھلا ان کی نگاہوں میں دنیا کی کیا قدر و قیمت رہتی ہے۔ جہانگیر نے واقعات کی روشنی میں ایک طرف آپ کی بے نفسی دیکھی تو دوسری طرف نور جہاں اور اس کے بھائی آصف جاہ کی سازشوں کو دیکھ لیا۔ جناب شیخ سرہندی اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے۔ آصف جاہ اور نورجہاںکی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ اس کے بعد جہانگیر کو آپ سے اتنی عقیدت پیدا ہوئی کہ کشمیر سے آتے جاتے دو مرتبہ آپ کے لنگر یا باورچی خانے سے کھانا کھاتا۔ اگرچہ کھانا سادہ ہوتا۔ لیکن وہ تعریف کئے بغیر نہ رہتا۔ کہتا۔ کہ میں نے ایسا لذیذکھانا آج تک نہیں کھایا۔تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ جہانگیر آخیر عمر میں اکثر یہ بات کہا کرتا کہ میں نے کوئی کام ایسا نہیں کیا جس سے نجا ت کی امید ہو۔ البتہ میرے پاس ایک دستاویز یہ ہے۔ کہ مجھ سے ایک روز جناب شیخ احمد سرہندی نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں لے جائے گا تو ہم تیرے بغیر ہر گز نہیں جائیں گے۔ غرض یہ تھے وہ احوال مسلمانوں اور برائے نام مسلمان حکومت کے جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مسلمانوں کے ایمان کی تجدید کرنے کا موقع دیا اور آپ کو الف ثانی کا مجدد بنا دیا۔ جیسا کہ یہ پہلے تحریر کیا جا چکا ہے۔ آپ نقشبندی سلسلے کے بزرگ خواجہ باقی باللہ کے مرید ہوئے۔ اس لئے آپ سے تصوف کا جو سلسلہ آگے چلا اسے مجددیہ نقشبندیہ کہا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ جناب خواجہ بہاو?الدین نقشبندی سے شروع ہوتا ہے۔ تذکرہ نگاروں نے اس کی وجہ تسمیہ یوں بیان کی ہے کہ وہ کپڑے پر نقش و نگار اور گل بوٹے نکالنے کا کام کرتے تھے۔ حق تو یہ ہے کہ نقشبندی سلسلہ بھی حضرت علیہی پر جا کر منتہی ہوتا ہے۔ جو لوگ اسے حضرت صدیق اکبر سے جا ملاتے ہیں وہ صرف اس رعایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں کہ جناب امام جعفر صادق کو اپنے نانا جناب ابو بکر صدیق سے بھی انتساب حاصل ہے۔
شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی کی رائے۔
جناب شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی نے اپنی کتاب ?قول جمیل? میں نقشبندی طریقت کا شجرہ اس طرح بیان کیا ہے۔ شیخ احمد سرہندی نے خواجہ باقی بااللہ سے فیض باطنی حاصل کیا۔ جناب خواجہ نے خواجہ محمد امکنگی سے ۔ جناب امکنگی نے مولانا محمد درویش اور مولانا محمد زاہد سے جناب زاہد درویش نے خواجہ عبیداللہ احرار سے احرار نے مولانا یعقوب چرخی اور خواجہ علاو?الدین غجد وانی سے غجدوانی و چرخی نے خواجہ علاو?الدین عطار اور خواجہ محمد پارسا سے۔ پارسا و عطار نے خواجہ بہاو?الدین بانی سلسلہ نقشبندیہ سے۔ خواجہ نقشبند نے بہت سے بزرگوں کی صحبت پائی جن میں سب سے زیادہ مشور خواجہ محمد سماسی اور ان کے خلیفہ امیر سید کلال ہیں۔ خواجہ سماسی نے خواجہ علی رامتینی سے انہوں نے خواجہ محمود ابو الخیرفغنوی سے فغنوی نے عارف کریوی سے۔ کریوی نے خواجہ عبدالخالق غجدوانی سے غجدوانی نے خواجہ یوسف ہمدانی سے۔ ہمدانی نے جناب علی نارمدی سے ۔ نارمدی کے بہت سے مشائخ تھے۔ جن میں سے امام ابوالقاسم قشیری اور خواجہ ابو القاسم گرمانی خاص کر مشہور ہیں۔ گرمانی و قشیری نے جناب ابو بکر شبلی سے شبلی نے سیدالطائفہ جناب جنید بغدادی سے ۔ بغدادی نے اپنے ماموں شیخ سری سقطی سے سقطی نے معروف کرخی سے ۔ کرخی نے بہت مشائخ کے علاوہ امام علی بن موسیٰ رضا سے ۔ موسیٰ رضا نے اپنے والد امام موسٰی کاظم سے۔ جناب کاظم نے اپنے والد امام جعفر صادق سے ۔ جناب صادق نے اپنے والد امام باقر سے ۔ جناب باقر نے اپنے والد امام زین العابدین سے۔ جناب زین العابدین نے اپنے والد جناب امام حسین سے اور انہوں نے جناب علی بن ابی طالب سے ۔ علی بن ابی طالب نے جناب محمد رسول اللہ سے فیوضات باطنی حاصل کیے۔

شاہ ولی اللہ لکھتے کہ جناب معروف کرخی کے دوسرے مشہور شیخ ۔ شیخ داو?د طائی ہیں۔ جو فضیل، حبیب عجمی اور ذوالنون مصری کے فیضیافتہ تھے اور ان تینوں بزرگوں نے تابعین اور تبع تابعین سے بہت سے شیوخ کی صحبت و برکت سے فیض حاصل کیا۔ جناب خواجہ کو جناب علی ابن ابی طالب کے شاگرد و مرید ہونے کی سعادت میسر آئی۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں امام جعفر صادق کو اپنے نانا جناب قاسم بن ابو بکر صدیق سے بھی انتساب حاصل ہے۔ جناب قاسم نے سلمان فارسی سے فیض پایا۔ جناب فارسی نے ابوبکر صدیق سے اور ابو بکر صدیق نے جناب محمد رسول للہ سے فیض پایا۔
افکار و نظریات:۔
ابتدا میںجناب مجدد نظریہ وحدت الوجود کے قائل تھے۔ چنانچہ جب اسی عقیدے کی روشنی میں آپ نے ایک رباعی لکھ کر جناب خواجہ باقی باللہ کی خدمت میں پیش کی تو جناب خواجہ نے اپنے بلند اقبال اور طالع مند مرید مجدد الف ثانی کو فوراً ایک خط لکھا اور سختی سے تنبیہہ کی کہ وہ ملحدانہ رباعی جو آپ نے لکھی تھی ۔ آپ نے اس میں بہت ہی نا سمجھی اور کم عقلی کی ہے۔ ایسی لغو رباعی لکھنے والا مقبول نہیں ہو سکتا اس لیے ادب کو نگاہ میں رکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ بڑ ا غنی اور غیر ت مند ہے۔ مرید با سعادت نے مرشد کامل کے فرمان کو چشم بصیرت سے دیکھا اور گوش ہوش سے سنا اور مراد کو پہنچ گئے۔ چنانچہ اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ ابتداً مجھے سلوک کی تین منزلوں سے گزرنا پڑا۔ ?اولاًوجودیت? دوم ?قلیت?سوم? عبدیت? یعنی پہلے مرحلے میں جناب مجدد الف ثانی وحدت الوجو د کے قائل تھے اور کائنات میں عیفیت کا اعتراف کرتے تھے۔ دوسرے مرحلے پر پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ کائنات کا سجود تو ہے۔ لیکن وہ حقیقت مطلقہ کاظل ہے۔ یہاں دوئی کا تصور پیدا ہوا اور ان کی نگاہ میں وحدت الوجود کے مسئلے کی صداقت کھٹکنے لگی۔ پھر جب آپ عبدیت کے مقام پر پہنچے تو خداداد کائنات میں دوئی بدرجہ اتم ثابت ہو گئی اور انہوں نے مسئلہ وحدت الوجود کو باطل ثابت کر دیا۔

وحدت الوجود:۔ خدا کے سوا عالم میں کوئی اور شے ہے ہی نہیں یا جو کچھ ہے وہ ہے ہم سب۔۔۔۔۔۔ہم سب کچھ نہیں اس عقیدے یا نظریے کا نام وحدت الوجود یا ہمہ اوست ہے۔ اس عقیدے کی رو سے صوفیوں کے نزدیک یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کے سلسلہ کائنات سے ایک الگ اور جداگانہ ذات ہونے کا خیال صحیح نہیں۔ جیسا کہ اہل ظاہر کی رائے ہے اگرچہ یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ سلسلہ کائنات سے الگ نہیں تمام صوفیائے کرام کے نزدیک تسلیم شدہ امر ہے۔ لیکن اس عقیدے کی تعبیر میں ان کے یہا ں بھی اختلاف ہے مولانا روم کہتے ہیں کہ لوہا جب آگ میں گرم کیا جاتا ہے تو وہ گرمی? آتش پکڑ کر ہمرنگ آگ بن جاتا ہے اگرچہ وہ آگ نہیں بن جاتا۔ تا ہم اس میں آگ کی تمام خاصیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ حتی ٰ کہ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ آگ ہو گیا ۔ وجود صوفیاءکہتے ہیں کہ حدیث نبوی میں ہے۔ کہ ?خلق الآدم علیٰ صورتہ? ????یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے ۔ چنانچہ اسی مناسبت سے انسان میں جو مختلف صفات پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب صفات ربانی ہیں یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ مظہر خدا وندی ہیں۔

صوفیائے کرام کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے نام ہیں۔ مثلاً رحیم ۔ ستار ۔ غفار۔ قھار ۔ جبار ۔ رزاق یعنی مسمی واحد اور اسماءسے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہر اسم سے ایک ہی ذات مراد لی جاتی ہے۔ گویا اس اعتبار سے واحد مسمی کے متعدد اسماءاس کے عین ہیں اور یہ تمام اسماءاس کی صفات پر دلالت کرتے ہیں۔ پھر یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ صفات سے ممکنات کا ظہور ہوا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کائنات کی ہر شے کسی نہ کسی اسم کی مظہر ہے۔ اس لئے ثابت یہ ہوا ہے کہ موجودات کی ہر چیز عین ذات ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام موجودات کا ظلّ اور ان کی اصل ہے۔ کائنات اس کا ظلّ اور ظلّ حقیقت میں اصل کا مظہر ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا جب زمین پر سایہ پڑتا ہے تو بظاہر وہ ایک الگ شے معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں جو کچھ ہے انسان ہی ہے۔ اسی طرح کائنات کا وجود غیر حقیقی اور صرف خیال ہے۔ وجو د صرف خدا کا ہے۔ کائنات و کثرت صرف وحدت کے اعیان و مظاہر کی حیثیت سے دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ اس کے اپنا کوئی وجو دنہیں۔ اس لئے وجودہے وہ وحدت ہی کا ہے۔ وحدت کے اس عقیدے کی بدولت بعض اذہان اس خیال کی طرف جاتے ہیں کہ فرعون جو خدا ہونے کا مدعی ہوا۔ اس نے کیا غلط کیا اور انا الحق کی جو آواز منصور کے منہ سے نکلی اس میں کیا برائی تھی ۔ جب وحدت الوجود کے نظرئیے کی رو سے ہر شے خدا ہے تو ناحق ان لوگوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ در حقیقت یہ مسئلہ اس قدر نازک ہے کہ اگر اس کی تعبیر میں ذرا سی بھی لغزش ہو جائے تو اس کی حدیں کفرو الحاد اور زند یقیت سے جا ملتی ہیں۔

وحدت الشہود:۔گیارہوی صدی ہجری میںجناب مجدد الف ثانی نے شیخ اکبر کے وحدت الوجود کے عقیدے کی تردید کی۔ شیخ اکبر ابن عربی کا استدلال یہ تھا کہ ذات صفات کی عین ہے۔ کائنات ، صفات کی تجلی ہے اور چونکہ صفات ۔عین ذات ہیں اس لیے کائنات بھی عین ذات ہے۔ جناب مجدد نے فرمایا۔ صفات عین ذات نہیں بلکہ زائد علی الذات ہیں۔ ا للہ تعالیٰ کا وجود اپنی ذات میں کامل ہے۔ اسے اپنی تکمیل کے لیے صفات کی احتیاج نہیں۔ صفات اس کے وجود کے تعنیات ہیں۔ وہ موجود ہے لیکن اس کا وجود خود اس کی ذات سے ہے۔ وہ سمیع ہے اپنی ذات سے وہ علیم ہے اپنی ذات سے۔ وہ بصیر ہے۔ اپنی ذات سے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی صفات ۔ عین ذات نہیں بلکہ اس کی ذات کے اظلال ہیں۔ پس مجدد صاحب کے اس نظریئے سے یہ معلوم ہوا کہ کائنات اس کی صفات کی تجلی کا نام نہیں بلکہ اس کی صفات کا ظلّ یعنی پر تو یا سایہ ہے اور ظلّ کبھی عین اصل نہیں ہوتا اور مظہر کبھی عین ظاہر نہیں ہوتا۔ یہ ہے مجدد صاحب کا وہ نظریہ جسے عقیدہ وحدت الشہود کہتے ہیں۔ بقول مولانا شبلی کے وحدت الوجود اور وحدت الشہو د کے نظریے میں فرق یہ ہے کہ وحدت الوجود کے عقیدے کے لحاظ سے ہم ہر شے کو خدا کہہ سکتے ہیں ۔ جس طرح حباب اور موج کو بھی پانی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن وحدت الشہود میں یہ اطلاق جائز نہیں۔ کیو نکہ جس طرح انسان کے سائے کو انسان کہنا محال ہے۔ اسی طرح اظلال صفات کو خدا نہیں کہا جا سکتا۔ مظہر کے عین ظاہر نہ ہونے کے باب میں جناب مجدد فرماتے ہیں۔ فرض کیجئے کہ ایک صاحب فن اپنے طرح طرح کے کمالات کا اظہا کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ حروف واصوات ایجاد کرتا ہے۔ یہ حروف و اصوات کمالات کا آئنہ بن کر کمالات کے ظہور کا باعث بنتے ہیں لیکن ان حروف و اصوات کو جو مرایائے کمالات ہیں عین کمالات قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پس یہ بات قطعی طے ہو گئی کہ اس کائنات کو صفات ذات کا مظہر تسلیم کر لینے سے بھی مظہرعین ظاہر ثابت نہیںہو سکتا۔

شیخ اکبر نے کائنات کی نفی سے وحدت کے وجود پر جو استدلال کیا ہے جناب مجدد کے نزدیک یہ بات شیخ نے مقام فنا میں کہی ہے وہ فرماتے ہیںکہ جب صوفی اس مقام سے کسی بلند تر مقام پر پہنچتا ہے تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے۔ فنا کے مقام میں محبوب کی محبت کے غلبے کے باعث ہر چیز مستور ہو جاتی ہے اور چونکہ صوفی محبوب کے علاوہ کسی کودیکھتا ہی نہیں اس لیے وہ محبوب کے سوا کسی شے کو موجود نہیں پاتا۔ اگرچہ شیخ اکبر نے اثبات باری تعالیٰ سے کائنات کی نفی پر استدلال کیا ہے تا ہم جناب مجدد کہتے ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کے اثبات سے کائنات کے وجود سے انکار لازم نہیں آتا۔ مثلاً اگر کوئی شخص آفتاب کے وجود کا یقین رکھتا ہے تو اس یقین محکم سے یہ لازم نہیں کہ وہ آفتاب کے چمکنے پر ستاروں کو پیش نظر نہ پا کر سرے سے ان کے وجود ہی سے انکار کر دے۔ جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ ستارے ہیں لیکن آفتاب کے نور کی تابش سے مستور ہو گئے ہیں۔ اس لئے وہ ان کے وجود کا منکر نہیں ہو سکتا اسی طرح ذات باری تعالیٰ کے اثبات سے کائنات کی نفی کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ در حقیقت وجود کائنات کی نفی کرنا تعلیمات اسلام کے یکسر خلاف اور منشائے وحی الٰہی کے بالکل برعکس ہے۔ مجدد صاحب فرماتے ہیں۔ کہ اگر کائنات کا وجود نہ ہو تو جملہ اوامرو نواہی سب کے سب عبث و بیکار ٹھہرتے ہیں ۔ ان کا پھر کوئی معنی و مقصد سمجھ میںنہیں آتا اور تمام عقائد باطل ہو جاتے ہیں غرض عذاب و ثواب۔ جزاو? سزا۔ اجر و گناہ دین و دنیا۔ عقبی و آخرت یہ تمام باتیں بے معنی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر کائنات کا واقعی کوئی وجود نہیں تو پھر خدا نے کس شے کو بنایا۔ اس کی وہ کیا مخلوق ہے جس کا وہ خالق ٹھہرا۔ ؟پس یہ ماننا پڑے گا کہ کائنات کا وجود ہے۔

آیت قرآنی (ترجمہ)کہ ہم انسان سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ اس سے شیخ اکبر نے قربت کو جو ? عینیت ? قرار دیا ہے۔ مجدد صاحب نے اس سے بھی اختلاف کیا ہے۔ آپ کے نزدیک قربت کو عینیت خیال کرنا صحیح نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب اس کی کیفیت کا فہم و ادراک ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ہمارے دماغ اور ذہن اس کے مفہوم کا تعین کس طرح کر سکتے ہیں اور قربت کو کیونکر عینیت قرار دے سکتے ہیں ۔ نیز اس حدیث نبوی کے بارے میں (ترجمہ)کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ مجدد صاحب کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا مجسمہ ہے یا انسان عین خالق ہے بلکہ اس سے کہنا یہ ہے کہ ?روح ربانی? کی طرح ?روح انسانی? بھی لامکانی ہے اور اسی اعتبار سے دونوں میں مشاہبت ہے۔ بصورت دیگر خالق و مخلوق میں قطعاً کوئی عینیت نہیں ہو سکتی مجدد صاحب فرماتے ہیں۔ ایک مکڑی جو بڑے حزم و احتیاط سے اپنا جالا بناتی ہے۔ ا س ذات سے کیونکر عینیت کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ جو پلک چھپکنے میں زمین و آسمان کو درہم برہم کر سکتی ہے۔ مجدد صاحب کے نزدیک ?من عرف نفسہ فقد عر ف ربہ ? سے بھی انسان کا عین خدا ہونا ثابت نہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ معرفت نفس کا مقصد یہ ہے ک کسی شخص کے اپنے نقائص و محاسن اس کی ذا تی کوششوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے فضل و کرم سے حاصل ہوتے ہیں۔ تمام کمالات و محاسن کا اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سر چشمہ ہے اور صرف اسی نقطہ نظر سے معر فت نفس اللہ کی ذات کی معرفت کا ذریعہ قرار پا سکتی ہے۔

سلسلہ نقشبندیہ کی خصو صیات:۔نقشبندی سلسلہ جسے ہندوستان میں خواجہ باقی باللہ نے قائم کیا اور ان کے بعد آپ کے مرید یگانہ روزگار جناب مجدد الف ثانی نے اسے ترقی دی یہ سلسلہ اسلام کی شریعت کے عین مطابق ہے۔ تصوف کے دوسرے سلسلوں کی طرح اس میں شریعت اسلامی سے مطلقاً کوئی آزادی نہیں۔ مثلاًسجدہ تعظیمی ۔ قبروں پر روشنی ، غلاف اور چادر ڈالنا، پیروں کے قدم چومنا، مرید عورتوں کا اپنے پیروں سے بے پردہ رہنا غرض اس قسم کی تمام باتوں کی قطعاً اجازت نہیں۔ نقشبندی سلسلے میں یہ تمام باتیں شریعت اسلام کے با لکل خلاف ہیں۔ اس کے علاوہ چلہ کشی، ذکر با الجہر اور سماع با لمز امیر وغیرہ مراسم اختیار کرنے بھی مناسب نہیں سمجھے جاتے۔ نقشبندیوں کو صحابہ کرام کی سے زندگی ۔ انہی کی طرح بودوباش ، وضع قطع اور معاشرت اختیار کرنے کی تلقین کی جاتی ہے اور نقشبندی سلسلے میں صحابہ کرام تمام اولیائے عظام سے افضل مانے جاتے ہیں ۔ المختصر شریعت اسلام کی تمام و کمال پیروی کرنا اس مسلک کی بنیاد اولین ہے۔چنانچہ اس سلسلے میں جناب مجدد صاحب فرماتے ہیں۔ بعض درویشوں پر مجھے تعجب ہوتا ہے۔ کہ وہ شریعت کی مخالفت پر جرا?ت کرتے ہیں۔ حالانکہ شریعت وہ شے ہے کہ اگر جناب عیسیٰ و موسیٰ بھی ہمارے پیغمبرجناب محمد رسول اللہ کے بعد ہوتے تو وہ بھی اس شریعت کے تابع ہوتے۔ نقشبندی سلسلہ جناب مجدد کی مساعی سے ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل گیا اور ہندوستان سے باہر بھی نقشبندی سلسلے کے مراکز قائم ہوئے جنہیں آپ کے بے شمار خلفاءو مریدین نے آپ کے بعد اپنی کوششوں سے مضبوط و مستحکم کیا۔

جناب مجدد مکتوبات کے آئنہ میں:۔ردّ بدعت ، مخالفت شیعت اور احیائے اسلام یہ تین موضوع جناب مجدد کی تمام تر مساعی کا ماحصل ہیں۔ آپ کے مکتو بات کے مضامین انہی تین امور پر مشتمل ہیں۔ وہ لوگ جو گوشہ تنہائی میں تسبیح لئے بیٹھے تھے۔ جن کو دنیا کے کاموں سے مطلق کوئی سروکار نہ تھا۔ جن کو صرف گوشہ عافیت ہی میں بھلائی نظر آتی تھی۔ جناب مجدد نے انہیں دلیر کیا۔ ان کی ہمت بندھائی اور ان سے کہا کہ یہ وقت نہیں ہے کسی کونے یا گوشے میں جا کر بیٹھ رہنے کا۔ یاد خدا کرنا ہے تو میدان عمل میں آو? تسبیح کے دانے بکھرے ہوئے ہیں انہیں قوت عمل سے پرونے کی ضرورت ہے۔ اٹھو اور خدا کی راہ میں جہاد کرو کہ اس وقت یہ جہاد ہزار عبادتوں کی ایک عبادت ہے کفر کی طاقت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اگر وقت پر اس کی مدافعت نہ کی گئی تو یاد رکھو کہ تم دنیا سے مٹ جاو? گے اور کہیں تمہارا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ جناب مجدد کے حساس دل پر خلاف اسلام واقعات کا بڑا اثر تھا۔ اس لیے وہ صرف بادشاہ کے مخالف نہ تھے بلکہ غیر مسلموں سے بھی سخت نفرت کرتے تھے اور جزبہ انتقام ہر وقت ان کو بے چین کئے رکھتا تھا۔ اگرچہ اکبر کا دور ختم ہو چکا تھا۔ جملہ معترضہ کے طور پر اکبر کے بارے میں یہ بات مکرر سمجھئے کہ وہ کفر سے تائب ہو کر مرا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے مرتے وقت کلمہ شہادت دہرایا۔ سورة یٰسین پڑھوا کر سنی غرض اکبر کے بعد شہنشاہ جہانگیر کا دور حکومت شروع ہوا اور جہانگیر بھی کون؟ اکبر کا وہ بیٹا جو اکبر کے دین الٰہی کو پھیلانے اور اس کے ممدو مدگار بننے والے ابو الفضل ایسے لوگوں کا سخت مخالف بلکہ جانی دشمن تھا اور وہ جہانگیر جسے خواجہ باقی باللہ کے رکن السلطنت نواب مرتضیٰ خان شیخ فرید ایسے بااثر مرید نے صرف اس شرط پر اپنی ذات کا اعتماد بہم پہنچایا اور اس کی تخت نشینی کا اہتمام کیا تھا کہ وہ اسلام کی شریعت کے خلاف نہ چلے گا۔ ان تمام باتوں کے باوجود ہندوو?ں کی ناشائستہ اور دلآزار حرکتیں دن پر دن پڑھتی چلی جا رہی تھیں۔ جناب مجدد کے حساس دل پر ان اخلاق سوز و نا شائستہ حرکات کا گہرا اثر تھا۔ ان تمام باتوں کے سبب نہ صرف بادشاہ کے خلاف تھے بلکہ ان کو ہندوو?ں سے بھی سخت نفرت تھی۔ یہاں تک کہ ہندوو?ں سے انتقام لینے کا جذبہ انہیں ہر وقت بے چین کئے رکھتا تھا۔ چنانچہ شیخ فرید کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں۔ کفار بے تحاشہ مسجدوں کو شہید کر کے وہاں مندر بنا رہے ہیں۔ تھانیسر میں حوض کر کھیت کے درمیان ایک مسجد اور ایک بزرگ کا مقبرہ تھا۔ اسے گرا کر اس کی جگہ بڑا بھاری مندر تعمیر کرایا ہے۔ اس کے علاوہ کفار اپنی رسموں کو کھلم کھلا ادا کر رہے ہیں اور مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ ان کی شرارتوں اور مخالفتوں کے سبب اکثر اسلامی احکام کے بجا لانے سے قاصر ہیں ایکا دشی کے دن ہندو کھانا ترک کر دیتے ہیں کہ اسلامی شہروں میں بھی کوئی مسلمان اس روز روٹی نہ کھائے اور نہ بیچے اور ماہ رمضان المبارک میں ہندو برملا نان و طعام پکاتے اور بیچتے ہیں۔ مگر اسلام کے مغلوب ہونے کے باعث انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔ ہائے افسوس بادشاہ وقت ہم میں سے ہو اور پھر ہم فقیروں کا اس طرح خستہ اور خراب حال ہو۔

ایک خط میں انہی کے نام یوں لکھتے ہیں۔ پس اسلام کی عزت کفر اور کافروں کی ذلت میں ہے۔ جس نے کافرںکو عزیز رکھا۔ پس اس نے اسلام کو خوار کیا۔ کفار کے عزیز رکھنے سے فقط تعظیم کرنا اور بلند بٹھانا ہی مراد نہیں۔ بلکہ اپنی مجلسوں میں جگہ دینا۔ ان کی ہم نشینی کرنا اور ان کے ساتھ گفتگو کرنا ۔ سب اعزاز میں داخل ہے ۔ کتوں کی طرح ان کو دور کرنا چاہئے اور اگر دنیا وی غرض ان سے کوئی ہو اور بغیر انکے حاصل نہ ہوتی ہو تو پھر بھی بے اعتباری کے طریق کو مدّنظر رکھ کر ضرورت کے مطابق ان سے میل جول رکھنا چاہئے اور کمال اسلام تو یہ ہے کہ اس دنیاوی غرض سے بھی درگزر کریں اور ان کی طرف نہ جائیں۔ اسلام اور مسلمانوں کی عزت ۔ کفر اور کافروں کی ذلت میں ہے۔ جزیہ سے مقصود کافروں کی خواری اور ان کی اہانت ہے جس قدر اہل کفر کی عزت ہو۔ اسی قدر اسلام کی ذلت ہوتی ہے اس سر تشتہ کو اچھی طرح سے نگاہ میں رکھنا چاہئے۔ اکثر لوگوں نے اس سرتشتہ کو گم کر دیا ہے۔ اور دین کو برباد کیا ہے۔ شیخ فرید کانگڑہ کی فتح پر مامور تھے۔ اس علاقہ میں ہندوو?ں کا ایک بہت بڑا تیرتھ تھا۔ جس میںپرانی مورتی تھی۔ جناب مجدد چاہتے تھے ۔ کہ شیخ فرید اس کے توڑنے کی سعادت حاصل کریں چنانچہ لکھتے ہیں? ان بد بختوں اور ان کے جھوٹے خداو?ں کی تحقیر و توہین میں بہت کوشش کرنی چاہیے اور ظاہر و باطن میں جس قدر ہو سکے ان لوگوں کی بربادی و تباہی کا سامان پیدا کرنا چاہئے اور اس تراشیدہ و نا تراشیدہ بت کی ہر طرح سے اہانت کرنی چائے۔ امید ہے کہ بعض کوتاہیاں جو آپ سے وقوع میں آئی ہیں اس سے ا ن کی تلافی اور کفارہ ادا ہو جائے ۔بدن کی کمزوری اور سردی کی شدت مانع ہے ورنہ فقیرخود حاضر خدمت ہو کر اس امر کی ترغیب دیتا اور اس تقریب سے اس پتھرپر تھوکتا اور اسے اپنی سعادت کا سرمایہ جانتا۔

جناب مجدد مذکورہ بالا خیالات کی روشنی میں بظاہر ایک متشدد و متعصب شخصیت نظر آتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ ایسے نہیں تھے۔ چنانچہ اس خیال کے تحت وہ مرزا جعفر بیگ کے خط کے جواب میںلکھتے ہیں۔ ? میرے مخدوم جب کفار قریش نے اپنی کمال بدنصیبی سے اہل اسلام کی ہجو اور برائی میں مبالغہ کیا۔ تو جناب محمد رسول اللہ نے اسلام کے شاعروں کو حکم دیا کہ وہ کفار نگونسار کی ہجو کریں ۔ اس خط کے بیان سے یہ بات بالکل واضع ہو جاتی ہے کہ جناب مجدد الف ثانی کا یہ نقطہ نظر ہندوو?ں کے خلاف ان کی جارحانہ کاروائیوں کے باعث قائم ہوا۔ اصل میں اکبر نے ہندوو?ں کی جو تالیف قلوب کی یعنی انہیں جزیہ معاف کر دیا اور انہیں خوش کرنے کے لیے مسلمانوں پر گائے کی قربانی دینا خلاف قانون قرار دے دیا۔ اس سے ہندوو?ں میںہندو مذہب کے احیاءکی تحریک زور پکڑ گئی۔ قریب تھا کہ ہندو اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے کہ عین وقت پر جناب مجدد مقابلے پر آ گئے اور انہوں نے طرح طرح کی صعوبتیں اور قیدو بند کی مشقتیں اٹھا کر مسلمانوں کو برکشتگی سے بچا لیا۔ ورنہ اکبر کے ملحدانہ خیالا ت کا سہار الے کر ہندو تو چاہتے ہی یہی تھے کہ وہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو اسلام سے بر گشتہ کرنے میںکامیاب ہوجائیں۔ دراصل ہندوو?ں نے جہاں تک ظلم و تعدی سے ہو سکا اس سے کام لے کر ہندوستان کی ان قوموں کو اسلام سے پھیرنے کی بھر پور کوشش کی جوبزرگان دین کی ستو دہ صفات اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے زیر اثر اسلام قبول کر چکی تھیں اور جہاں بس نہ چلا وہاں اسلام کو ضعف پہنچانے کے لیے انہوں نے بھی اسی پالیسی کو اختیار کیا۔ جیسے ان سے کہیں پہلے وہ عجمی اختیار کر چکے تھے جو صرف ہنگامی حالات کے تحت مسلمان ہو گئے تھے۔ مگر دل سے اسلام کی بھلائی نہیں چاہتے تھے بلکہ اندر ہی اندر اسلام کی جڑیں کھو کھلی کرنے میں لگے رہے چنانچہ اسی پالیسی کے تحت ہر دے رام ایک ہندو نے جناب مجدد کی خدمت میں دو خط لکھے تھے۔ جس میں اس نے صوفیائے اسلام سے اپنی دلی محبت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اصل میں رحمان اور رام ایک ہی ذات کے دو نام ہیں مگر جناب مجدد ہر دے رام کے ان خطوں سے کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی بجائے۔ فوراً اس کے خبث باطن کو تاڑ گئے۔ چنانچہ آپ نے اس کے خطوں کے جواب میں ایک نہایت تہدید آمیز خط ارسال کیا۔ جس میںآ پ نے تحریر فرمایا تھا۔ کہ?رام اور کرشن جو ہندوو?ں کے معبود ہیں اللہ تعالیٰ کی کمینہ مخلوقا ت میںسے ہیں اورماں باپ سے پیدا ہوئے۔ رام جسرتھ کا بیٹھا تھا۔ لکشمن کا بھائی اور سیتا کا خاوند تھا۔ جب رام اپنی بیوی کو نگاہ میںنہ رکھ سکا تو پھر وہ دوسرے کی کیا مدد کر سکتا ہے۔ عقل دور اندیش سے کام لینا چاہئے اور ایک دوسرے کی دیکھادیکھی پر نہ چلنا چاہئے۔ بڑے شرم کی بات ہے۔ کہ تمام عالمین کے پیدا کرنے والے کو رام یاکرشن کے نام سے یاد کیا جائے ۔ رام و رحمان کو ایک جاننا سخت نادانی ہے ۔ جو شخص رحمان و رام کو ایک ہی ذات کے دو نام خیال کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص کسی عظیم الشان بادشاہ کو ?کمینہ خاکروب? کے نام سے یاد کر لے۔

خالق کبھی مخلوق کے ساتھ ایک نہیں ہوتا اور چوں بے چوں کے ساتھ متحد نہیں ہوتا۔ اس خط کے مضمون سے یہ بات قطعی واضع ہو گئی کہ جناب مجدد کے زمانے میں اکبر کے ملحدانہ خیالات کی بدولت ہندوستان کے مسلمانوںکی حیثیت کیا تھی وہ کن احوال سے دو چار تھے اور کس دو ر سے گزر رہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصر ت و حمایت کا سامان پیدا کیا اور اس الحاد و زندقہ سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے اپنے ایک بندے احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی کو قوت حق اور استقامت دین عطا کر کے باطل کی قوتوں کے مقابلے میں کھڑا کر دیا۔

اسلام کے تصوف پر ہندوستانی خیالات نے جس قدر گہرا اثر ڈالا تھا اور اکبر کے ملحدانہ خیالات نے ہندوو?ں کو جتنا بے باک اور اسلام کی دشمنی میں تیز کر دیا تھا۔ جناب مجدد الف ثانی نے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پا کر ان سب قباحتوں کا مکمل طور پر قلع قمع کر دیا۔ بنا بریں جناب ا حمد سر ہندی کو ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد دوسرے ہزار سالہ دور کا رہبر کہنا اور اسلام کی تعلیمات کی تجدید کرنے والا کہنا یعنی مجدد الف ثانی تسلیم کرنا حق بجانب ہے۔2

ابو بکر شبلی
ابو بکر بن دلف حجدر شبلینام
788ئتاریخ پیداءش
وجھ شھرت
جناب جنید بغدادی نے آ پکے مزاج سے گورنری کی بو باس نکالنے اور طبیعت میں عجزو انکسار پیدا کرنے کے لیے آ پکو بھیک مانگنے پر مقرر کیا۔ چنانچہ آپ روزانہ بھیک مانگنے جاتے اور جو کچھ لوگوں سے میسر آتا اسے لا کر فقراءو مساکین میں تقسیم کر دیتے مگر خود بھوکے رہتے
مجاہدات کے دوران آپ اس لیے اپنی آنکھوں میں نمک بھر لیتے تھے کہ نیند کا غلبہ نہ ہو سکے

ابوبکر بن دلف حجدر شبلی بعضوں نے جعفر بن یونس لکھاہے۔ ? ولادت?247ہجری سامرہ علاقہ عراق میں پیدا ہوئے اور شبلہ میں پرورش پائی ۔ اسی مناسبت سے آپ شبلی کہلاتے ہیں۔ شبلہ ایک گائوں کا نام ہے جو سمر قند سے آگے شہر اسروشنہ کے اطراف میں واقعہ تھا آپ کے خاندان کے افراد کسی زمانے میں عراق سے نکل کر یہاں آباد ہو گئے تھے۔ آپ نسلاًمصری تھے کہ ترکی اس کے بارے میں اختلاف ہے ۔ کسی نے آپ کو ترکی الا صل سمجھا ہے کسی نے خراسانی لکھا ہے اور کسی کے نزدیک آپ مصری تھے۔ آ پ کے والد ایک صاحب اثروثروت سردار تھے۔ آپ کے خاندان میں چونکہ دنیاوی وجاحت کے سوا کوئی علمی فضیلت نہیں تھی اس لیے آپ کی تعلیم کے بارے میں کچھ ٹھیک معلوم نہیں کہ کہاں پائی۔ اور کن کن بزرگوں سے اکتساب علم کیا البتہ اتنا ضرور علم ہے کہ آپ کا خاندان فقہ مالکی پر عمل کرتا تھا۔ ا ور آپ نے تیس برس تک فقہ پڑھی ۔ موطا امام مالک آپ کو زبانی یاد تھی۔

شبلی نے تعلیم سے فراغت پا کر شاہی ملازمت اختیار کر لی اور اپنے خاندان کی فوجی خدمات کے صلے میں نہاوند کے گورنر بنائے گئے۔ کہتے ہیں ایک مرتبہ عباسی خلیفہ المعتضد با اللہ کے جشن کی تیاریاں ہو رہی تھیں تمام بغداد نئی نویلی دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔ تمام ملکوں کے گورنر خلیفہ کے سامنے باادب ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ سوئے اتفاق سے ایک گورنر کو چھینک آ گئی اور ناک سے رطوبت بہنے لگی کوئی رومال پاس نہیں تھا۔ ناک پاک کر لی۔ خلیفہ نے گورنر کی اس حرکت کو دیکھ لیا۔ فوراً عتاب ہوا۔ گورنری جاتی رہی۔ خلعت چھین کر سخت بے عزت کر کے دربار سے نکال دیا۔ شبلی نے اس معاملے کو دیکھ کر اپنے دل میں خیال کیا کہ جس شخص نے شاہی خلعت کی توقیر نہ کی اس کا تو یہ انجام ہو مگر جو شخص حاکم الحاکمین کی خلعت کا احترام نہ کرے اور آداب خداوندی اس کے پیش نظر نہ ہو اس کا انجام کیا ہو گا؟ اس واقعہ نے آپ کے دل پر کچھ اس طرح اثر کیا کہ گورنری کو لات مار کر فقیر ہو گئے۔ مگر کس کے فقیر ہوئے لوگوں کے در کے ، نہیں، اللہ کے گھر کے اللہ کی محبت کے۔

اب شبلی کی حالت یہ تھی کہ جس شخص کے منہ سے اللہ کا لفظ نکل جاتا اس کا منہ اشرفیوں سے بھر دیتے۔ پھر ایک وقت ان کی مجزوبیت کا ایسا آیا کہ ننگی تلوار لے کر پھرا کرتے اور کہتے جو شخص خدا کا نام زبان پر لائے گا اس کا سر قلم کر دوں گا۔ لوگوں کو ان سے خوف آتا تھا۔ مگر ہمت کر کے ایک دن ایک شخص نے پوچھ ہی لیا کہ آپ اللہ کا نام لینے والوں کو قتل کرنے کے کیوں درپے ہیں؟فرمایا لوگ عادت پڑ جانے کے سبب اللہ کہتے ہیں ورنہ ان کے دلوں میں ارادہ اور خلوص نہیں رہا۔ ایک روز اللہ سے دعا کی اے پروردگار مجھے دو عالم عطا کر دے تا کہ میں ان کو نوالہ بنا کر کسی یہودی کے منہ میں رکھ دوں مجھے تیری محبت کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔ لکھا ہے کہ فقیری اختیار کرنے کے بعد جب آپ کسی صاحب نظر کی تلاش کرتے ہوئے جناب جنید بغدادی کی خدمت میں پہنچے تو بغدادی نے آپ کو اپنی صحبت میں اس شرط پر لینا قبول کیا۔ کہ آپ شدید سے شدید مجاہدے ، ریاضتیں کریں گے اور ان سے مطلق نہیں گھبرائیں گے۔ کہتے ہیں جناب جنید بغدادی نے آ پکے مزاج سے گورنری کی بو باس نکالنے اور طبیعت میں عجزو انکسار پیدا کرنے کے لیے آ پکو بھیک مانگنے پر مقرر کیا۔ چنانچہ آپ روزانہ بھیک مانگنے جاتے اور جو کچھ لوگوں سے میسر آتا اسے لا کر فقراءو مساکین میں تقسیم کر دیتے مگر خود بھوکے رہتے۔ لکھا ہے کہ بھیک مانگنے میںآپ کو بڑی دشواری پیش آتی ۔ لوگ سمجھتے کہ آپ محتاج و بے کس نہیں ہیں اس لیے کچھ نہ دیتے مگر پھر بھی جوں توں کر کے مرشد کی تعمیل میں آپ کو کچھ نہ کچھ لانا ہی پڑتا۔ ایک روز آپ سے جناب جنید نے پوچھا ۔ شبلی کہو اب تمہارے نفس کا کیا مرتبہ ہے؟ عرض کیا اب اپنے آپ کو تمام لوگوں سے ادنے درجہ پر پاتا ہوں ۔ یہ سن کر حضرت جنید نے فرمایا اب تمہارے ایمان کی تکمیل ہو گئی ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے غیبی ندا سنی کہ اسم ذات کےساتھ کب تک وابستہ رہے گا۔ اگر طلب صادق ہے تو مسمی کی جستجوکر یہ ندا سن کر عشق الہی میں ایسے مستغرق ہوئے کہ دریائے دجلہ میں چھلانگ لگا دی لیکن ایک موج نے پھر کنارے پر پھینک دیا۔ اس کے بعد اکثر مہلک و مہیب مقامات پر پہنچ کر خود کو ہلاک کرنے کی سعی کرتے رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے محبو ب بندوں کی خود حفاظت فرماتا ہے اس لیے کسی جگہ بھی کوئی گزند نہیں پہنچتی اور ہر روز ذوق و شوق میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔ آپ اکثر چیخ چیخ کر فرماتے کہ تعجب ہے اس شخص پر جو نہ پانی میں غرق ہو سکا اور نہ آگ میں جل سکا۔ نہ درندوں نے پھاڑ ا اور نہ پہاڑ سے گر کر ہلاک ہو سکا۔ پھر آپ نے یہ ندا سنی کہ جو مقبول الہی ہوتا ہے اس کو خدا کے سوا دوسرا کوئی قتل نہیں کر سکتا۔ آپ کے احوال یہاں تک پہنچ گئے کہ لوگوں نے دس مرتبہ زنجیروں میں جکڑا مگر آپ کو سکون میسر نہ آ سکا۔ پھر آپ کو پاگل تصور کر کے پاگل خانے بھیج دیا گیا اور ہر شخص آپ کو دیوانہ کہنے لگا۔

ایک مرتبہ عید کے دن سیاہ لباس میں ملبوس تھے اور وجد کا عالم تھا۔ لوگوں نے سیاہ لباس پہننے کی وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ ماتم میں سیاہ لباس پہنا ہے کیونکہ پوری مخلوق خدا سے غافل ہو چکی ہے ۔ ابتداءمیں آپ سیاہ لباس ہی استعمال فرماتے تھے۔ لیکن تائب ہونے کے بعد مرقع پہننا شروع کر دیا تھا۔ مجاہدات کے دوران آپ اس لیے اپنی آنکھوں میں نمک بھر لیتے تھے کہ نیند کا غلبہ نہ ہو سکے۔ ایک مرتبہ چمٹی لے کر آپ نے اپنا گوشت نوچنا شروع کر دیا ۔ تو حضرت جنید نے اس کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا کہ جو حقائق مجھ پر منکشف ہوتے ہیں اس کی مجھ میں طاقت نہیں ہے اس لیے یہ عمل کر رہا ہوں تا کہ ایک لمحہ کے لیے سکون مل سکے۔ آپ اپنے معمول کے مطابق تہہ خانے میں عبادت کرتے تھے ا ور لکڑیوں کا گٹھا اپنے ہمراہ لے جاتے کہ جب عبادت سے ذرا بھی غفلت ہوتی تو ایک لکڑی نکال کر خود کو زودو کوب کریں حتیٰ کہ ایک ایک کر کے تمام لکڑیاں ختم ہو جاتیں اور بعد میں آپ اپنے جسم کو دیواروں سے ٹکراتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میری پوری زندگی اسی خواہش میں گزر گئی کہ کاش ایک لمحہ کے لیے خدا تعالیٰ سے مجھے ایسی خلوت نصیب ہو جاتی کہ میرا وجود باقی نہ رہتا اور چالیس سال سے یہ تمنا ہے کہ کاش ایک لمحہ لئے خدا کو جان اور پہچان سکتا۔ کاش میں پہاڑوں میں اس طرح روپوش ہو جاتا کہ نہ تو مخلوق مجھ کو دیکھ سکتی اور نہ میرے احوال سے با خبر ہوتی ، پھر فرمایا کہ میں خود کو یہودیوں سے بھی زیادہ ذلیل تصور کرتا ہوں کیونکہ میں نفس و دنیا اور ابلیس و خواہشات کی بلائوں میں گرفتار ہوں اور مجھے تین مصیبتیں یہ بھی لاحق ہیں کہ میرے قلب سے اللہ تعالیٰ دور ہو گیا ہے۔ دوم ،میرے قلب میں باطل جا گزیں ہو گیا ہے۔ سوم ، میر ا نفس ایسا کافر بن گیا ہے کہ اس کو مصائب دور کرنے کا تصور تک نہیں آتا۔ پھر فرمایا کہ دنیا محبت کا اور آخرت نعمت کا مکان ہے۔ لیکن اس دونوں سے قلب بہتر ہے کیونکہ یہ معرفت الہیٰ کا مکان ہے ۔ جب آپ کے مراتب میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو آپ نے وعظ گوئی کو اپنا مشغلہ بنا لیا اور اس میں لوگوں کے سامنے حقیقت کا اظہار بھی کرنا شروع کر دیا جس پر حضرت جنید نے فرمایا کہ ہم نے جن چیزوں کو زمین میں مدفون کر رکھا تھا، تم انہیں بر سر منبر عوام کے سامنے بیان کرتے ہو۔ آپ نے جواب دیا کہ جن حقائق کا میں اظہار کرتا ہوں ۔ وہ لوگوں کے ذہنوں سے بالا تر ہیں۔ کیونکہ میری باتیں حق کی جانب سے ہوتی ہیں اور حق ہی کی جانب لوٹ جاتی ہیں اور اس وقت شبلی کا وجود درمیان میں نہیں ہوتا۔ حضرت جنید نے فرمایا کہ گو تمہارا قو ل درست ہے پھر بھی تمہارے لیے اس قسم کی چیزیں بیان کرنی مناسب نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ دین و دنیا طلب کرنے والوں کے لیے ہماری مجلس نشینی حرام ہے۔ آپ کے ہاتھ پر توبہ کرنے والا جب طریقت کا طلب گار ہوتا تو آپ حکم دیتے کہ صحرا میں جا کر توکل اختیار کرو اور بغیر زاد ِ راہ اور سواری کے حج کے سفرپر چلے جائو۔ اسی وقت تمہیں توکل و تجرد حاصل ہو گا اور جب ان دونوں مجاہدات سے فراغت پا لو اس وقت میرے پاس آنا کہ ابھی تمہارے اندر میری صحبت کی صلاحیت نہیں ہے۔ آپ اکثر تائب ہونے والوں کو اپنے اصحاب کے ہمراہ بغیر زاد راہ اور سواری کے صحرا میں بھیج دیا کرتے تھے اور جب لوگ یہ کہتے کہ آپ تو مخلوق کی ہلاکت کے درپے ہیں تو آپ جواب دیتے کہ میری نیت ہر گز یہ نہیں، لیکن جو لوگ میرے پاس آتے ہیں ان کا مقصد میری صحبت نہیں ہوتا بلکہ وہ معرفت الہیٰ کے متمنی ہوتے ہیں۔ اگر وہ مصاحبت کے خواہاں ہوں تو اگرچہ بت پرستی کے مرتکب کہلائے جائیں گے۔ لہذا ان کے واسطے یہی بہتر ہے کہ اپنی حالت پر قائم رہیں کیونکہ فاسق موحد رہبانیت پسند زاہد سے افضل ہے۔ اسی وجہ سے میں اپنے پاس آنے والوں کو خدا کا راستہ بتا دیتا ہوں۔ اس میں اگر وہ ہلاک بھی ہو جائیں جب بھی اپنے مقصد سے محروم نہیں رہیں گے۔ اگر سفر کی صعوبتیں حاصل کر لیں گے تو انہیں وہ مقام حاصل ہو جائے گا جو دس سالہ مجاہدات سے بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ ہم آپ کو غیر اطمینانی حالت میں دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ یا تو آپ خدا کے ساتھ نہیں یا خدا آپ کے ساتھ نہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ اگر میں اس کے ساتھ ہوتا تو میں ہوتا لیکن میں تو اس کی ذات میں گم ہو گیا ہوں، پھر فرمایا کہ میںہمیشہ اس خیال سے خوش ہوتا رہا کہ مجھے خدا کا مشاہدہ و انس حاصل ہے لیکن اب محسوس ہو اکہ انس تو صرف اپنے ہی ہم جنس سے ہو سکتا ہے۔

حضرت جنید نے پوچھا کہ جب تمہیں ذکر الہی میں صدق حاصل نہیں تو تم کس طرح اس کو یاد کرتے ہو؟ آپ نے فرمایا کہ میں مجازی اعتبار سے جب اس کو بکثرت یاد کرتا ہوں تو ایک مرتبہ وہ بھی مجھے حقیقت کے ساتھ یاد کر لیتا ہے۔ حضرت جنید یہ جملہ سن کر نعرے لگاتے ہوئے بیہوش ہو گئے۔ آپ نے فرمایا کہ بارگاہ الہی سے کبھی تو خلعت عطا کیا جاتا ہے اور کبھی تازیانہ۔ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے پوچھا کہ دنیا ذکر و شغل کے لیے ہے اور عقبی احوال کے لیے ، لہذا راحت کس جگہ مل سکتی ہے؟فرمایا کہ دنیا کے ذکر و شغل سے بے نیاز ہو جائو تا کہ احوا ل آخرت سے نجات حاصل ہو جائے۔ ایک دن آپ کوعالم وجد میں مضطرب دیکھ کر حضرت جنید نے کہا کہ اگر تم اپنے امور خدا کے سپرد کر دو تو تمہیں سکون مل سکتا ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ مجھے تو اس وقت سکون مل سکتا ہے جب اللہ تعالی میرے امور میرے اوپر چھوڑ دے۔ یہ سن کر حضرت جنید نے فرمایا کہ شبلی کی تلوار سے خون ٹپکتا ہے۔ آپ نے کسی کو ?یا رب? کہتے سن کر فرمایا کہ تو کب تک یہ جملہ کہتا رہے گا جبکہ اللہ تعالیٰ ہر وقت عبدی عبدی فرماتا رہتا ہے۔ لہذا اس کی بات سن لے۔ اس نے جواب دیا کہ میں تو عبدی عبدی ہی سن کر یا رب یا رب کہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر تو تیرے لیے یہ جملہ کہنا جائز ہے۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری گردن میں آسمان کا طوق اور پائوں میں زمین کی بیڑی ڈال دے اور ساری دنیا بھی دشمن ہو جائے جب بھی میں اس سے منہ نہیں پھیر سکتا۔

وفات کے وقت جب آپکی نگاہوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تو ناقابل بیان حد تک بیقرار ہو کر لوگوں سے راکھ طلب کر کے اپنے سر پر ڈالتے رہے لوگوں نے بیقراری کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ اس وقت مجھے ابلیس پر رشک آ رہا ہے اور آتش رشک میرے تمام جسم کو بھسم کئے دے رہی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو خلعت لعنت سے نوازا۔ لیکن مجھ تشنہ کو خدا نے وہ خلعت کیوں نہیں عطا ءفرمایا۔ لعنت کیاخلعت شیطان کے لیے مخصوص ہے لیکن اس کا عطا کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کی خلعت کا مستحق ابلیس کبھی نہیں ہو سکتا۔ یہ کہہ کر آپ خاموش ہو گئے۔ لیکن پھر عالم اضطراب میں فرمایا کہ اس وقت کرم کی ایک ہوا چل رہی ہے اور دوسری قہر کی۔ جن پر کرم کی ہوا چلی ان کو منزل مقصود تک پہنچا دیا۔ اور جن پر قہر کی ہوا چلی وہ لوگ راستے ہی میں رہ گئے۔ اور اس قسم کے حجابات ان کے سامنے آ گئے کہ وہ منزل تک نہ پہنچ سکے مجھے یہ اضطراب ہے کہ میرے اوپر کون سی ہوا چلنے والی ہے۔ انتقال کے وقت سے قبل ہی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھنے کے لیے آ پہنچی تو آپ نے اس جماعت کے قصد کو محسوس کر کے فرمایا کہ یہ عجیب بات ہے کہ زندہ ہی کی نماز پڑھنے چلے آئے ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا کہ? لا الہ الااللہ?تو فرمایا جب غیر ہی نہیں ہے تو نفی کس کی کروں۔ لوگوں نے عرض کیا کہ شریعت کا حکم ہے، کہ ایسے وقت میں کلمہ پڑھنا چاہئے۔ آپ نے فرمایا کہ سلطان فرما رہا ہے کہ میں رشوت قبول نہیں کروں گا۔ اس کے بعد کسی نے با آواز بلند کلمہ ?لاالہ الا اللہ ? کہنے کی تلقین کی تو فرمایا کہ میں اپنے محبوب سے مل گیا۔ یہ فرما کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔

مجدد الف ثانی ابو بکر شبلیByMuhammadAmirSultanChishti923016778069


الف ثانی
-1
شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانینام
971ہجر&تاریخ پیداءش

ا حمد سر ہندی کو ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد دوسرے ہزار سالہ دور کا رہبرکہا جاتا ہے

971ہجری میں سرہند میں پیدا ہوئے۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں یہ مقام ایک جنگل تھا۔ جس میں شیر رہا کرتے تھے۔ جب یہاں شہر آباد کیا گیا تو اسی مناسبت سے اس کا نام ?شیر ہند?تجویز ہوا۔ جو آگے چل کر ?شیر ہند ? سے بگڑتے بگڑتے ?سر ہند ? بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی سرہند میں جناب عمر فاروق کی ایک اولاد کو لا کر یہاں آباد کر دیا۔ جن سے بزرگ محترم جناب شیخ عبدالاحد فاروقی سلسلہ چشت کے ایک عالم باعمل بزرگ ، یہی بزرگ جناب شیخ احمدسرہندی مجدد الف ثانی کے والد گرامی قدر تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے پائی۔ ان کے علاوہ آپ نے دیگر علمائے اسلام کے سامنے بھی زانوئے تلمذ تہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپکو کچھ ایسا ذہن عطا فرمایا تھا کہ جملہ اسلامی علوم بہ تمام و کمال سترہ برس کی عمر تک حاصل کر لیے بلکہ ان میں کمال متحبر پیدا کر لیا۔ اولاآپ نے قرآن حکیم حفظ کیا پھر فقہ ، حدیث و تفسیر و دیگر اسلامی علوم حاصل کئے غرض نہایت ہی قلیل مدت میں آپ ایک متحبر عالم دین ہو گئے۔ علوم ظاہری و باطنی میں تکمیل پانے کے بعد آپ کے والد محترم مولانا شیخ عبدالاحد فاروقی نے آپ کو خرقہ خلافت عطا فرمایا اور اس امانت کے سونپنے کے بعد مولانا عالم جاودانی کو رحلت فرما گئے۔ والد کے انتقال کے بعد آپ حج کے ارادے سے دہلی تشریف لے گئے۔ وہاں جا کر ایک بزرگ کے ہاں قیام فرمایا۔ انہوں نے ایک عارف کامل جناب خواجہ باقی باللہ نقشبندی کا آپ سے ذکر کیا۔ آپ کو ان کے فضائل سن کر ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ چنانچہ آپ ان کے ہمراہ جناب خواجہ باقی باللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مختصر یہ کہ دونوں ٰٰایک دوسرے سے مل کر بہت مسرور ہوئے۔ اور دونوں ان بزرگ سے آپس میں ایک دوسرے کی ملاقات کرانے کے شکر گزار تھے۔ خواجہ باللہ کا طرز عمل آپ سے نہایت مخلصانہ و مشفقانہ رہا ۔ انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا کہ یہ جناب شیخ احمد کے مرید ہیں۔ حالانکہ جناب شیخ احمد سر ہندی جناب خواجہ باقی باللہ کے مرید تھے۔ خواجہ باقی باللہ آپ کا بڑا احترام کرتے اور آپ سے دلی محبت رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے آپ سے فرمایا ۔ ہم نے یہاں سرہند میں ایک بہت بڑا چراغ روشن کیا۔ اس کی روشنی یک لخت بڑھنے لگی۔ پھر ہمارے جلائے ہوئے چراغ سے بیسیوں چراغ روشن ہو گئے اور وہ چراغ تم ہو۔

دسویں صدی ہجری ، اکبر کے زمانے میں اسلام ایک ایسے دور سے دو چار تھا جس میں کفر و زندقہ نقطہ عروج پر تھا۔ ایک طرف علمائے اسلام کے آپس میں خر خشے، ایک دوسرے پر حملے ، شدید باہمی رقابتیں ، دوسری طرف ہندوستان کی زمام اقتدار اکبر جیسے بے علم و بے دین بادشاہ کے ہاتھ میں تھی۔ جسے ملک پر حکومت کرنے کے ساتھ ساتھ ایک نئے مذہب کا بانی بن کر لوگوں کے دل و دماغ پر قبضہ کرنے کی خواہش تھی۔ اکبر نے اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ایک ایسی چال چلی جسے آج ہمارے زمانے کی زبان میں ڈپلومیسی کہتے ہیں۔ وہ ہر مذہب و ملت کے شخص کی دل جوئی کرتا اور اس کے مذہب کو بر حق سمجھتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ نہایت چالاکی سے اسے یہ باور کرانے کی کوشش کرتا کہ اب زمانے کے بدلتے ہوئے رجحانات و خیالات اور تقاضوں کے پیش نظر یہ مذہب ختم ہو گیا اب اس کی ضرورت نہیں۔ اکبر چاہتا تھا کہ ہندوستان کے تمام مذاہب کو مٹا کر ایک نیا مذہب قائم کیا جائے جس میں تمام مذاہب کے لوگ اپنا اپنا دین و مذہب ترک کر کے شامل ہوں اور اس کی سلطنت کے استحکام کا باعث بنیں۔ چنانچہ ملا ّمبارک جو اپنے زمانے کا ایک متحبر عالم تھا۔ دین کو چھوڑ کر دنیا کی طلب میں اکبر کے فاسد خیالات کا سر گرم کارکن بن گیا۔ اکبر ایسے بے علم بادشاہ نے ملاّ مبارک جیسے عا لم و فاضل انسان کی تائید پا کر ?دین الٰہی? کے نام سے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھ دی۔ اور اس میں داخل ہونے والوں کے لیے ایک عہد نامہ ترتیب دیا ۔ جس کے الفاظ یہ تھے۔
?میں فلاں ابن فلاں اپنی ذاتی خواہش و رغبت اور دلی ذو ق شوق سے دین اسلام مجازی و تقلیدی کو ترک کر کے اکبر کے ?دین الٰہی ? میں داخل ہوتا ہوں اور اس دین کے اخلاص کے چاروں مرتبے قبول کرتا ہوں۔ یعنی ترک مال، ترک جان، ترک عزت و ناموس اور ترک دین کا اقرار کرتا ہوں۔ ?
اکبر کے دین الٰہی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سورج کی پرستش چار وقت لازمی قرار دی گئی۔ آگ، پانی ، درخت اور گائے وغیرہ کا پوجنا جائز ہو گیا۔ ماتھے پر قشقہ لگانا۔ گلے میں زنار پہننا ، مذہب حقہ کی علامت بن گیا۔ ان کے علاوہ داڑھی منڈوانا، غسل جنابت نہ کرنا، ختنہ کی رسم کو بیکار و باعثِ آزار سمجھ کر ترک کرنا۔ دین الٰہی کے ماننے والوں کی شناخت قرار پائی۔ غرض تمام شعائر اسلامی کو یہ کہہ کر ترک کر دیا کہ دین اسلام ایک ہزار برس گزر جانے کے بعد بالکل اسی طرح بیکار و بے مصرف ہو گیا۔ جس طرح اسلام سے پہلے کے مذاہب اپنے ہزار سال گزارنے کے بعد عضو معطل کی طرح ختم ہو گئے۔ اصل میں اکبر شروع شروع میں ایک مسلمان آدمی تھا۔ لیکن بعد میں جوں جوں ہندوو?ں سے اس کا میل جول بڑھتا گیا۔ حتٰی کہ ان کے ہاں رشتے ناطے ہونے لگے توں توں ان کے اختلاط کے اثر سے وہ ہندو مذہب کے قریب سے قریب تر ہوتا چلا گیا۔ وہ اسلامی روایات جو اس کے بزرگوں نے قائم کی تھیں ۔ ہندوو?ں سے گہرے اختلاط کے سبب ایک ایک کر کے مٹنے لگیں۔ ایسے حالات میں ضرورت تھی کہ ایک عارف کامل اور مرد مجاہد کی جو اسلام کی مدافعت میں سینہ سپر ہو کر باطل کی قوتوں کے سامنے کھڑا ہو جائے اور اپنے سینہ میں وہ عزم و جوش اور ولولہ پیدا کر کے میدان عمل میں آگے بڑھے کہ اس کی ہیبت و صولت سے قدم قدم پر کامرانی اس کی قدم بوسی کرے۔ اکبر کے عہد حکومت میں ہندو بڑی بڑی کلیدی آسامیوں پر فائز تھے۔ ہر جگہ ان کا اقتدار قائم تھا وہ بے خوف و خطر مسلمانوں کی دلآزاری کرتے۔ مسجدیں شہید کر کے وہاں مندر بناتے کعبہ کی طرف پیٹھ کر کے حوائج ضروریہ سے فراغت پاتے۔ ہندوو?ں کے برت کا دن آتا ہے تو اکبر کی طرف سے تمام سخت حکم نافذ کئے جاتے کہ آج کے دن کوئی مسلمان روٹی نہ پکائے اور نہ کچھ کھائے پیئے۔ اس کے برعکس جب رمضان کا مہینہ آتا ۔ ہندو اعلانیہ کھاتے پیتے اور کھلے بندوں رمضان کے مہینے کی بے حرمتی کرتے۔ شہر کے بازاروں اور گلی کوچوں میں پھرا کرتے تھے۔

ان دنوں اکبر کا دارالحکومت بجائے دہلی کے آگرہ ہوتا تھا اور اس زمانے میں آگرہ کا نام اکبر آباد تھا۔ جناب شیخ احمد مجدد الف ثانی سرہند سے آگرے کو روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر آپ نے بڑی دلیری و بے باکی سے اکبر کے درباریوں سے فرمایا۔
?اے لوگو ?؛تمہارا بادشاہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے پھر گیا ہے اور اللہ کے دین سے باغی ہو گیا ہے۔ جاو? اسے میری طرف سے جا کر کہہ دو کہ دنیا کی یہ دولت و حشمت اور تخت و تاج سب فانی ہیں وہ توبہ کر کے خدا اور اس کے رسول کے دین میں داخل ہو جائے اور ان کی اطاعت کرے ورنہ اللہ کے غضب کا انتظار کرے۔ ?
درباریوں نے آپ کا پیغام لیا اور اکبر کو پہنچا دیا۔ لیکن اکبر نے سنی ان سنی کر دی اور مطلق پرواہ نہ کی۔ بلکہ الٹا آپ کو مباحثہ کا چیلنج کر دیا۔ جسے آپ نے فوراً قبو ل کر لیا۔ دنیا کو دین پر ترجیح دینے والے علماءاکبر کی طرف تھے۔ دنیا کو دین پر قربان کرنے والے چند بوریہ نشین اصحاب آپ کے ساتھ۔ مباحثہ کا انتظام ہو چکا تھا مگر کارکنانِ قضا و قدر کو منظور نہیں تھا کہ اکبر ایسے بے علم و بے دین بادشاہ کے دربار میں جناب محمد رسول اللہ کے دین پر مر مٹنے والوں کی رسوائی ہو۔ ابھی مباحثہ کا آغاز ہونے بھی نہ پایا تھا کہ ہوا کا ایک سخت طوفان آیا اور تمام دربار اکبری تہ و بالا ہو گیا۔ خیموں کی چوبیں اتنے زور سے اکھڑیں کہ ہزار کو ششوں کے باوجود پھر انہیں سنبھالانہ جا سکا۔ قدرت خدا کہ اکبر اور اس کے تمام ساتھی تو زخمی ہو گئے۔ لیکن جناب شیخ اور ان کے درویشوں میں سے کسی کو ایک خراش تک نہ پہنچی۔ مورخین کہتے ہیں کہ انہی زخموں کی وجہ سے جو مباحثہ کے دن خیموں کی چوبوں سے اکبر کو آئے اکبر کی موت واقع ہوئی۔ نیز لکھا ہے کہ مرنے سے پہلے وہ اپنے عقائد سے تائب ہوا اور بستر مرگ پر نئے سرے سے اسلام قبول کر کے دنیا سے گیا۔

اکبر کے مرنے کے بعد اب آپ کا دوسرا محاذ ان دنیا پرستوں کے خلاف قائم ہوا۔ جن کی خوشامد، چاپلوسی اور بے جا تعریف سے اکبر عقلِ سلیم سے محروم ہو کر دین الہٰی کے قائم کرنے کا مدعی ہوا۔ ان لوگوں میں علماءفضلاءبھی شامل ہیں اور وہ لوگ بھی شریک تھے جن کے اغراض محض سیاسی تھے۔ اب ہندوستان کے تخت پر تو شہنشاہ نورالدین جہانگیر تھا اور حکم اس کی ملکہ نورجہاں کا چلتا تھا۔ جہانگیر خود کہا کرتا تھا۔ ?ہم نے ایک سیر شراب اور آدھ سیر گوشت کے عوض سلطنت نورجہاں کو دے دی۔?
اللہ کے جن بندوں کو آداب محمدی آتے ہیں وہ آداب شاہی کی کبھی پرواہ نہیں کرتے۔ ایک طرف ہندوستان کا طاقتور بادشاہ اکبر، دوسری طرف اکبر کی حکومت سے ٹکر لینے والا اللہ کا وہ نیک بندہ جو بظاہر ایک بوریہ نشین سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ معرکہ لوگوں کی نگاہ میں بڑی اہمیت حاصل کر گیا۔ حکومت کے بڑے بڑے اراکین سے معمولی سے معمولی آدمی تک سب کے دلوں میں آپ کی حق گوئی و بے باکی نے آپ کی شخصی عظمت ، عملی فضیلت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کی روحانی قوت کا رعب و جلال بٹھا دیا۔ ایک خلق خدا آپکے حلقہ ارادت مندی میں داخل ہو گئی۔ دنیا پرست لوگوں کا وہ گروہ جس نے دین کے عا لموں کا لبادہ پہن کر بادشاہ کی مصاحبت و رفاقت اختیار کی۔ آپ کی دن پر دن بڑھتی ہوئی مقبولیت کو اپنے لیے سخت مہلک محسوس کیا۔ چنانچہ وہ آپ سے حسد کرنے اور آپ کے اثرو نفوذ کو کم کرنے کے لیے آپ کے متعلق طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلانے لگے۔ حتیٰ کہ آپ کے مکتوبات کی تحریف کر کے انہیں لوگوں میں پھیلانا شروع کیا۔ان بد باطن لوگوں کی کاروائیوں نے یہاں تک اثر کیا کہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی ایسے بزرگ ان کی باتوں میں آ گئے ۔ اور انہوں نے آپ کے خلاف کتابیں لکھیں اور آپ کے قتل کا فتویٰ دے دیا۔ جس کا انہیں بعد میں عمر بھر قلق رہا۔

حاسدوں نے آپ کے خلاف جہانگیر کے کان بھرنے کے لیے نورجہاں کو آلہ کار بنایا۔ نورجہاں چونکہ اپنے بھائی آصف جاہ کو ولی عہد سلطنت بنائے جانے کے خواب دیکھ رہی تھی اور یہ لوگ اس کی تائید میں تھے۔ اس لیے اس آرزو کی تکمیل کے لیے اس سے جہاں تک بن پڑا۔ اس نے جہانگیر کو آپکے خلاف خوب اکسایا۔ آخر چند غلط فہمیوں میں مبتلا ہو کر جہانگیر نے آپ کو دربار میں طلب کر لیا۔ آپ تشریف لے گئے ۔ وہاں چند سوال و جواب ہوئے۔ آپ کے طرز کلام میں چونکہ کوئی ایسی بات پیدا نہ ہوئی جو قابل مواخذہ ہوتی۔ لہٰذا سلامتی کے ساتھ واپس آ گئے۔ بد باطن لوگوں نے دیکھا کہ ان کا پہلا وار ناکام گیا۔ اب انہوں نے دوسرا حربہ یہ اختیار کیا کہ جہانگیر کی نظروں سے وہ کتابیں گزاریں جو غلط فہمیوں میںپڑ کر شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے آپ کے خلاف لکھی تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے آپ کی طرف اشارہ کر کے جہانگیر سے کہا کہ یہ شخص آپ کی حکومت کے لیے سخت خطرناک ہے۔ سجدئہ تعظیم جو اکبر بادشاہ کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ یہ اس کے خلاف اپنا فتویٰ دے چکا ہے۔ اس کے پاس اس وقت کم و بیش دو ہزار سوار ہیں۔ جو کسی وقت بھی آپ کے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں۔ حاسدوں نے سوچا کہ یہ ہماری چال دوہرا اثر دکھائے گی۔ کہ اگر آپ نے بادشاہ کو سجدہ نہ کیا تو بادشاہ کے عتاب میں آجائیں گے اور اگر کر دیا تو اپنے مریدین سے جائیں گے۔ ان کے دلوں میں آپ کی فضیلت و عظمت مطلق باقی نہ رہے گی۔ جہانگیر کو مذہب کے معاملے میں حکومت زیادہ پیاری تھی۔ وہ یہ باتیں سن کر تلملا اٹھا ۔ اس نے فوراً آپ کو ربار میں حاضر کیے جانے کا حکم دیا۔ آپ دربار میں تشریف لے گئے۔ لیکن سجدہ شاہی جس کا وہ طالب تھا۔ قطعاًادا نہ کیا۔ اس پر جہانگیر غضب ناک ہوا۔ آپ نے جہانگیر سے بڑی دلیری کے ساتھ پوچھا۔ مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ اپنے لیے سجدہ تعظیم ؟ اللہ کا بندہ کبھی غیر کا بندہ نہیں ہو سکتا۔ جو حاکموں کے حاکم کی بارگاہ میں سر جھکائے وہ کبھی کسی چھوٹے اور مٹ جانے والے حاکم کے سامنے سر نہیں جھکا سکتا۔ بھلا میں اپنے ہی جیسے ایک مجبور و بے بس انسان کو سجدہ کروں۔ ہر گز نہیں ۔ کیونکہ سجدہ خدا کے سوا کسی کو جائز نہیں۔

جہانگیر آپ کے یہ کلمات سن کر آپے سے باہر ہو گیا۔ اس کے غصے کی انتہا نہ رہی۔ اس کے سان گمان میں بھی نہیں تھا۔ کہ کوئی شخص اتنی دلیری، بے باکی اور جرا?ت سے گفتگو کرے گا۔ اس نے فوراً آپ کے قتل کئے جانے کا حکم دے دیا۔ ? اللہ اکبر ? حکم قتل پا کر آپ کے چہرے پر مطلق کسی پر یشانی اور خوف و ہراس کے آثار پیدا نہیں ہوئے۔ نہایت استقلال اور حوصلے کے ساتھ کھڑے رہے۔ مگر اس خدا کی حکمت دیکھئے۔ کہ تھوری ہی دیر میں جہانگیر نے اپنا فیصلہ بدل دیا اور بجائے قتل کے قید کیے جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ قید کر دیے گئے اس کے علاوہ جہانگیر کے حکم سے آپ کا گھر بھی لوٹا گیا۔ یہ وقت اصل میں وہ تھا کہ جس کی پیشن گوئی آپکے قیدہونے سے بہت پہلے اپنے درویشوں مریدوں اور معتقدوں سے کر چکے تھے۔ آپ کے قید کیے جانے کی اطلاع پا کر سب سے پہلے شاہجہاں نے آپ سے رجوع کیا۔ اس نے اپنے خاص الخاص دو معتمد افضل خان اور خواجہ عبدالرحمان کو آپ کی خدمت میں بھیجا اور فقہ کی وہ کتابیں جن میں سجدہ تعظیمی کی اباحت بیان کی گئی تھی۔ ہمراہ بھیجیں اور کہلا بھیجا کہ اگر آپ بادشاہ سے ملاقات کے وقت سجدہ تعظیمی کر لیں تو میں ذمہ لیتا ہوں کہ آپ کو مطلق کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔آپ نے شاہجہاں کے پیغام میں اسے یہ جواب ارشاد فرمایا کہ ہر چند جان بچانے کے لیے یہ بھی جائز ہے۔ لیکن عزیمت اسی میں ہے کہ غیر اللہ کو سجدہ نہ کیا جائے۔ جہانگیر نے حکومت کے بڑے بڑے اراکین کو آپ کے قید کئے جانے سے پہلے ہی مختلف علاقوں کے گورنر بنا کر ادھر ادھر بھیج دیا تھا۔ مصلحت اس کے نزدیک یہ تھی کہ آپ کے اوپر گرفت کرنے میں اسے آسانی رہے۔ لیکن جب ان گورنروں کو آپ کی گرفتاری کا علم ہوا تو سب نے آپس میں ایکا کر کے جہانگیر کے خلاف بغاوت کر دی حتیٰ کہ مہابت خان، مرتضیٰ خان، تربیت خان ، سید صدر جہاں، اسلام خان، خان جہاںلودھی ، حیات خان، دریا خان، غرض یہ کہ آپ کے تمام معتقدین جہانگیر کے مقابلے کو نکل ا ئے۔

مہابت خا ن نے بادشاہان بدخشان و خراسان اور تران سے امداد لے کر جہانگیر پر لشکر کشی کا حکم دے دیا۔ جہانگیر بھی اپنی فوج و سباہ لے کر مقابلے کو نکلا۔ ابھی دونوں لشکر مقابلہ پر آنے ہی کو تھے کہ جہانگیر کے لشکر سے بہت سے آدمی مہابت خان سے جا ملے۔ آخر جہانگیر اور آصف جاہ دونوں کو مہابت خان نے گرفتار کر لیا اور خطبے و سکے سے اس کا نام باہر نکال دیا۔ اس کے بعد مہابت خان نے آپ کی خدمت درخواست کی کہ ہماری خواہش ہے کہ مغل سلطنت کے تخت شاہی پر اب آپ جلوہ افروز ہوں۔ آپ نے اس کے جواب میں مہابت خان کو لکھا۔ مجھے سلطنت پانے اور حکومت کرنے کی ہر گز ہوس نہیں اور میں تمہارے اس فتنہ و فساد کو پسند نہیں کرتا۔ میں نے جو قید و بند کی صعوبتیں اٹھائی ہیں وہ کسی اور مقصد کے لئے ہیں۔ وہ مقصد جب پورا ہو جائے گا تو میں آپ سے آپ قید سے رہائی پا لوں گا۔ یہ فساد میرے مقصد میں حائل ہے بہتر ہے کہ تم بغاوت سے باز آجاو? اور فوراً اپنے بادشاہ کی اطاعت قبول کر لو ۔ میں بھی انشاءاللہ جلد ہی قید سے رہائی پا لوں گا۔ اسی اثنا میں نور جہاں کو بھی گرفتار کیا جا چکا تھا کہ جہانگیر و آصف جاہ کی گرفتاری کی اطلاع پر انہیں چھڑانے آئی تھی قریب تھا کہ مہابت خان کے غیض و غضب سے یہ تینوں اپنے کیے کی سزا پا لیتے کہ آپ کا خط آ گیا۔ مرشد کے حکم کی تعمیل کی ۔ مہابت خان جہانگیر کے پاس آیا اور کہا کہ میں آپ کو مرشد کے حکم سے رہا کرتا ہوں اور اس کے بعد جہانگیر کو تخت شاہی پر بٹھا کر تمام آداب شاہی بجا لایا۔

تذکرہ نویسوں کا بیان ہے کہ آپ کامل ایک برس تک زنداں میں پڑے رہے۔ جہانگیر نے جب دیکھا کہ ان کے مریدوں نے جوش محبت میں آکر بغاوت کی اور قریب تھا کہ سلطنت مغلیہ کا چراغ گل کر دیا جاتا ?۔ ایسے حالات میں بھی آپ نے سلطنت سے کوئی دل چسپی نہیں لی۔ بلکہ انہوں نے اپنے مریدوں کو بغاوت سے روک دیا تو اس کے دل میں بد کردار لوگوں کے پیدا کیے ہوئے آپ کے خلاف شکوک و شبہات جاتے رہے اور اس نے آپ کو نہایت ادب و احترام کے ساتھ رہا کر دیا۔ جو اللہ کے ہو جاتے ہیں اللہ ان کاہوجاتا ہے۔ بھلا ان کی نگاہوں میں دنیا کی کیا قدر و قیمت رہتی ہے۔ جہانگیر نے واقعات کی روشنی میں ایک طرف آپ کی بے نفسی دیکھی تو دوسری طرف نور جہاں اور اس کے بھائی آصف جاہ کی سازشوں کو دیکھ لیا۔ جناب شیخ سرہندی اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے۔ آصف جاہ اور نورجہاںکی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ اس کے بعد جہانگیر کو آپ سے اتنی عقیدت پیدا ہوئی کہ کشمیر سے آتے جاتے دو مرتبہ آپ کے لنگر یا باورچی خانے سے کھانا کھاتا۔ اگرچہ کھانا سادہ ہوتا۔ لیکن وہ تعریف کئے بغیر نہ رہتا۔ کہتا۔ کہ میں نے ایسا لذیذکھانا آج تک نہیں کھایا۔تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ جہانگیر آخیر عمر میں اکثر یہ بات کہا کرتا کہ میں نے کوئی کام ایسا نہیں کیا جس سے نجا ت کی امید ہو۔ البتہ میرے پاس ایک دستاویز یہ ہے۔ کہ مجھ سے ایک روز جناب شیخ احمد سرہندی نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں لے جائے گا تو ہم تیرے بغیر ہر گز نہیں جائیں گے۔ غرض یہ تھے وہ احوال مسلمانوں اور برائے نام مسلمان حکومت کے جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مسلمانوں کے ایمان کی تجدید کرنے کا موقع دیا اور آپ کو الف ثانی کا مجدد بنا دیا۔ جیسا کہ یہ پہلے تحریر کیا جا چکا ہے۔ آپ نقشبندی سلسلے کے بزرگ خواجہ باقی باللہ کے مرید ہوئے۔ اس لئے آپ سے تصوف کا جو سلسلہ آگے چلا اسے مجددیہ نقشبندیہ کہا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ جناب خواجہ بہاو?الدین نقشبندی سے شروع ہوتا ہے۔ تذکرہ نگاروں نے اس کی وجہ تسمیہ یوں بیان کی ہے کہ وہ کپڑے پر نقش و نگار اور گل بوٹے نکالنے کا کام کرتے تھے۔ حق تو یہ ہے کہ نقشبندی سلسلہ بھی حضرت علیہی پر جا کر منتہی ہوتا ہے۔ جو لوگ اسے حضرت صدیق اکبر سے جا ملاتے ہیں وہ صرف اس رعایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں کہ جناب امام جعفر صادق کو اپنے نانا جناب ابو بکر صدیق سے بھی انتساب حاصل ہے۔
شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی کی رائے۔
جناب شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی نے اپنی کتاب ?قول جمیل? میں نقشبندی طریقت کا شجرہ اس طرح بیان کیا ہے۔ شیخ احمد سرہندی نے خواجہ باقی بااللہ سے فیض باطنی حاصل کیا۔ جناب خواجہ نے خواجہ محمد امکنگی سے ۔ جناب امکنگی نے مولانا محمد درویش اور مولانا محمد زاہد سے جناب زاہد درویش نے خواجہ عبیداللہ احرار سے احرار نے مولانا یعقوب چرخی اور خواجہ علاو?الدین غجد وانی سے غجدوانی و چرخی نے خواجہ علاو?الدین عطار اور خواجہ محمد پارسا سے۔ پارسا و عطار نے خواجہ بہاو?الدین بانی سلسلہ نقشبندیہ سے۔ خواجہ نقشبند نے بہت سے بزرگوں کی صحبت پائی جن میں سب سے زیادہ مشور خواجہ محمد سماسی اور ان کے خلیفہ امیر سید کلال ہیں۔ خواجہ سماسی نے خواجہ علی رامتینی سے انہوں نے خواجہ محمود ابو الخیرفغنوی سے فغنوی نے عارف کریوی سے۔ کریوی نے خواجہ عبدالخالق غجدوانی سے غجدوانی نے خواجہ یوسف ہمدانی سے۔ ہمدانی نے جناب علی نارمدی سے ۔ نارمدی کے بہت سے مشائخ تھے۔ جن میں سے امام ابوالقاسم قشیری اور خواجہ ابو القاسم گرمانی خاص کر مشہور ہیں۔ گرمانی و قشیری نے جناب ابو بکر شبلی سے شبلی نے سیدالطائفہ جناب جنید بغدادی سے ۔ بغدادی نے اپنے ماموں شیخ سری سقطی سے سقطی نے معروف کرخی سے ۔ کرخی نے بہت مشائخ کے علاوہ امام علی بن موسیٰ رضا سے ۔ موسیٰ رضا نے اپنے والد امام موسٰی کاظم سے۔ جناب کاظم نے اپنے والد امام جعفر صادق سے ۔ جناب صادق نے اپنے والد امام باقر سے ۔ جناب باقر نے اپنے والد امام زین العابدین سے۔ جناب زین العابدین نے اپنے والد جناب امام حسین سے اور انہوں نے جناب علی بن ابی طالب سے ۔ علی بن ابی طالب نے جناب محمد رسول اللہ سے فیوضات باطنی حاصل کیے۔

شاہ ولی اللہ لکھتے کہ جناب معروف کرخی کے دوسرے مشہور شیخ ۔ شیخ داو?د طائی ہیں۔ جو فضیل، حبیب عجمی اور ذوالنون مصری کے فیضیافتہ تھے اور ان تینوں بزرگوں نے تابعین اور تبع تابعین سے بہت سے شیوخ کی صحبت و برکت سے فیض حاصل کیا۔ جناب خواجہ کو جناب علی ابن ابی طالب کے شاگرد و مرید ہونے کی سعادت میسر آئی۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں امام جعفر صادق کو اپنے نانا جناب قاسم بن ابو بکر صدیق سے بھی انتساب حاصل ہے۔ جناب قاسم نے سلمان فارسی سے فیض پایا۔ جناب فارسی نے ابوبکر صدیق سے اور ابو بکر صدیق نے جناب محمد رسول للہ سے فیض پایا۔
افکار و نظریات:۔
ابتدا میںجناب مجدد نظریہ وحدت الوجود کے قائل تھے۔ چنانچہ جب اسی عقیدے کی روشنی میں آپ نے ایک رباعی لکھ کر جناب خواجہ باقی باللہ کی خدمت میں پیش کی تو جناب خواجہ نے اپنے بلند اقبال اور طالع مند مرید مجدد الف ثانی کو فوراً ایک خط لکھا اور سختی سے تنبیہہ کی کہ وہ ملحدانہ رباعی جو آپ نے لکھی تھی ۔ آپ نے اس میں بہت ہی نا سمجھی اور کم عقلی کی ہے۔ ایسی لغو رباعی لکھنے والا مقبول نہیں ہو سکتا اس لیے ادب کو نگاہ میں رکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ بڑ ا غنی اور غیر ت مند ہے۔ مرید با سعادت نے مرشد کامل کے فرمان کو چشم بصیرت سے دیکھا اور گوش ہوش سے سنا اور مراد کو پہنچ گئے۔ چنانچہ اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ ابتداً مجھے سلوک کی تین منزلوں سے گزرنا پڑا۔ ?اولاًوجودیت? دوم ?قلیت?سوم? عبدیت? یعنی پہلے مرحلے میں جناب مجدد الف ثانی وحدت الوجو د کے قائل تھے اور کائنات میں عیفیت کا اعتراف کرتے تھے۔ دوسرے مرحلے پر پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ کائنات کا سجود تو ہے۔ لیکن وہ حقیقت مطلقہ کاظل ہے۔ یہاں دوئی کا تصور پیدا ہوا اور ان کی نگاہ میں وحدت الوجود کے مسئلے کی صداقت کھٹکنے لگی۔ پھر جب آپ عبدیت کے مقام پر پہنچے تو خداداد کائنات میں دوئی بدرجہ اتم ثابت ہو گئی اور انہوں نے مسئلہ وحدت الوجود کو باطل ثابت کر دیا۔

وحدت الوجود:۔ خدا کے سوا عالم میں کوئی اور شے ہے ہی نہیں یا جو کچھ ہے وہ ہے ہم سب۔۔۔۔۔۔ہم سب کچھ نہیں اس عقیدے یا نظریے کا نام وحدت الوجود یا ہمہ اوست ہے۔ اس عقیدے کی رو سے صوفیوں کے نزدیک یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کے سلسلہ کائنات سے ایک الگ اور جداگانہ ذات ہونے کا خیال صحیح نہیں۔ جیسا کہ اہل ظاہر کی رائے ہے اگرچہ یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ سلسلہ کائنات سے الگ نہیں تمام صوفیائے کرام کے نزدیک تسلیم شدہ امر ہے۔ لیکن اس عقیدے کی تعبیر میں ان کے یہا ں بھی اختلاف ہے مولانا روم کہتے ہیں کہ لوہا جب آگ میں گرم کیا جاتا ہے تو وہ گرمی? آتش پکڑ کر ہمرنگ آگ بن جاتا ہے اگرچہ وہ آگ نہیں بن جاتا۔ تا ہم اس میں آگ کی تمام خاصیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ حتی ٰ کہ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ آگ ہو گیا ۔ وجود صوفیاءکہتے ہیں کہ حدیث نبوی میں ہے۔ کہ ?خلق الآدم علیٰ صورتہ? ????یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے ۔ چنانچہ اسی مناسبت سے انسان میں جو مختلف صفات پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب صفات ربانی ہیں یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ مظہر خدا وندی ہیں۔

صوفیائے کرام کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے نام ہیں۔ مثلاً رحیم ۔ ستار ۔ غفار۔ قھار ۔ جبار ۔ رزاق یعنی مسمی واحد اور اسماءسے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہر اسم سے ایک ہی ذات مراد لی جاتی ہے۔ گویا اس اعتبار سے واحد مسمی کے متعدد اسماءاس کے عین ہیں اور یہ تمام اسماءاس کی صفات پر دلالت کرتے ہیں۔ پھر یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ صفات سے ممکنات کا ظہور ہوا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کائنات کی ہر شے کسی نہ کسی اسم کی مظہر ہے۔ اس لئے ثابت یہ ہوا ہے کہ موجودات کی ہر چیز عین ذات ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام موجودات کا ظلّ اور ان کی اصل ہے۔ کائنات اس کا ظلّ اور ظلّ حقیقت میں اصل کا مظہر ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا جب زمین پر سایہ پڑتا ہے تو بظاہر وہ ایک الگ شے معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں جو کچھ ہے انسان ہی ہے۔ اسی طرح کائنات کا وجود غیر حقیقی اور صرف خیال ہے۔ وجو د صرف خدا کا ہے۔ کائنات و کثرت صرف وحدت کے اعیان و مظاہر کی حیثیت سے دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ اس کے اپنا کوئی وجو دنہیں۔ اس لئے وجودہے وہ وحدت ہی کا ہے۔ وحدت کے اس عقیدے کی بدولت بعض اذہان اس خیال کی طرف جاتے ہیں کہ فرعون جو خدا ہونے کا مدعی ہوا۔ اس نے کیا غلط کیا اور انا الحق کی جو آواز منصور کے منہ سے نکلی اس میں کیا برائی تھی ۔ جب وحدت الوجود کے نظرئیے کی رو سے ہر شے خدا ہے تو ناحق ان لوگوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ در حقیقت یہ مسئلہ اس قدر نازک ہے کہ اگر اس کی تعبیر میں ذرا سی بھی لغزش ہو جائے تو اس کی حدیں کفرو الحاد اور زند یقیت سے جا ملتی ہیں۔

وحدت الشہود:۔گیارہوی صدی ہجری میںجناب مجدد الف ثانی نے شیخ اکبر کے وحدت الوجود کے عقیدے کی تردید کی۔ شیخ اکبر ابن عربی کا استدلال یہ تھا کہ ذات صفات کی عین ہے۔ کائنات ، صفات کی تجلی ہے اور چونکہ صفات ۔عین ذات ہیں اس لیے کائنات بھی عین ذات ہے۔ جناب مجدد نے فرمایا۔ صفات عین ذات نہیں بلکہ زائد علی الذات ہیں۔ ا للہ تعالیٰ کا وجود اپنی ذات میں کامل ہے۔ اسے اپنی تکمیل کے لیے صفات کی احتیاج نہیں۔ صفات اس کے وجود کے تعنیات ہیں۔ وہ موجود ہے لیکن اس کا وجود خود اس کی ذات سے ہے۔ وہ سمیع ہے اپنی ذات سے وہ علیم ہے اپنی ذات سے۔ وہ بصیر ہے۔ اپنی ذات سے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی صفات ۔ عین ذات نہیں بلکہ اس کی ذات کے اظلال ہیں۔ پس مجدد صاحب کے اس نظریئے سے یہ معلوم ہوا کہ کائنات اس کی صفات کی تجلی کا نام نہیں بلکہ اس کی صفات کا ظلّ یعنی پر تو یا سایہ ہے اور ظلّ کبھی عین اصل نہیں ہوتا اور مظہر کبھی عین ظاہر نہیں ہوتا۔ یہ ہے مجدد صاحب کا وہ نظریہ جسے عقیدہ وحدت الشہود کہتے ہیں۔ بقول مولانا شبلی کے وحدت الوجود اور وحدت الشہو د کے نظریے میں فرق یہ ہے کہ وحدت الوجود کے عقیدے کے لحاظ سے ہم ہر شے کو خدا کہہ سکتے ہیں ۔ جس طرح حباب اور موج کو بھی پانی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن وحدت الشہود میں یہ اطلاق جائز نہیں۔ کیو نکہ جس طرح انسان کے سائے کو انسان کہنا محال ہے۔ اسی طرح اظلال صفات کو خدا نہیں کہا جا سکتا۔ مظہر کے عین ظاہر نہ ہونے کے باب میں جناب مجدد فرماتے ہیں۔ فرض کیجئے کہ ایک صاحب فن اپنے طرح طرح کے کمالات کا اظہا کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ حروف واصوات ایجاد کرتا ہے۔ یہ حروف و اصوات کمالات کا آئنہ بن کر کمالات کے ظہور کا باعث بنتے ہیں لیکن ان حروف و اصوات کو جو مرایائے کمالات ہیں عین کمالات قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پس یہ بات قطعی طے ہو گئی کہ اس کائنات کو صفات ذات کا مظہر تسلیم کر لینے سے بھی مظہرعین ظاہر ثابت نہیںہو سکتا۔

شیخ اکبر نے کائنات کی نفی سے وحدت کے وجود پر جو استدلال کیا ہے جناب مجدد کے نزدیک یہ بات شیخ نے مقام فنا میں کہی ہے وہ فرماتے ہیںکہ جب صوفی اس مقام سے کسی بلند تر مقام پر پہنچتا ہے تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے۔ فنا کے مقام میں محبوب کی محبت کے غلبے کے باعث ہر چیز مستور ہو جاتی ہے اور چونکہ صوفی محبوب کے علاوہ کسی کودیکھتا ہی نہیں اس لیے وہ محبوب کے سوا کسی شے کو موجود نہیں پاتا۔ اگرچہ شیخ اکبر نے اثبات باری تعالیٰ سے کائنات کی نفی پر استدلال کیا ہے تا ہم جناب مجدد کہتے ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کے اثبات سے کائنات کے وجود سے انکار لازم نہیں آتا۔ مثلاً اگر کوئی شخص آفتاب کے وجود کا یقین رکھتا ہے تو اس یقین محکم سے یہ لازم نہیں کہ وہ آفتاب کے چمکنے پر ستاروں کو پیش نظر نہ پا کر سرے سے ان کے وجود ہی سے انکار کر دے۔ جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ ستارے ہیں لیکن آفتاب کے نور کی تابش سے مستور ہو گئے ہیں۔ اس لئے وہ ان کے وجود کا منکر نہیں ہو سکتا اسی طرح ذات باری تعالیٰ کے اثبات سے کائنات کی نفی کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ در حقیقت وجود کائنات کی نفی کرنا تعلیمات اسلام کے یکسر خلاف اور منشائے وحی الٰہی کے بالکل برعکس ہے۔ مجدد صاحب فرماتے ہیں۔ کہ اگر کائنات کا وجود نہ ہو تو جملہ اوامرو نواہی سب کے سب عبث و بیکار ٹھہرتے ہیں ۔ ان کا پھر کوئی معنی و مقصد سمجھ میںنہیں آتا اور تمام عقائد باطل ہو جاتے ہیں غرض عذاب و ثواب۔ جزاو? سزا۔ اجر و گناہ دین و دنیا۔ عقبی و آخرت یہ تمام باتیں بے معنی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر کائنات کا واقعی کوئی وجود نہیں تو پھر خدا نے کس شے کو بنایا۔ اس کی وہ کیا مخلوق ہے جس کا وہ خالق ٹھہرا۔ ؟پس یہ ماننا پڑے گا کہ کائنات کا وجود ہے۔

آیت قرآنی (ترجمہ)کہ ہم انسان سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ اس سے شیخ اکبر نے قربت کو جو ? عینیت ? قرار دیا ہے۔ مجدد صاحب نے اس سے بھی اختلاف کیا ہے۔ آپ کے نزدیک قربت کو عینیت خیال کرنا صحیح نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب اس کی کیفیت کا فہم و ادراک ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ہمارے دماغ اور ذہن اس کے مفہوم کا تعین کس طرح کر سکتے ہیں اور قربت کو کیونکر عینیت قرار دے سکتے ہیں ۔ نیز اس حدیث نبوی کے بارے میں (ترجمہ)کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ مجدد صاحب کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا مجسمہ ہے یا انسان عین خالق ہے بلکہ اس سے کہنا یہ ہے کہ ?روح ربانی? کی طرح ?روح انسانی? بھی لامکانی ہے اور اسی اعتبار سے دونوں میں مشاہبت ہے۔ بصورت دیگر خالق و مخلوق میں قطعاً کوئی عینیت نہیں ہو سکتی مجدد صاحب فرماتے ہیں۔ ایک مکڑی جو بڑے حزم و احتیاط سے اپنا جالا بناتی ہے۔ ا س ذات سے کیونکر عینیت کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ جو پلک چھپکنے میں زمین و آسمان کو درہم برہم کر سکتی ہے۔ مجدد صاحب کے نزدیک ?من عرف نفسہ فقد عر ف ربہ ? سے بھی انسان کا عین خدا ہونا ثابت نہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ معرفت نفس کا مقصد یہ ہے ک کسی شخص کے اپنے نقائص و محاسن اس کی ذا تی کوششوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے فضل و کرم سے حاصل ہوتے ہیں۔ تمام کمالات و محاسن کا اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سر چشمہ ہے اور صرف اسی نقطہ نظر سے معر فت نفس اللہ کی ذات کی معرفت کا ذریعہ قرار پا سکتی ہے۔

سلسلہ نقشبندیہ کی خصو صیات:۔نقشبندی سلسلہ جسے ہندوستان میں خواجہ باقی باللہ نے قائم کیا اور ان کے بعد آپ کے مرید یگانہ روزگار جناب مجدد الف ثانی نے اسے ترقی دی یہ سلسلہ اسلام کی شریعت کے عین مطابق ہے۔ تصوف کے دوسرے سلسلوں کی طرح اس میں شریعت اسلامی سے مطلقاً کوئی آزادی نہیں۔ مثلاًسجدہ تعظیمی ۔ قبروں پر روشنی ، غلاف اور چادر ڈالنا، پیروں کے قدم چومنا، مرید عورتوں کا اپنے پیروں سے بے پردہ رہنا غرض اس قسم کی تمام باتوں کی قطعاً اجازت نہیں۔ نقشبندی سلسلے میں یہ تمام باتیں شریعت اسلام کے با لکل خلاف ہیں۔ اس کے علاوہ چلہ کشی، ذکر با الجہر اور سماع با لمز امیر وغیرہ مراسم اختیار کرنے بھی مناسب نہیں سمجھے جاتے۔ نقشبندیوں کو صحابہ کرام کی سے زندگی ۔ انہی کی طرح بودوباش ، وضع قطع اور معاشرت اختیار کرنے کی تلقین کی جاتی ہے اور نقشبندی سلسلے میں صحابہ کرام تمام اولیائے عظام سے افضل مانے جاتے ہیں ۔ المختصر شریعت اسلام کی تمام و کمال پیروی کرنا اس مسلک کی بنیاد اولین ہے۔چنانچہ اس سلسلے میں جناب مجدد صاحب فرماتے ہیں۔ بعض درویشوں پر مجھے تعجب ہوتا ہے۔ کہ وہ شریعت کی مخالفت پر جرا?ت کرتے ہیں۔ حالانکہ شریعت وہ شے ہے کہ اگر جناب عیسیٰ و موسیٰ بھی ہمارے پیغمبرجناب محمد رسول اللہ کے بعد ہوتے تو وہ بھی اس شریعت کے تابع ہوتے۔ نقشبندی سلسلہ جناب مجدد کی مساعی سے ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل گیا اور ہندوستان سے باہر بھی نقشبندی سلسلے کے مراکز قائم ہوئے جنہیں آپ کے بے شمار خلفاءو مریدین نے آپ کے بعد اپنی کوششوں سے مضبوط و مستحکم کیا۔

جناب مجدد مکتوبات کے آئنہ میں:۔ردّ بدعت ، مخالفت شیعت اور احیائے اسلام یہ تین موضوع جناب مجدد کی تمام تر مساعی کا ماحصل ہیں۔ آپ کے مکتو بات کے مضامین انہی تین امور پر مشتمل ہیں۔ وہ لوگ جو گوشہ تنہائی میں تسبیح لئے بیٹھے تھے۔ جن کو دنیا کے کاموں سے مطلق کوئی سروکار نہ تھا۔ جن کو صرف گوشہ عافیت ہی میں بھلائی نظر آتی تھی۔ جناب مجدد نے انہیں دلیر کیا۔ ان کی ہمت بندھائی اور ان سے کہا کہ یہ وقت نہیں ہے کسی کونے یا گوشے میں جا کر بیٹھ رہنے کا۔ یاد خدا کرنا ہے تو میدان عمل میں آو? تسبیح کے دانے بکھرے ہوئے ہیں انہیں قوت عمل سے پرونے کی ضرورت ہے۔ اٹھو اور خدا کی راہ میں جہاد کرو کہ اس وقت یہ جہاد ہزار عبادتوں کی ایک عبادت ہے کفر کی طاقت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اگر وقت پر اس کی مدافعت نہ کی گئی تو یاد رکھو کہ تم دنیا سے مٹ جاو? گے اور کہیں تمہارا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ جناب مجدد کے حساس دل پر خلاف اسلام واقعات کا بڑا اثر تھا۔ اس لیے وہ صرف بادشاہ کے مخالف نہ تھے بلکہ غیر مسلموں سے بھی سخت نفرت کرتے تھے اور جزبہ انتقام ہر وقت ان کو بے چین کئے رکھتا تھا۔ اگرچہ اکبر کا دور ختم ہو چکا تھا۔ جملہ معترضہ کے طور پر اکبر کے بارے میں یہ بات مکرر سمجھئے کہ وہ کفر سے تائب ہو کر مرا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے مرتے وقت کلمہ شہادت دہرایا۔ سورة یٰسین پڑھوا کر سنی غرض اکبر کے بعد شہنشاہ جہانگیر کا دور حکومت شروع ہوا اور جہانگیر بھی کون؟ اکبر کا وہ بیٹا جو اکبر کے دین الٰہی کو پھیلانے اور اس کے ممدو مدگار بننے والے ابو الفضل ایسے لوگوں کا سخت مخالف بلکہ جانی دشمن تھا اور وہ جہانگیر جسے خواجہ باقی باللہ کے رکن السلطنت نواب مرتضیٰ خان شیخ فرید ایسے بااثر مرید نے صرف اس شرط پر اپنی ذات کا اعتماد بہم پہنچایا اور اس کی تخت نشینی کا اہتمام کیا تھا کہ وہ اسلام کی شریعت کے خلاف نہ چلے گا۔ ان تمام باتوں کے باوجود ہندوو?ں کی ناشائستہ اور دلآزار حرکتیں دن پر دن پڑھتی چلی جا رہی تھیں۔ جناب مجدد کے حساس دل پر ان اخلاق سوز و نا شائستہ حرکات کا گہرا اثر تھا۔ ان تمام باتوں کے سبب نہ صرف بادشاہ کے خلاف تھے بلکہ ان کو ہندوو?ں سے بھی سخت نفرت تھی۔ یہاں تک کہ ہندوو?ں سے انتقام لینے کا جذبہ انہیں ہر وقت بے چین کئے رکھتا تھا۔ چنانچہ شیخ فرید کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں۔ کفار بے تحاشہ مسجدوں کو شہید کر کے وہاں مندر بنا رہے ہیں۔ تھانیسر میں حوض کر کھیت کے درمیان ایک مسجد اور ایک بزرگ کا مقبرہ تھا۔ اسے گرا کر اس کی جگہ بڑا بھاری مندر تعمیر کرایا ہے۔ اس کے علاوہ کفار اپنی رسموں کو کھلم کھلا ادا کر رہے ہیں اور مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ ان کی شرارتوں اور مخالفتوں کے سبب اکثر اسلامی احکام کے بجا لانے سے قاصر ہیں ایکا دشی کے دن ہندو کھانا ترک کر دیتے ہیں کہ اسلامی شہروں میں بھی کوئی مسلمان اس روز روٹی نہ کھائے اور نہ بیچے اور ماہ رمضان المبارک میں ہندو برملا نان و طعام پکاتے اور بیچتے ہیں۔ مگر اسلام کے مغلوب ہونے کے باعث انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔ ہائے افسوس بادشاہ وقت ہم میں سے ہو اور پھر ہم فقیروں کا اس طرح خستہ اور خراب حال ہو۔

ایک خط میں انہی کے نام یوں لکھتے ہیں۔ پس اسلام کی عزت کفر اور کافروں کی ذلت میں ہے۔ جس نے کافرںکو عزیز رکھا۔ پس اس نے اسلام کو خوار کیا۔ کفار کے عزیز رکھنے سے فقط تعظیم کرنا اور بلند بٹھانا ہی مراد نہیں۔ بلکہ اپنی مجلسوں میں جگہ دینا۔ ان کی ہم نشینی کرنا اور ان کے ساتھ گفتگو کرنا ۔ سب اعزاز میں داخل ہے ۔ کتوں کی طرح ان کو دور کرنا چاہئے اور اگر دنیا وی غرض ان سے کوئی ہو اور بغیر انکے حاصل نہ ہوتی ہو تو پھر بھی بے اعتباری کے طریق کو مدّنظر رکھ کر ضرورت کے مطابق ان سے میل جول رکھنا چاہئے اور کمال اسلام تو یہ ہے کہ اس دنیاوی غرض سے بھی درگزر کریں اور ان کی طرف نہ جائیں۔ اسلام اور مسلمانوں کی عزت ۔ کفر اور کافروں کی ذلت میں ہے۔ جزیہ سے مقصود کافروں کی خواری اور ان کی اہانت ہے جس قدر اہل کفر کی عزت ہو۔ اسی قدر اسلام کی ذلت ہوتی ہے اس سر تشتہ کو اچھی طرح سے نگاہ میں رکھنا چاہئے۔ اکثر لوگوں نے اس سرتشتہ کو گم کر دیا ہے۔ اور دین کو برباد کیا ہے۔ شیخ فرید کانگڑہ کی فتح پر مامور تھے۔ اس علاقہ میں ہندوو?ں کا ایک بہت بڑا تیرتھ تھا۔ جس میںپرانی مورتی تھی۔ جناب مجدد چاہتے تھے ۔ کہ شیخ فرید اس کے توڑنے کی سعادت حاصل کریں چنانچہ لکھتے ہیں? ان بد بختوں اور ان کے جھوٹے خداو?ں کی تحقیر و توہین میں بہت کوشش کرنی چاہیے اور ظاہر و باطن میں جس قدر ہو سکے ان لوگوں کی بربادی و تباہی کا سامان پیدا کرنا چاہئے اور اس تراشیدہ و نا تراشیدہ بت کی ہر طرح سے اہانت کرنی چائے۔ امید ہے کہ بعض کوتاہیاں جو آپ سے وقوع میں آئی ہیں اس سے ا ن کی تلافی اور کفارہ ادا ہو جائے ۔بدن کی کمزوری اور سردی کی شدت مانع ہے ورنہ فقیرخود حاضر خدمت ہو کر اس امر کی ترغیب دیتا اور اس تقریب سے اس پتھرپر تھوکتا اور اسے اپنی سعادت کا سرمایہ جانتا۔

جناب مجدد مذکورہ بالا خیالات کی روشنی میں بظاہر ایک متشدد و متعصب شخصیت نظر آتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ ایسے نہیں تھے۔ چنانچہ اس خیال کے تحت وہ مرزا جعفر بیگ کے خط کے جواب میںلکھتے ہیں۔ ? میرے مخدوم جب کفار قریش نے اپنی کمال بدنصیبی سے اہل اسلام کی ہجو اور برائی میں مبالغہ کیا۔ تو جناب محمد رسول اللہ نے اسلام کے شاعروں کو حکم دیا کہ وہ کفار نگونسار کی ہجو کریں ۔ اس خط کے بیان سے یہ بات بالکل واضع ہو جاتی ہے کہ جناب مجدد الف ثانی کا یہ نقطہ نظر ہندوو?ں کے خلاف ان کی جارحانہ کاروائیوں کے باعث قائم ہوا۔ اصل میں اکبر نے ہندوو?ں کی جو تالیف قلوب کی یعنی انہیں جزیہ معاف کر دیا اور انہیں خوش کرنے کے لیے مسلمانوں پر گائے کی قربانی دینا خلاف قانون قرار دے دیا۔ اس سے ہندوو?ں میںہندو مذہب کے احیاءکی تحریک زور پکڑ گئی۔ قریب تھا کہ ہندو اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے کہ عین وقت پر جناب مجدد مقابلے پر آ گئے اور انہوں نے طرح طرح کی صعوبتیں اور قیدو بند کی مشقتیں اٹھا کر مسلمانوں کو برکشتگی سے بچا لیا۔ ورنہ اکبر کے ملحدانہ خیالا ت کا سہار الے کر ہندو تو چاہتے ہی یہی تھے کہ وہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو اسلام سے بر گشتہ کرنے میںکامیاب ہوجائیں۔ دراصل ہندوو?ں نے جہاں تک ظلم و تعدی سے ہو سکا اس سے کام لے کر ہندوستان کی ان قوموں کو اسلام سے پھیرنے کی بھر پور کوشش کی جوبزرگان دین کی ستو دہ صفات اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے زیر اثر اسلام قبول کر چکی تھیں اور جہاں بس نہ چلا وہاں اسلام کو ضعف پہنچانے کے لیے انہوں نے بھی اسی پالیسی کو اختیار کیا۔ جیسے ان سے کہیں پہلے وہ عجمی اختیار کر چکے تھے جو صرف ہنگامی حالات کے تحت مسلمان ہو گئے تھے۔ مگر دل سے اسلام کی بھلائی نہیں چاہتے تھے بلکہ اندر ہی اندر اسلام کی جڑیں کھو کھلی کرنے میں لگے رہے چنانچہ اسی پالیسی کے تحت ہر دے رام ایک ہندو نے جناب مجدد کی خدمت میں دو خط لکھے تھے۔ جس میں اس نے صوفیائے اسلام سے اپنی دلی محبت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اصل میں رحمان اور رام ایک ہی ذات کے دو نام ہیں مگر جناب مجدد ہر دے رام کے ان خطوں سے کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی بجائے۔ فوراً اس کے خبث باطن کو تاڑ گئے۔ چنانچہ آپ نے اس کے خطوں کے جواب میں ایک نہایت تہدید آمیز خط ارسال کیا۔ جس میںآ پ نے تحریر فرمایا تھا۔ کہ?رام اور کرشن جو ہندوو?ں کے معبود ہیں اللہ تعالیٰ کی کمینہ مخلوقا ت میںسے ہیں اورماں باپ سے پیدا ہوئے۔ رام جسرتھ کا بیٹھا تھا۔ لکشمن کا بھائی اور سیتا کا خاوند تھا۔ جب رام اپنی بیوی کو نگاہ میںنہ رکھ سکا تو پھر وہ دوسرے کی کیا مدد کر سکتا ہے۔ عقل دور اندیش سے کام لینا چاہئے اور ایک دوسرے کی دیکھادیکھی پر نہ چلنا چاہئے۔ بڑے شرم کی بات ہے۔ کہ تمام عالمین کے پیدا کرنے والے کو رام یاکرشن کے نام سے یاد کیا جائے ۔ رام و رحمان کو ایک جاننا سخت نادانی ہے ۔ جو شخص رحمان و رام کو ایک ہی ذات کے دو نام خیال کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص کسی عظیم الشان بادشاہ کو ?کمینہ خاکروب? کے نام سے یاد کر لے۔

خالق کبھی مخلوق کے ساتھ ایک نہیں ہوتا اور چوں بے چوں کے ساتھ متحد نہیں ہوتا۔ اس خط کے مضمون سے یہ بات قطعی واضع ہو گئی کہ جناب مجدد کے زمانے میں اکبر کے ملحدانہ خیالات کی بدولت ہندوستان کے مسلمانوںکی حیثیت کیا تھی وہ کن احوال سے دو چار تھے اور کس دو ر سے گزر رہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصر ت و حمایت کا سامان پیدا کیا اور اس الحاد و زندقہ سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے اپنے ایک بندے احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی کو قوت حق اور استقامت دین عطا کر کے باطل کی قوتوں کے مقابلے میں کھڑا کر دیا۔

اسلام کے تصوف پر ہندوستانی خیالات نے جس قدر گہرا اثر ڈالا تھا اور اکبر کے ملحدانہ خیالات نے ہندوو?ں کو جتنا بے باک اور اسلام کی دشمنی میں تیز کر دیا تھا۔ جناب مجدد الف ثانی نے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پا کر ان سب قباحتوں کا مکمل طور پر قلع قمع کر دیا۔ بنا بریں جناب ا حمد سر ہندی کو ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد دوسرے ہزار سالہ دور کا رہبر کہنا اور اسلام کی تعلیمات کی تجدید کرنے والا کہنا یعنی مجدد الف ثانی تسلیم کرنا حق بجانب ہے۔2

ابو بکر شبلی
ابو بکر بن دلف حجدر شبلینام
788ئتاریخ پیداءش
وجھ شھرت
جناب جنید بغدادی نے آ پکے مزاج سے گورنری کی بو باس نکالنے اور طبیعت میں عجزو انکسار پیدا کرنے کے لیے آ پکو بھیک مانگنے پر مقرر کیا۔ چنانچہ آپ روزانہ بھیک مانگنے جاتے اور جو کچھ لوگوں سے میسر آتا اسے لا کر فقراءو مساکین میں تقسیم کر دیتے مگر خود بھوکے رہتے
مجاہدات کے دوران آپ اس لیے اپنی آنکھوں میں نمک بھر لیتے تھے کہ نیند کا غلبہ نہ ہو سکے

ابوبکر بن دلف حجدر شبلی بعضوں نے جعفر بن یونس لکھاہے۔ ? ولادت?247ہجری سامرہ علاقہ عراق میں پیدا ہوئے اور شبلہ میں پرورش پائی ۔ اسی مناسبت سے آپ شبلی کہلاتے ہیں۔ شبلہ ایک گائوں کا نام ہے جو سمر قند سے آگے شہر اسروشنہ کے اطراف میں واقعہ تھا آپ کے خاندان کے افراد کسی زمانے میں عراق سے نکل کر یہاں آباد ہو گئے تھے۔ آپ نسلاًمصری تھے کہ ترکی اس کے بارے میں اختلاف ہے ۔ کسی نے آپ کو ترکی الا صل سمجھا ہے کسی نے خراسانی لکھا ہے اور کسی کے نزدیک آپ مصری تھے۔ آ پ کے والد ایک صاحب اثروثروت سردار تھے۔ آپ کے خاندان میں چونکہ دنیاوی وجاحت کے سوا کوئی علمی فضیلت نہیں تھی اس لیے آپ کی تعلیم کے بارے میں کچھ ٹھیک معلوم نہیں کہ کہاں پائی۔ اور کن کن بزرگوں سے اکتساب علم کیا البتہ اتنا ضرور علم ہے کہ آپ کا خاندان فقہ مالکی پر عمل کرتا تھا۔ ا ور آپ نے تیس برس تک فقہ پڑھی ۔ موطا امام مالک آپ کو زبانی یاد تھی۔

شبلی نے تعلیم سے فراغت پا کر شاہی ملازمت اختیار کر لی اور اپنے خاندان کی فوجی خدمات کے صلے میں نہاوند کے گورنر بنائے گئے۔ کہتے ہیں ایک مرتبہ عباسی خلیفہ المعتضد با اللہ کے جشن کی تیاریاں ہو رہی تھیں تمام بغداد نئی نویلی دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔ تمام ملکوں کے گورنر خلیفہ کے سامنے باادب ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ سوئے اتفاق سے ایک گورنر کو چھینک آ گئی اور ناک سے رطوبت بہنے لگی کوئی رومال پاس نہیں تھا۔ ناک پاک کر لی۔ خلیفہ نے گورنر کی اس حرکت کو دیکھ لیا۔ فوراً عتاب ہوا۔ گورنری جاتی رہی۔ خلعت چھین کر سخت بے عزت کر کے دربار سے نکال دیا۔ شبلی نے اس معاملے کو دیکھ کر اپنے دل میں خیال کیا کہ جس شخص نے شاہی خلعت کی توقیر نہ کی اس کا تو یہ انجام ہو مگر جو شخص حاکم الحاکمین کی خلعت کا احترام نہ کرے اور آداب خداوندی اس کے پیش نظر نہ ہو اس کا انجام کیا ہو گا؟ اس واقعہ نے آپ کے دل پر کچھ اس طرح اثر کیا کہ گورنری کو لات مار کر فقیر ہو گئے۔ مگر کس کے فقیر ہوئے لوگوں کے در کے ، نہیں، اللہ کے گھر کے اللہ کی محبت کے۔

اب شبلی کی حالت یہ تھی کہ جس شخص کے منہ سے اللہ کا لفظ نکل جاتا اس کا منہ اشرفیوں سے بھر دیتے۔ پھر ایک وقت ان کی مجزوبیت کا ایسا آیا کہ ننگی تلوار لے کر پھرا کرتے اور کہتے جو شخص خدا کا نام زبان پر لائے گا اس کا سر قلم کر دوں گا۔ لوگوں کو ان سے خوف آتا تھا۔ مگر ہمت کر کے ایک دن ایک شخص نے پوچھ ہی لیا کہ آپ اللہ کا نام لینے والوں کو قتل کرنے کے کیوں درپے ہیں؟فرمایا لوگ عادت پڑ جانے کے سبب اللہ کہتے ہیں ورنہ ان کے دلوں میں ارادہ اور خلوص نہیں رہا۔ ایک روز اللہ سے دعا کی اے پروردگار مجھے دو عالم عطا کر دے تا کہ میں ان کو نوالہ بنا کر کسی یہودی کے منہ میں رکھ دوں مجھے تیری محبت کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔ لکھا ہے کہ فقیری اختیار کرنے کے بعد جب آپ کسی صاحب نظر کی تلاش کرتے ہوئے جناب جنید بغدادی کی خدمت میں پہنچے تو بغدادی نے آپ کو اپنی صحبت میں اس شرط پر لینا قبول کیا۔ کہ آپ شدید سے شدید مجاہدے ، ریاضتیں کریں گے اور ان سے مطلق نہیں گھبرائیں گے۔ کہتے ہیں جناب جنید بغدادی نے آ پکے مزاج سے گورنری کی بو باس نکالنے اور طبیعت میں عجزو انکسار پیدا کرنے کے لیے آ پکو بھیک مانگنے پر مقرر کیا۔ چنانچہ آپ روزانہ بھیک مانگنے جاتے اور جو کچھ لوگوں سے میسر آتا اسے لا کر فقراءو مساکین میں تقسیم کر دیتے مگر خود بھوکے رہتے۔ لکھا ہے کہ بھیک مانگنے میںآپ کو بڑی دشواری پیش آتی ۔ لوگ سمجھتے کہ آپ محتاج و بے کس نہیں ہیں اس لیے کچھ نہ دیتے مگر پھر بھی جوں توں کر کے مرشد کی تعمیل میں آپ کو کچھ نہ کچھ لانا ہی پڑتا۔ ایک روز آپ سے جناب جنید نے پوچھا ۔ شبلی کہو اب تمہارے نفس کا کیا مرتبہ ہے؟ عرض کیا اب اپنے آپ کو تمام لوگوں سے ادنے درجہ پر پاتا ہوں ۔ یہ سن کر حضرت جنید نے فرمایا اب تمہارے ایمان کی تکمیل ہو گئی ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے غیبی ندا سنی کہ اسم ذات کےساتھ کب تک وابستہ رہے گا۔ اگر طلب صادق ہے تو مسمی کی جستجوکر یہ ندا سن کر عشق الہی میں ایسے مستغرق ہوئے کہ دریائے دجلہ میں چھلانگ لگا دی لیکن ایک موج نے پھر کنارے پر پھینک دیا۔ اس کے بعد اکثر مہلک و مہیب مقامات پر پہنچ کر خود کو ہلاک کرنے کی سعی کرتے رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے محبو ب بندوں کی خود حفاظت فرماتا ہے اس لیے کسی جگہ بھی کوئی گزند نہیں پہنچتی اور ہر روز ذوق و شوق میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔ آپ اکثر چیخ چیخ کر فرماتے کہ تعجب ہے اس شخص پر جو نہ پانی میں غرق ہو سکا اور نہ آگ میں جل سکا۔ نہ درندوں نے پھاڑ ا اور نہ پہاڑ سے گر کر ہلاک ہو سکا۔ پھر آپ نے یہ ندا سنی کہ جو مقبول الہی ہوتا ہے اس کو خدا کے سوا دوسرا کوئی قتل نہیں کر سکتا۔ آپ کے احوال یہاں تک پہنچ گئے کہ لوگوں نے دس مرتبہ زنجیروں میں جکڑا مگر آپ کو سکون میسر نہ آ سکا۔ پھر آپ کو پاگل تصور کر کے پاگل خانے بھیج دیا گیا اور ہر شخص آپ کو دیوانہ کہنے لگا۔

ایک مرتبہ عید کے دن سیاہ لباس میں ملبوس تھے اور وجد کا عالم تھا۔ لوگوں نے سیاہ لباس پہننے کی وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ ماتم میں سیاہ لباس پہنا ہے کیونکہ پوری مخلوق خدا سے غافل ہو چکی ہے ۔ ابتداءمیں آپ سیاہ لباس ہی استعمال فرماتے تھے۔ لیکن تائب ہونے کے بعد مرقع پہننا شروع کر دیا تھا۔ مجاہدات کے دوران آپ اس لیے اپنی آنکھوں میں نمک بھر لیتے تھے کہ نیند کا غلبہ نہ ہو سکے۔ ایک مرتبہ چمٹی لے کر آپ نے اپنا گوشت نوچنا شروع کر دیا ۔ تو حضرت جنید نے اس کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا کہ جو حقائق مجھ پر منکشف ہوتے ہیں اس کی مجھ میں طاقت نہیں ہے اس لیے یہ عمل کر رہا ہوں تا کہ ایک لمحہ کے لیے سکون مل سکے۔ آپ اپنے معمول کے مطابق تہہ خانے میں عبادت کرتے تھے ا ور لکڑیوں کا گٹھا اپنے ہمراہ لے جاتے کہ جب عبادت سے ذرا بھی غفلت ہوتی تو ایک لکڑی نکال کر خود کو زودو کوب کریں حتیٰ کہ ایک ایک کر کے تمام لکڑیاں ختم ہو جاتیں اور بعد میں آپ اپنے جسم کو دیواروں سے ٹکراتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میری پوری زندگی اسی خواہش میں گزر گئی کہ کاش ایک لمحہ کے لیے خدا تعالیٰ سے مجھے ایسی خلوت نصیب ہو جاتی کہ میرا وجود باقی نہ رہتا اور چالیس سال سے یہ تمنا ہے کہ کاش ایک لمحہ لئے خدا کو جان اور پہچان سکتا۔ کاش میں پہاڑوں میں اس طرح روپوش ہو جاتا کہ نہ تو مخلوق مجھ کو دیکھ سکتی اور نہ میرے احوال سے با خبر ہوتی ، پھر فرمایا کہ میں خود کو یہودیوں سے بھی زیادہ ذلیل تصور کرتا ہوں کیونکہ میں نفس و دنیا اور ابلیس و خواہشات کی بلائوں میں گرفتار ہوں اور مجھے تین مصیبتیں یہ بھی لاحق ہیں کہ میرے قلب سے اللہ تعالیٰ دور ہو گیا ہے۔ دوم ،میرے قلب میں باطل جا گزیں ہو گیا ہے۔ سوم ، میر ا نفس ایسا کافر بن گیا ہے کہ اس کو مصائب دور کرنے کا تصور تک نہیں آتا۔ پھر فرمایا کہ دنیا محبت کا اور آخرت نعمت کا مکان ہے۔ لیکن اس دونوں سے قلب بہتر ہے کیونکہ یہ معرفت الہیٰ کا مکان ہے ۔ جب آپ کے مراتب میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو آپ نے وعظ گوئی کو اپنا مشغلہ بنا لیا اور اس میں لوگوں کے سامنے حقیقت کا اظہار بھی کرنا شروع کر دیا جس پر حضرت جنید نے فرمایا کہ ہم نے جن چیزوں کو زمین میں مدفون کر رکھا تھا، تم انہیں بر سر منبر عوام کے سامنے بیان کرتے ہو۔ آپ نے جواب دیا کہ جن حقائق کا میں اظہار کرتا ہوں ۔ وہ لوگوں کے ذہنوں سے بالا تر ہیں۔ کیونکہ میری باتیں حق کی جانب سے ہوتی ہیں اور حق ہی کی جانب لوٹ جاتی ہیں اور اس وقت شبلی کا وجود درمیان میں نہیں ہوتا۔ حضرت جنید نے فرمایا کہ گو تمہارا قو ل درست ہے پھر بھی تمہارے لیے اس قسم کی چیزیں بیان کرنی مناسب نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ دین و دنیا طلب کرنے والوں کے لیے ہماری مجلس نشینی حرام ہے۔ آپ کے ہاتھ پر توبہ کرنے والا جب طریقت کا طلب گار ہوتا تو آپ حکم دیتے کہ صحرا میں جا کر توکل اختیار کرو اور بغیر زاد ِ راہ اور سواری کے حج کے سفرپر چلے جائو۔ اسی وقت تمہیں توکل و تجرد حاصل ہو گا اور جب ان دونوں مجاہدات سے فراغت پا لو اس وقت میرے پاس آنا کہ ابھی تمہارے اندر میری صحبت کی صلاحیت نہیں ہے۔ آپ اکثر تائب ہونے والوں کو اپنے اصحاب کے ہمراہ بغیر زاد راہ اور سواری کے صحرا میں بھیج دیا کرتے تھے اور جب لوگ یہ کہتے کہ آپ تو مخلوق کی ہلاکت کے درپے ہیں تو آپ جواب دیتے کہ میری نیت ہر گز یہ نہیں، لیکن جو لوگ میرے پاس آتے ہیں ان کا مقصد میری صحبت نہیں ہوتا بلکہ وہ معرفت الہیٰ کے متمنی ہوتے ہیں۔ اگر وہ مصاحبت کے خواہاں ہوں تو اگرچہ بت پرستی کے مرتکب کہلائے جائیں گے۔ لہذا ان کے واسطے یہی بہتر ہے کہ اپنی حالت پر قائم رہیں کیونکہ فاسق موحد رہبانیت پسند زاہد سے افضل ہے۔ اسی وجہ سے میں اپنے پاس آنے والوں کو خدا کا راستہ بتا دیتا ہوں۔ اس میں اگر وہ ہلاک بھی ہو جائیں جب بھی اپنے مقصد سے محروم نہیں رہیں گے۔ اگر سفر کی صعوبتیں حاصل کر لیں گے تو انہیں وہ مقام حاصل ہو جائے گا جو دس سالہ مجاہدات سے بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ ہم آپ کو غیر اطمینانی حالت میں دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ یا تو آپ خدا کے ساتھ نہیں یا خدا آپ کے ساتھ نہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ اگر میں اس کے ساتھ ہوتا تو میں ہوتا لیکن میں تو اس کی ذات میں گم ہو گیا ہوں، پھر فرمایا کہ میںہمیشہ اس خیال سے خوش ہوتا رہا کہ مجھے خدا کا مشاہدہ و انس حاصل ہے لیکن اب محسوس ہو اکہ انس تو صرف اپنے ہی ہم جنس سے ہو سکتا ہے۔

حضرت جنید نے پوچھا کہ جب تمہیں ذکر الہی میں صدق حاصل نہیں تو تم کس طرح اس کو یاد کرتے ہو؟ آپ نے فرمایا کہ میں مجازی اعتبار سے جب اس کو بکثرت یاد کرتا ہوں تو ایک مرتبہ وہ بھی مجھے حقیقت کے ساتھ یاد کر لیتا ہے۔ حضرت جنید یہ جملہ سن کر نعرے لگاتے ہوئے بیہوش ہو گئے۔ آپ نے فرمایا کہ بارگاہ الہی سے کبھی تو خلعت عطا کیا جاتا ہے اور کبھی تازیانہ۔ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے پوچھا کہ دنیا ذکر و شغل کے لیے ہے اور عقبی احوال کے لیے ، لہذا راحت کس جگہ مل سکتی ہے؟فرمایا کہ دنیا کے ذکر و شغل سے بے نیاز ہو جائو تا کہ احوا ل آخرت سے نجات حاصل ہو جائے۔ ایک دن آپ کوعالم وجد میں مضطرب دیکھ کر حضرت جنید نے کہا کہ اگر تم اپنے امور خدا کے سپرد کر دو تو تمہیں سکون مل سکتا ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ مجھے تو اس وقت سکون مل سکتا ہے جب اللہ تعالی میرے امور میرے اوپر چھوڑ دے۔ یہ سن کر حضرت جنید نے فرمایا کہ شبلی کی تلوار سے خون ٹپکتا ہے۔ آپ نے کسی کو ?یا رب? کہتے سن کر فرمایا کہ تو کب تک یہ جملہ کہتا رہے گا جبکہ اللہ تعالیٰ ہر وقت عبدی عبدی فرماتا رہتا ہے۔ لہذا اس کی بات سن لے۔ اس نے جواب دیا کہ میں تو عبدی عبدی ہی سن کر یا رب یا رب کہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر تو تیرے لیے یہ جملہ کہنا جائز ہے۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری گردن میں آسمان کا طوق اور پائوں میں زمین کی بیڑی ڈال دے اور ساری دنیا بھی دشمن ہو جائے جب بھی میں اس سے منہ نہیں پھیر سکتا۔

وفات کے وقت جب آپکی نگاہوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تو ناقابل بیان حد تک بیقرار ہو کر لوگوں سے راکھ طلب کر کے اپنے سر پر ڈالتے رہے لوگوں نے بیقراری کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ اس وقت مجھے ابلیس پر رشک آ رہا ہے اور آتش رشک میرے تمام جسم کو بھسم کئے دے رہی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو خلعت لعنت سے نوازا۔ لیکن مجھ تشنہ کو خدا نے وہ خلعت کیوں نہیں عطا ءفرمایا۔ لعنت کیاخلعت شیطان کے لیے مخصوص ہے لیکن اس کا عطا کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کی خلعت کا مستحق ابلیس کبھی نہیں ہو سکتا۔ یہ کہہ کر آپ خاموش ہو گئے۔ لیکن پھر عالم اضطراب میں فرمایا کہ اس وقت کرم کی ایک ہوا چل رہی ہے اور دوسری قہر کی۔ جن پر کرم کی ہوا چلی ان کو منزل مقصود تک پہنچا دیا۔ اور جن پر قہر کی ہوا چلی وہ لوگ راستے ہی میں رہ گئے۔ اور اس قسم کے حجابات ان کے سامنے آ گئے کہ وہ منزل تک نہ پہنچ سکے مجھے یہ اضطراب ہے کہ میرے اوپر کون سی ہوا چلنے والی ہے۔ انتقال کے وقت سے قبل ہی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھنے کے لیے آ پہنچی تو آپ نے اس جماعت کے قصد کو محسوس کر کے فرمایا کہ یہ عجیب بات ہے کہ زندہ ہی کی نماز پڑھنے چلے آئے ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا کہ? لا الہ الااللہ?تو فرمایا جب غیر ہی نہیں ہے تو نفی کس کی کروں۔ لوگوں نے عرض کیا کہ شریعت کا حکم ہے، کہ ایسے وقت میں کلمہ پڑھنا چاہئے۔ آپ نے فرمایا کہ سلطان فرما رہا ہے کہ میں رشوت قبول نہیں کروں گا۔ اس کے بعد کسی نے با آواز بلند کلمہ ?لاالہ الا اللہ ? کہنے کی تلقین کی تو فرمایا کہ میں اپنے محبوب سے مل گیا۔ یہ فرما کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔

شیخ محمد میر المعروف میاں میر صاحبBuMuhammadAmirSultanChishti923016778069


شیخ محمد میر المعروف میاں میر صاحب
شیخ محمد میر المعروف میاں میر صاحبنام
938ہجرتاریخ پیداءش
وجھ شھرت
آپکے صلح کل اختیارنے آپ کو اس قدر جاذبیت و مقبولیت عطا کی کہ اپنے تو اپنے غیروں تک نے آپ کی غلامی کا طوق اپنے زیب گلو کیا ۔ جس کی ایک زندہ مثال امر تسر کا دربار صاحب ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جناب میاں میر ہی نے سکھوں کی درخواست پر اپنے دست مبارک سے اس کا سنگ بنیاد رکھا
جہانگیر نے ایک خط میں آپ کو یوں لکھا ?پیر دستگیر میر ازیں نیاز مند درگاہِ الٰہی جہانگیر?

ولادت:۔ 938ہجری یا 957ہجری میں سہوان (سندھ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم قاضی سائیں دتہ فاروقی تمام سندھ میں نہایت معزز و ممتاز بزرگ شمار کےے جاتے تھے۔ تحفتہ الکرام میں لکھ ہے کہ قاضی سائیں دتہ حضرت عمر فاروق کی اولاد سے تھے۔ اور اپنے وقت کے ممتاز و متحبر علمائے اسلام میں سے تھے۔ آپ کا اسم گرامی شیخ محمد میر تھا مگر میا ں میر کے نام سے شہرت پائی۔ آپ کی والدہ ایک صاحب علم و عمل خاتون تھیں۔آپ نے انہیں سلسلہ قادریہ کے سلوک سے روشناس کرایا اور تعلیم دی اس کے بعد آپ قادری سلسلے کے ایک نامور بزرگ جناب شیخ سیوستانی کے مرید ہو گئے۔ آپ ایک طویل عرصے تک جناب شیخ کی خدمت میں حاضر رہے۔ جب آپ کی عمر پچیس برس کی ہوئی تو آپ جناب شیخ کی اجازت سے لاہور آ گئے۔ یہ اکبر کی حکومت کا زمانہ تھا۔ ان دنوں لاہور میں جناب مولانا سعد اللہ درس قرآن فرمایا کرتے تھے۔ آپ ان کے درس میں شامل ہو گئے۔ اور ان سے خوب استفادہ کیا۔ ان کے علاوہ چند سال مفتی عبدالسلام لاہوری سے بھی اکتساب علم کیا۔


تکمیل علوم ظاہری و باطنی کے بعد آپ نے خلق خدا کی اصلاح و تبلیغ کا سلسلہ جاری کیا۔ جس سے تھوڑی ہی مدت میں تمام لاہور میں آپ کی شہرت پھیل گئی۔ آپ کو نام و نمود اور شہرت سے چونکہ سخت نفرت تھی اس لیے چند روز کے لیے لاہور سے عازم سر ہند ہو گئے۔ ایک سال سرہند میں قیام کرنے کے بعد آپ لاہور میں واپس تشریف لے آئے۔ اور پھر آخر عمر تک یہیں رہے۔ جس مقام پر آپ نے قیام کیا۔ اسے محلہ باغبان کہتے ہیں جسے ان دنوں خانپورہ بھی کہتے ہیں ۔آپ نے سرہند سے واپس آ کر درس و تدریس کا سلسلہ پھر سے جاری کیا اور ایسے شاگردوں کی تعداد تیار کی جنہوں نے اسلام پھیلانے میں بڑا نمایاں کام کیا۔ آپ اپنے مریدوں اور شاگردوں پر خاص توجہ فرماتے۔ ان کی اصلاح فکر اور تہذیب نفس کو مقدم جانتے تھے۔ اور یہ کام چونکہ بڑا سخت ہے ۔ اس لیے آپ کسی کو اپنا مرید نہیں بناتے تھے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ جو شخص آپ کو ملنے کے لیے حاضر ہوتا۔ آپ اس سے بڑی خوش خلقی اور خنداں پیشانی سے پیش آتے ۔ اور ان کے حال پر اتنی شفقت فرماتے کہ اسے اس کا سو فیصدی پورا یقین ہو جاتا۔ کہ آپ صرف میرے حال پر ہی کرم فرماتے ہیں۔ لیکن اپنے مریدوں کے احوال پر خاص کر کڑی نظر رکھتے۔ ان سے اگر کوئی خلاف شریعت کام ہو جاتا تو انہیں سختی سے منع کرتے۔ اور آئیندہ کے لیے تنبیہہ فرما دیتے۔ ایک مرتبہ آپ کے مرید و خلیفہ ملاّ خواجہ بہاری نے آپ کی خدمت میں ایک واقعہ عرض کیا۔ بہاری نے کہا ایک روز کچھ لوگ میرے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک مکان گر جانے کے آثار پیدا ہوئے۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ فوراً باہر چلے جاو?۔ سب لوگ اٹھ کر باہر چلے گئے۔ لیکن میں وہیں جم کے بیٹھا رہا۔ اور با آواز بلند کلمہ طیب پڑھتا رہا۔ حتٰی کہ چھت گری اور دو لکڑیاں آپس میں اس طرح ملیں جن کے درمیان میں سلامتی کے ساتھ بیٹھا ہوا ورد کر رہا تھا۔ جب آپ نے یہ واقعہ سنا تو آپ نے خواجہ بہاری سے کہا۔ ہائے مرتبہ ہائے مرتبہ۔ آپ نے خواجہ بہاری سے کہا کیا تم نے کلمہ طیب کو بلند آواز سے اس لیے پڑھا کہ لوگوں کے دل میں تمہاری درویشی کی قدروقیمت پیدا ہو جائے۔ اور لوگ تمہارے بارے میں یہ کہیں کہ کتنا بڑا درویش ہے کہ مرتے وقت بھی خدا کو یاد کرتا رہا۔ تمہیں چاہیے تھا کہ بلند آواز سے پڑھنے کی بجائے آہستہ آہستہ پڑھتے۔


آپ کی بات صرف مریدوں تک ہی محدود نہ تھی ۔ بلکہ خود بھی ایسا کرتے۔ چنانچہ آپ کو تمام عمر کسی شخص نے کبھی ہاتھ میں تسبیح لیے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ کا معمول یہ تھا کہ رات کو حجرے کا دروازہ بند کئے بیٹھے رہتے۔ اور ذکر خدا میں مشغول رہتے۔ یہی سبب ہے کہ آپ سندھ سے لاہور تشریف لانے کے بعد بھی چالیس برس تک لاہور کے لوگوں میں گمنام رہے۔ عبادت و ریاضت اور مجاہدے سے انسان کی طبیعت ضبط نفس کو پا لیتی ہے۔ اور انسان میں جب یہ قدرت پیدا ہو جاتی ہے تو اس کی روحانیت کا یہ لازمہ ہے کہ وہ مخالف کی تمام قوتوں کو مسخر کر لیتی ہے۔ پھر دنیا کی محبت اور کسی حاکم کی قوت نہ اسے اپنا غلام بنا سکتی ہے نہ اسے جیت سکتی ہے۔ سیر ت نگاروں نے لکھا ہے کہ اکثر بڑے بڑے امراءو وزراءاور بادشاہ جو آپ کے معتقد تھے۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور بڑی بھاری بھاری رقمیں بطور نزرانہ پیش کرتے آپ فرماتے تم مجھے دنیا کا فقیر سمجھ کر یہ نذرانے لائے ہو۔ جاو? اسے لے جا کر مستحق لوگوں میں تقسیم کر دو میں دنیا کا فقیر نہیں اللہ کا ہوں۔ دارا لشکوہ نے لکھا ہے کہ میں نے کسی اللہ والے کو دنیا کو اتنا حقیر سمجھنے والا نہیں دیکھا جیسا کہ اپ تھے۔


جہانگیر نے تزک جہانگیری میں لکھا ہے کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ لاہور میں سندھ کے رہنے والے شیخ محمد نام کے ایک عالم باعمل اور نہایت فاضل و قابل بزرگ رہتے ہیں توّکل اور گوشہ عزلت ان کا شعار ہے۔ تو مجھے ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ اور میں نے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ کیا۔ لیکن بوجہ چند میرے لیے لاہور پہنچنا دشوار ہو گیا۔ ناچار میں نے ان کی خدمت میں ایک عریضہ ارسال کیا۔ اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی ۔ چنانچہ آپ میری درخواست پر دہلی تشریف لائے۔ اور ایک طویل عرصے تک مجھے ان کے ساتھ بیٹھنے کا موقع میسر آیا۔ اور بہت سے حقائق ومعارف ہاتھ آئے ۔ میں نے ہر چند ان کی خدمت میں کچھ ہدیے اور نذرانے پیش کرنے کی کوشش کی ۔ مگر ان کی شان فقر کو دیکھ کر اظہار کرنے کی جرا?ت نہ ہوئی۔ اس ملاقات پر جہانگیر نے آخر میں آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ میرے لیے کوئی خدمت ارشاد فرمائیں کسی چیز کی خواہش کریں۔ آپ نے فرمایا بس تم سے خواہش یہ ہے کہ اب مجھے رخصت کرو ۔ چنانچہ جہانگیر نے آپ کو نہایت ادب وا حترام کے ساتھ رخصت کیا۔ اور آپ لاہور واپس تشریف لے آئے۔


اس کے بعد جہانگیر نے آپ سے باقاعدہ خط و کتابت جاری رکھی۔ اکثر خود اپنے ہاتھ سے خط لکھتا اور آپ کے مقام و منصب اور ادب وا احترام کو ملحوظ رکھتا۔ ایک خط میں آپ کو یوں لکھا ?پیر دستگیر میر ازیں نیاز مند درگاہِ الٰہی جہانگیر? جہانگیر کےبعد جب شاہجہاں تخت حکومت پر بیٹھا اس نے بھی اپنے والد کی طرح بلکہ جہانگیر سے کچھ زیادہی آپ کی قدرو منزلت کی۔ وہ دو مرتبہ آپ کی خدمت میں لاہور حاضر ہوا اور بحوالہ دارالشکوہ دونوں مرتبہ اپنے باپ کے ہمراہ آیا۔ دارالشکوہ لکھتا ہے کہ جب شاہجہاں آپ کے حجرے میں داخل ہوا تو آپ نے سب سے پہلی بات جو شاہجہاں سے کہی وہ یہ تھی کہ عادل و منصف بادشاہ کو اپنی رعیت و سلطنت کی خبر گیری کرتے رہنا چاہئے۔ اور تمام قوتوں کو مملکت کے آباد و خوش حال کرنے کے لیے صرف کرنا چاہئے۔ کیونکہ رعیت اگر خوش حال اور ملک آباد ہے تو فوج میں اطمینان اور خزانے میں دولت کے انبار لگے رہیں گے۔ دارالشکوہ لکھتا ہے کہ بیس برس کی عمر میں ایک مرتبہ مجھے ایک ایسا مرض لاحق ہوا کہ بچنے کی امید نہ رہی۔ جب تمام طبیب عاجز آ گئے۔ کسی کی دوا کار گر نہ ہوئی تو شاہجہاں مجھے آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ اور عرض کیا کہ میرا یہ بیٹا کسی لاعلاج مرض میں مبتلا ہے۔ تمام حکیموں نے جواب دے دیا ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفا کے لیے دعا فرمائیں آپ نے یہ سن کر دعا فرمائی ۔ اور پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مٹی کا وہ پیالہ جس میں خود پانی پیا کرتے تھے۔ پانی سے بھر کر مجھے دیا۔ جسے میں نے پی لیا۔ قدرت خدا کہ چند ہی روز میں بیماری بالکل ہی جاتی رہی۔ اور میں تندرست ہو گیا۔


علامہ اقبال نے اسرارورموز میں آپکی شان فقر سے متعلق ایک واقعہ نظم کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ شہنشاہ ہند آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ ایک عرصے سے میں دکن کی مہم میں مصروف ہوں لیکن مہم سر ہونے میں نہیں آتی۔ آپ نے یہ سن کر خاموشی اختیار کی۔ اتفاق سے اسی وقت ایک مرید آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور چاندی کے چند سکےّ آپ کی خدمت میں پیش کر کے عرض کیا۔ میں نے انہیںبڑی محنت و مشقت کے ساتھ جائز طور پر کمایا ہے ۔ آپ انہیں بطور نذرانہ قبول فرما لیں۔ آپ نے فرمایا۔ یہ سکے شہنشاہ ہند کو دے دو جو باوجود بادشاہ ہونے کے اب بھی فقیر و گدا ہے۔ اگرچہ اس کی حکومت چاند سورج اور ستاروں پر ہے لیکن پھر بھی حرص و ہوس میں گرفتار ہو کر اپنے آپ کو مفلس خیال کرتا ہے۔ دنیا بھر کی دولت میسر آنے کے باوجود اس کی نیت نہیں بھری ۔ وہ دوسروں کے دستر خوان پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ اور حرص و ہوس کی بھوک نے اسے تمام جہان کو ہڑپ کرنے پر آمادہ کیا ہوا ہے۔ اس کی اس ناداری و ضرورت مندی سے خلق خدا سخت پریشان ہے۔ اس کی سطوت اہل دنیا کی دشمن ہے۔ اس کا کارواں نوعِ انسانی کا رہزن ہے۔ اس کی فکر خام نے لوٹ مار و قتل و غارت گری کا نام تسخیر رکھا ہے۔ خود اس کا لشکر اور اس کے غنیم کا لشکر اس کی بھوک کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ شاید اسے معلوم نہیں کہ فقیر کی بھوک کی آگ تو اسی کی حد تک محدود رہتی ہے ۔ لیکن بادشاہ کی بھوک کی آگ ملک وملت سب کو فنا کرد یتی ہے۔ اور شاید اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ جو شخص غیروں کے لیے تلوار اٹھاتا ہے ہو خود اپنے سینے میں خنجر گھونپتا ہے۔


جناب میاں میر کتاب و سنت پر عمل کرتے اور حدود شریعت سے قطعاً باہر نہیں جاتے تھے۔ آپ کے اوصاف حمیدہ و اخلاق حسنہ کے بارے میں دارالشکوہ نے لکھا کہ اگر یہ چیزیں با شکل انسان ہوتیں توجناب میاں میر ہوتے۔ آپ کا لباس ہمیشہ سادہ اور بہت معمولی قیمت کا ہوتا تھا۔ آپ سر پر پگڑی اور ایک موٹے کپڑے کا کرتہ پہنا کرتے تھے۔مگر صفائی اور پاکیزگی کا بھی خیال رکھتے تھے۔ جب کبھی کپڑے میلے ہو جاتے انہیں دریا پر لے جاتے اور خود اپنے ہاتھ ہی سے دھوتے ۔ مریدین اور معتقدین کو بھی یہی تاکید فرمایا کرتے کہ اپنا کام خود اپنے ہاتھ ہی سے کرنا چاہیے۔ اور لباسوں میںمعلوم نہیں ہوتا کہ وہ امیر ہے یا غریب ۔ خرقہ جو صوفیوں کا خاص لباس ہے آپ نے اس کے پہننے کا مطلق رواج نہیں دیا۔ آپ نے تمام عمر کچھ ایسی گوشہ? نشینی و گمنامی پسند فرمائی کہ باوجود اتنے بڑے عالم و فاضل اور صاحب فضل و کمال ہونے کے اپنی کوئی تصنیف نہیں چھوڑی ۔ آپ کے مضامین کی ندرت کو دیکھ کر بڑے بڑے علماءوفضلاءعش عش کر اٹھتے۔ اور نہایت عالمانہ انداز سے مسائل کو ایک ثانہ کی مہلت میں یوں حل کر کے رکھ دیتے کہ بڑے بڑے علماءدنگ رہ جاتے۔ لیکن اگر کوئی شخص آپ کے مضامین کو قلم بند کرنے کی کوشش کرتا ۔ آپ اسے منع فرما دیتے تھے۔ آپ کے مریدوں کی تعداد بے شمار ہے۔ آپ قادری سلسلے کے بزرگ ہیں ۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنے خلفاءسے فرمایا کہ دیکھو تم دوسروںکی دیکھا دیکھی کہیں میری ہڈیاں نہ بیچنے لگنا۔ اور میری قبر پر دوسروں کی طرح دکان نہ کھول لینا۔


آپ آخر عمر میں اسہال کی بیماری میں مبتلا ہوئے۔ پانچ دن تک بیمار پڑے رہے۔ 7ربیع الاول 1054ہجری میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ آپ نے وفات اسی محلہ خان پور میں اپنے حجرے میں پائی۔ جس میںآخر تک آپ بیٹھے رہے۔ اور وہیں مدفون ہوئے۔ آپ کا مزار اورنگزیب عالم گیر نے تیار کروایا تھا۔ مگر اس کے مسالے کا اہتمام پہلے سے دارالشکوہ نے کیا تھا۔ مگر اسے موت سے مہلت نہیں ملی۔ کہ حکومت کے جھگڑوں میں قتل ہو گیا۔

میاں میر مسلک:۔ہندستان میں قادر ی سلسلے کا آغازسلطان سکندر لودھی کے زمانے میں جناب سید محمد غوث نے کیا جن کا سلسلہ نسب نوواسطوں سے جناب شیخ سید عبدالقادرجیلانی تک پہنچتا ہے۔ جناب سید محمد غوث 4128ہجری میں ملتان کے قریب روچھ نام کے ایک مقام پر آ کر مقیم ہوئے۔ اسلام کی تبلیغ شروع کی اور تصوف کے قادری سلسلے کو فروغ دیا ۔ اس زمانے میں وحدت الوجود کے خیالات مسلمانوں میں عام تھے جن کا آگے چل کر نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوو?ں اور مسلمانوں کے خیالات کو یکجا کر کے بھگتی کے نام سے ایک مذہبی تحریک جاری ہوئی جس کے بانی بھگت کبیر کہے جاتے ہیں۔ جو 1440ہجری میں پیدا ہوئے۔
جس زمانے میں جناب مجدد الف ثانی کی عالم گیر شخصیت قادری سلسلے کی راہ سے بالکل ہٹ کر قادریوں کے نظریہ وحدت الوجود کے خلاف اپنے مشہور نظریہ توحید شہودی کو پھیلا رہی تھی۔ اور تصوف میں ان کا سلسلہ نقشبند ی ہندوستان کے کونے کونے میں فروغ پا رہا تھا۔ جناب میاں میر صاحب جنہوں نے قادری سلسلے کی تعلیم اپنی والدہ محترمہ سے پائی۔ لاہور میں اکیلے تن تنہا سب سے الگ تھلگ بیٹھ کر قادری سلسلے کو ترقی دے رہے تھے۔ اگرچہ میاں میر صاحب وحدت الوجود کے قائل تھے ہر چند یہ نظریہ مغل بادشاہوں کے مزاج کے موافق تھا۔ جہانگیر ، شاہجہاں اور دارالشکوہ آپکے مرید تھے اور آپ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ لیکن اس سے یہ رائے قائم کرنا کہ چونکہ میاں میر صاحب وحدت الوجود کے قائل تھے اور یہ نظریہ مغلوں کے مزاج سلطنت کے لیے نہایت مفید تھا اس لیے وہ آپ کے ارادت مند و عقیدت کیش تھے۔ سرا سر بے انصافی ہے درحقیقت یہ نتیجہ آپ کے صلح کل مشرب اختیار کرنے کا تھا ? جس نے آپ کو اس قدر جاذبیت و مقبولیت عطا کی کہ اپنے تو اپنے غیروں تک نے آپ کی غلامی کا طوق اپنے زیب گلو کیا ۔ جس کی ایک زندہ مثال امر تسر کا دربار صاحب ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جناب میاں میر ہی نے سکھوں کی درخواست پر اپنے دست مبارک سے اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ جیسا کہ ایک مرتبہ جہانگیر نے آپ کو آگرے تشریف لانے کی دعوت دی آپ چلے تو گئے۔ لیکن جہانگیر کے پاس پہنچ کر اس کے سامنے حسب معمول پندو نصائخ کے دفتر کھولے۔ اور جہانگیر نے جب مطمئن ہو کر آپ سے عرض کیا کہ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو ارشاد فرمائیں آپ نے فرمایابس تمھارے لائق ایک ہی خدمت ہے کہ ہم فقیروں کو آئندہ اپنے پاس بلانے کی زحمت نہ دو۔

شہزادہ دارالشکوہ اپنی کتاب سفینتہ الاولیاءمیں لکھتا ہے کہ جناب میاں میر طریقت کے لحاظ سے اپنے زمانے کے جنید تھے۔ کسی کو آسانی سے اپنی ارادت مندی کے حلقے میں داخل نہیں کرتے تھے۔ اور جب کسی کو اپنا مرید بنا لیتے اسے منزل مقصود تک پہنچا دیتے تھے۔ آپ کی عادت یہ تھی کہ اپنے مریدوں کو مرید کہنے کی بجائے دوست کہتے۔ جب کسی کو بلانا ہوتا تو فرماتے جاو? ہمارے فلاں دوست کو بلا لاو?۔ اور وقت کے حاکموں اور بادشاہوں سے کسی صورت میں بھی نذر و نیاز
یا ہدیے اور تحفے قبول نہیں کرتے تھے ۔ آپ اکثر یہ شعر پڑھا کرتے۔
شرط اول در طریق عاشقی دانی کہ چیست
ترک کردن ہر دو عالم راو?پشت پازون

مخدوم علاو?الدین کلیری ByMuhammadAmirSultanChishti923016778069


مخدوم علاو?الدین کلیری
علی احمد صابرنام
592ھتاریخ پیداءش
وجھ شھرت
آپ کی طبیعت میں جلال بہت زیادہ تھا آپ خلاف شریعت نہ خود چلے نہ دوسروں کو چلتا دیکھ سکتے تھے۔ بلکہ احکام اسلام کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سختی سے ڈانٹتے تھے۔
جناب مخدوم اپنے ماموں کے لنگر انچارج تھے۔ فقیروں ، درویشوںاور دوسرے حاجت مندوں میںکھانا تقسیم کرتے سب کو خوب پیٹ بھر کر کھانا کھلاتے مگر خود بھوکے رہتے تھے

592ھ کوتوال ضلع ملتان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم جناب سید عبدالقادر جیلانی کے پوتے اور آپ کی والدہ محترمہ جناب فرید الدین مسعود گنج شکر کی حقیقی بہن تھیں۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ اس کے بعد آٹھ سال کی عمر میں آپ اپنے ماموں جان کی خدمت میں پاکپتن آ گئے۔ 603ہجری میں ان سے بیعت کی۔ جناب مخدوم کلیری اپنے ماموں کے لنگر کے انچارج تھے۔ فقیروں ، درویشوںاور دوسرے حاجت مندوں میں آپ ہی کھانا تقسیم کیا کرتے تھے۔ سب کو خوب پیٹ بھر کر کھانا کھلاتے مگر خود بھوکے رہتے تھے۔ اسی رعایت سے آپ کو جناب فرید الدین نے صابر فرمایا جو آگے چل کر آپ کی شہرت کا سبب ہوا۔ جب علوم ظاہری و باطنی میں کمال حاصل کر چکے۔ تو آپ کو دین اسلام کی تبلیغ اور علوم دین کی اشاعت کے لیے جناب فرید نے شہر فیض بخش کلیر کو جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ پاکپتن سے کلیر تشریف لے گئے۔ اور وہاںپہنچ کر اپنے فرض منصبی کو ادا کرنا شروع کر دیا۔ابھی کلیر میں آئے ہوئے آپ کو تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ آپ کے کمالات علمی کی ہر طرف دھوم مچ گئی۔ ایک خلق خدا آپ سے فیض پانے لگی۔ ایک مرتبہ آپ جمعةالمبارک کی نماز ادا کرنے کے لیے اپنے درویشوں کے ساتھ شہر کی جامع مسجد میں گئے۔ اور اس صف میں جا کر بیٹھ گئے جو شہر کے معززین کے لیے مخصوص تھی۔

جب شہر کے امراءو مشائخ آئے تو انہوں نے آ پ اور آپ کے درویشوں سے تعرض کیا۔ اور سختی سے کہا کہ یہ ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ یہاں سے اٹھ جاو? ظاہر ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں امیر و غریب ، شاہ و گدا سب برابر ہیں ۔ ان کا تعرض کرنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف تھا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ بات پسند نہ آئی۔ چنانچہ اس نے فوراً ہی انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ کہتے ہیں شہر کی جامع مسجد گر گئی۔ اور ہزاروں آدمی اس کے نیچے دب کے مر گئے اور شہر تمام کا تمام برباد ہو گیا۔ طاعون کی ایسی بیماری پڑی کہ بارہ بارہ کوس تک کوئی چرند پرند ، حیوان اور انسان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ آپ کی طبیعت میں جلال بہت زیادہ تھا۔ یہی سبب ہے کہ آپ کے رعب و داب سے متعلق لوگوں نے طرح طرح کے قصے پھیلا رکھے ہیں۔ ہمیں ان قصوں سے مطلق غرض نہیں۔ ہمارے نزدیک ستائش کا پہلو تو یہ ہے کہ آپ خلاف شریعت نہ خود چلے نہ دوسروں کو چلتا دیکھ سکتے تھے۔ بلکہ احکام اسلام کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سختی سے ڈانٹتے تھے۔ جب شہر کلیر برباد ہوا تو اس کے بعد لوگوں پر آپ کی روحانی قوت کی اتنی ہیبت چھا گئی۔ کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہوئے انہیں خوف آتا تھا۔ آپ کے خلفاءمیں جناب شیخ شمس الدین ترک پانی پتی آپ کے ممتاز خلیفہ ہیں۔ وہ آپ کی خدمت میں کامل بتیس برس تک رہے۔ اور کبھی آپ سے جدا نہیں ہوئے جب ترک پانی پتی آپ سے روحانی تحصیل کر چکے تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ جاو? سواروں میں جا کر ملازم ہو جاو? اور دیکھو جس روز تمہاری کوئی دعا کسی کے حق میں قبول ہو جائے۔ سمجھ لینا کہ میں دنیا سے چلا گیا۔ چنانچہ ترک پانی پتی مرشد کے حکم سے شاہی فوج میں نوکر ہو گئے۔ اور سلطان علاو?الدین خلجی کے ساتھ چتور گڑھ کی مہم کو سر کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔

سلطان نے بڑی کوشش کی اور ایک طویل عرصے تک قلعہ کا محاصرہ کیے رکھا۔ مگر قلعہ فتح نہ ہوا۔ اسی دوران میں ایک روز رات کو ایسی آندھی چلی کہ تمام لشکر کے چراغ پٹ ہو گئے۔ مگر ایک چراغ جل رہا تھا جسے دیکھ کر سلطان کو بڑا تعجب ہوا۔ سلطان معلوم کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک شخص خیمے میں قرآن پڑھ رہا ہے۔ وہ یہ ماجرا دیکھ کر چپ چاپ مو?دب کھڑا رہا ۔ جب ترک پانی پتی قرآن حکیم کی تلاوت سے فارغ ہوئے۔ تو سلطان کو باہر کھڑا دیکھ کر جلدی سے اس کی تعظیم کے لیے آگے بڑھے اور پوچھا کہ حضور نے اس وقت کیسے زحمت فرمائی۔ سلطان نے کہا میرا قصور معاف کر دیجیے۔ اور اللہ کی بارگاہ میں دعا کیجیے۔ کہ قلع فتح ہو جائے۔ آپ نے یہ سن کر کہا کہ میں تو آپ کی فوج کا ایک ادنیٰ سا ملازم ہوں۔ مجھے ایسی مقبولیت کہاں نصیب ہے جو میری دعا قبول ہو جائے۔ آپ کو شاید کسی نے بہکا دیا ہے۔ سلطان نے اصرار کیا کہ نہیں ایسا نہ کہیے۔ آپ دعا کیجیے۔ اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائے گا۔ چنانچہ ترک پانی پتی نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ اللہ نے دعا قبول فرما لی۔ اور قلعہ فتح ہو گیا۔ قدرت خدا جناب مخدوم کلیری کی بات پوری ہوئی۔ جس روز ترک پانی پتی کی دعا قبول ہوئی۔ اسی روز جناب مخدوم کلیری کا انتقال ہو گیا۔ ترک پانی پتی کے دل نے اس واقعہ ناگزیر کی گواہی دی ۔ چنانچہ وہ کلیر پہنچے اور اپنے مرشد کے تجہیز و تکفین کے فرض کو سر انجام دیا۔ جناب مخدوم علاو?الدین کلیری صابری نے690ھ میں انتقال فرمایا۔ آپ کا مزار کلیر ضلع سہارن پور میں نہر گنگ کے کنارے پر واقع ہے۔

شہنشاہ نور الدین جہانگیر نے اپنے عہد میں آپ کے مزار کا گنبد تعمیر کرایاتھا۔ آپ کے مزار پر ہر سال عرس ہوتا ہے۔ تمام مذاہب کے لوگ بلا امتیاز و تخصیص کے اس میں شامل ہوتے ہیں۔ خواجہ حسن نظامی نے آپ کے عرس کی ایک کیفیت لکھی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ربیع الاول کی پہلی تاریخ سے چودہ تک جناب مخدوم کلیری کا عرس ہوتا ہے۔ جس میں دو لاکھ کے قریب مجمع ہوتا ہے۔ صابریہ سلسلے کے تمام مشائخ اور ان کی خانقاہوں کے سجادہ نشین اس میں شامل ہوتے ہیں۔ نذرونیاز اور لنگر کے طعام کے لیے کم سے کم پانچ لاکھ روپیہ خرچ کیا جاتا ہے۔ یہ رقم وہ ہے جو سال بھر تک ہر درویش اپنے مریدین سے لنگر کے خرچ کے لیے نذر ونیاز قبول کر کے جمع کرتا ہے۔ اور عرس کے موقع پر یہاں لا کر خرچ کر دیتا ہے۔ سینکڑوں بنیے گھی، قند، اور چاول وغیرہ مسلمان زائرین کے ہاتھ فروخت کر کے چند ہی دنوں میں مالا مال ہو جاتے ہیں۔ تقسیم طعام کی یہ صورت ہوتی ہے کہ ہر فقیر کے پاس بریانی کے چاولوں اور خمیری روٹیوں کا ایک انبار لگ جاتا ہے۔ جہاں تک وہ کھا سکتے ہیں کھاتے ہیں جو خشک ہو سکتا ہے اس کو سکھا کر بطور تبرک اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ صابریہ سلسلہ کے بعض بعض مشائخ ایسے بھی آتے ہیں ۔ جو ہزار ہزار روپیہ کا کھانا پکوا کر فقیروں اور غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ حلوے اور مٹھائیوں پر نیاز دلواتے ہیں۔ غرض عرس کی دھوم دھام کہاں تک بیان کریں۔ یہ موقع دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ سماع کی محفلیں، فاتحہ خوانی، اور ذکر و شغل کے حلقے ، حال وقال اور وعظ و نصیحت کے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں۔

خواجہ معین الدین چشتیByMuhammadAmirSultanChishti923016778069

خواجہ معین الدین چشتی
خواجہ حسن معین الدین چشتی اجمیرینام
630ھتاریخ پیداءش
خواجہ صاحب نے ہندوستان میں سلسلہ چشت کو ایسا پھیلایا کہ آج پاک و ہند میں چشتی سلسلے کے بزرگ ہر جگہ موجود ہیں

630ھ سیستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم جناب خواجہ سیدغیاث الدین ایک خدا رسیدہ اور صاحب اثر و دولت بزرگ تھے۔ آپ کے زمانے میں غز ترکوں نے سلجوقی بادشاہ سلطان سنجر پرحملہ کیا۔ سیتان کا حاکم سنجر کی طرف سے بڑی بے جگری سے لڑا۔ مگر کامیاب نہ ہو سکا ۔ وہ غز ترکوں کے ہاتھ گرفتار ہوا۔ سلطان سنجر نے راہ فرار اختیار کی۔ غز ترکوں کے حملے سے سیتان میں جو تباہی وبد نظمی پھیلی اس نے خواجہ غیا ث الدین کو دلبرداشتہ کر دیا۔ وہ سیتاں کو چھوڑ کر خراسان آ گئے۔ جہاںخواجہ معین الدین کی ابتدائی نشو ونما ہوئی۔٩٤٥ ھمیں جب خواجہ معین الدین بمشکل تیرہ برس کے ہوں گے۔ انہوں نے غر ترکوں کی ہولناکیوں اور تباہیوں کا نقشہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سلطان سنجر کو غزترکوں کے مقابلے میں دوبارہ شکست ہوئی ۔ اور وہ ان کے ہاتھ گرفتار ہو گیا۔ اب سیستان کو بے دست و پا کر کے ترکوں نے جو آفت مچائی۔ خدا کی پناہ، ایک ایک کر کے تمام بڑے بڑے آدمی قتل کر دیے گئے۔ جن میں علماء، فضلائ، شیوخ اور شہر کے دولت مند لوگ شامل تھے۔ عورتوں کی عصمت دری کی ۔ مسجدوں کو ویران کیا گیا۔ ان واقعات نے خواجہ معین الدین کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ دنیا سے یکسر بیزار ہو گئے۔

١٥٥ھ میں کہ جب خواجہ معین الدین پندرہ برس کے تھے۔ آپ کے والد محترم انتقال کر گئے۔ معلوم نہیں آپ کل کتنے بہن بھائی تھے۔ مگر ترکے کی تقسیم سے پتہ چلتا ہے کو دو چار ضرور ہوں گے۔ باپ کے ترکہ سے آپ کے حصے میں ایک باغ اور چکی ملی تھی ۔ جس کو آپ نے اپنی روزی کا ذریعہ بنایا۔ یعنی آپ خود ہی باغ کی دیکھ بھال کرتے۔ پانی پہنچاتے اور خود ہی فصل کاٹتے تھے۔ ایک روز اپنے باغ میں درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ اوپر سے ایک عارف کامل اور صاحب علم وعمل بزرگ کا گزر ہوا۔ آپ نے ان کی بڑی تعظیم کی۔ ایک سایہ دار درخت کے نیچے لا کے بٹھایا اور ایک تازہ انگوروں کے خوشہ سے تواضع کی۔ اور نہا یت ادب کے ساتھ دو زانو ہو کر ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ یہ بزرگ ابراہیم تندوزی تھے۔ انہوں نے ایک ہی نظر میں اندازہ لگا لیا کہ یہ نوجوان اپنے دل میں حقیقت کو پانے کا جزبہ رکھتا ہے۔ ع ۔ نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں۔ابراہیم تندوزی کی ملاقات نے خواجہ معین الدین کے دل پر بہت گہرا اثر کیا۔ آپ نے باغ اور چکی فروخت کر کے اس کی رقم غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کر دی اور حق کی تلاش میں سر گرداں ہوئے۔ خواجہ خراسان سے چل کر سمر قند و بخارا آئے۔

یہاں آپ نے قرآن حکیم حفظ کیا تفسیر ، حدیث، فقہ اور دوسرے علوم دین میں تکمیل حاصل کی۔ اور اس کے بعد نیشا پور کے ایک قصبے ہارون میں ا گئے۔ یہاں ایک خدا رسیدہ صاحب علم و تقوے ٰ بزرگ شیخ عثمان ہارون تشریف رکھتے تھے اور ایک خلق خدا ان کے فیوض علمی سے فیض پا رہی تھی۔ خواجہ معین الدین ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہو گئے۔ شیخ عثمان ہارونی تصوف میں چشتی سلسلے کے بزرگ تھے۔ ان کی طریقت کا سلسلہ یوں ہے۔ کہ عثمان ہارونی چشتی جناب شیخ زندنی چشتی کے مرید تھے۔ زندنی جناب خواجہ مودود چشتی کے مرید تھے۔ مودود چشتی خواجہ ناصر الدین چشتی کے مرید تھے۔ جناب ناصر چشتی ، خواجہ محمد اسحاق بانیءسلسلہ چشت کے مرید تھے۔ خواجہ محمد اسحاق چونکہ خراسان کے اطراف میں چشت نامی ایک گائوں کے رہنے والے تھے اسی مناسبت سے چشتی کہلائے اور ان سے آگے جو ارادت مندی کا سلسلہ چلا یعنی جن بزرگوں نے ان کے ہاتھ پر بعیت کی انہیں چشتی کہا گیا ۔ ہر چند جناب اسحاق شام کے رہنے والے تھے مگر ایک مدت سے یہاں آ رہے تھے اور یہاں برسوں رہ کر اپنے فیوض باطنی سے لوگوں کو فیض پہنچایا اور یہیں مدفون ہوئے اس لیے انہیں چشتی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ تصوف کے کئی ایک سلسلے خواجہ حسن بصری کے واسطے سے جناب علی کرم اللہ وجہ?? تک پہنچتے ہیں۔ چنانچہ چشتی سلسلہ کا شجرہ طریقت ملاحظہ کریں۔

خواجہ محمد اسحاق بانیءسلسلہ چشت، خواجہ ممشا د علی دینوری کے مرید تھے۔ دینوری خواجہ ہبیرہ بصری کے مرید تھے۔ بصری خواجہ حزیفہ مرعشی کے مرید تھے۔ مرعشی حضرت سلطان ابراہیم ادھم کے مرید تھے۔ ادھم حضرت فضیل بن عیاض کے مرید تھے۔ فضیل بن عیاض عبدالواحد زید کے مرید تھے۔ زید حبیب عجمی کے مرید تھے۔ عجمی جناب خواجہ حسن بصری کے مرید تھے۔ ا ور حسن بصری جناب علی کرم اللہ وجہ? کے شاگرد اور مرید تھے۔ پاک وہند میں سلسلہ چشت جناب خواجہ معین الدین چشتی سے پھیلا۔ یہاں نیچے جا کر چشتی سلسلے کی دو شاخیں ہو جاتی ہیں۔ ایک چشتیہ نظامیہ ، اور دوسرے چشتیہ صابریہ۔ خواجہ معین الدین اپنے پیرومرشد سے خرقہ درویشی و سند ولایت حاصل کرنے کے بعد ٣٦٥ھ کے آخر میں بغداد آئے۔ تذکرہ نویسوں نے لکھا ہے کہ خواجہ معین الدین بغداد میں جناب سید عبد القادر جیلانی سے ملے۔ لیکن یہ صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ جیلانی ماہ ربیع الاول کے آخر میں عالم جاودانی کو سدھار چکے تھے۔ لکھا ہے کہ آپ نے شیخ یوسف ہمدانی سے ملاقات کی۔ مگر ہمدانی کا زمانہ بھی بہت پہلے کا ہے۔ وہ جناب عبدالقادر جیلانی کے ابتدائی زمانے میں ہو چکے تھے۔ اس لیے یہ بیان بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ کہ خواجہ کی ہمدانی سے ملاقات ہوئی۔ بغداد میں جن بزرگوں نے خواجہ معین الدین چشتی سے اکتساب کیا اور ان سے فیض اٹھا یا ان میں جناب شیخ دائود کرمانی اور شیخ الشیوخ جناب شہاب الدین عمر سہر وردیکے نام نمایاں ہیں۔

بغداد سے پھر خواجہ نے ہمدان کی راہ لی۔ یہاں ٹھہرے کچھ دن قیام کر کے اور بزرگان دین کے فیوض باطنی سے فائدہ اٹھا کر پھر تبریز آگئے۔ یہاں شیخ ابو سعید تبریزی سے ملے۔ شیخ تبریزی بڑے خدا رسیدہ اور عارف کامل بزرگ تھے۔ شیخ نظام دین محبوب الٰہی جیسے بلند مرتبہ بزرگ ان کی پارسائی و علمی فضیلت کے معترف تھے۔ تبریز کے بعد جناب خواجہ اصفہان گئے۔ یہاں جناب خواجہ بختیار کاکی کو آپ سے ملنے کا موقع ملا۔ جناب کاکی آپ کے مرید ہو گئے۔ اصفہان سے چلے تو خرقان پہنچے پھر استر آباد آئے اور یہاں کے مشہور بزرگ جناب شیخ ناصرالدین استر آبادی کے فیوضات باطنی سے استفادہ کیا۔ غرض یہ کہ سیاحت میں استر آباد کے بعد ہرات، سبزوار، حصار، بلخ اور غزنین پہنچے۔ غزنین علم و فضل کا مرکز تھا ۔ مگر ان دنوں سلطان محمود غزنوی کی اولاد کی حالت بہت پتلی تھی اور غوری خاندان کا ستارہ اقبال چمک رہا تھا مولانا عبدالحلیم شرر لکھتے ہیں کہ آپ ٣٦٥ھمیں وارد بغداد ہوئے اور ٨٥٥ھ یا ٠٦٥ھ میں غزنین پہنچے۔ بات کا پتہ نہیں چلتا۔ ٣٦٥ھ میں تو بغداد گئے، پھر وہاں سے مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے غزنین کیسے پہنچ گئے۔ بہر کیف جناب خواجہ غزنین میں ضرور پہنچے۔ علاءاور حسین غوری نے ان دنوں غزنوی خاندان کے بادشاہ ناصر الدین شاہ کے عہد میں غزنین کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ لیکن دو ہی برس گذرنے پائے تھے کہ ناصرالدین کے انتقال کے بعد حسین غوری کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد حسین غوری کا بیٹا سیف الدین محمد غوری تخت پر بیٹھا۔ بیس برس کا سن بھرپور جوانی مگر شعور پختہ نہیں تھا۔ سلطنت کو وسیع کرنے کے خیال سے وہ ایک لشکر جرار لے کر ترکان غز کے استیصال کے لیے اٹھا۔ لیکن ایک موقع پر غزوں کو اکیلا ہاتھ آگیا۔ اور انہوں نے موقع پا کر مار ڈالا۔

دوسرے سال خود ترکان غز نے پہل کی ۔ مگر ملک شاہ غوری ان کے مقابلہ سے بھاگ کھڑا ہوا ۔ اور لاہور میں آ کر پناہ لی۔ غزوں نے شہر کو تاخت و تاراج کیا۔ خوب لوٹ کھسوٹ مچائی قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا۔ اور اس کے بعد غزنین میں اپنا ایک نائب چھوڑ کر
چلے گئے۔ ان کے چلے جانے کے بعد ملک شاہ غزنین آیا۔ اس نے ترکان غز کے نائب کو وہاں سے نکالا اور غزنین پردوبارہ قبضہ کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام دل دوز واقعات جناب خواجہ معین الدین چشتی کی نگاہوں کے سامنے ہوئے۔ خواجہ نے دیکھا کہ مسلمان بے عمل ہو چکے ہیں۔ عیش پرستی و ہو س کو شی نے ان کے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔ اور یہی ان کی خانہ ویرانی کا سبب ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تبلیغی سر گرمیوں کو تیز کر دیا۔ اور لوگوں کے ذہن کو جہاد کی طرف پھیرا۔ غزنین کے بعد آپ نے پاک وہند کا رخ کیا۔ ان دنوں یہاں کے رہنے والوں کی جو حالت تھی وہ دنیا بھر کے جاہلوں کے مقابلہ میں سب سے بد تر تھی۔ ہندومذہب کا دور دورہ تھا۔ بت پرستی عام تھی۔ بندوں نے مالک سے رشتے توڑ کر غیروں سے جوڑ رکھے تھے۔ اورغیروں کی یہ حالت سامنے ہونے کے باوجود کہ اگر کوئی کتا بھی ٹانگ اٹھا کر ان پر پیشاب کر جائے تو وہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ اس کے بعد ان کے سامنے سر جھکاتے اور انہیں استمداد کا ذریعہ جانتے تھے۔
جناب خواجہ معین الدین پاک وہند کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی سب سے پہلے لاہور میں وارد ہوئے۔ اور مخدوم علی ہجویری کے مزار پر چلہ کیا۔ اس کے بعد آپ لاہور سے آگے بڑھے تو دہلی ہوتے ہوئے اجمیر پہنچے۔ ان دنوں شہاب الدین غوری دہلی اور اجمیر کے راجائوںسے شکست کھا کے گیا تھا۔ اور اس شکست کا بدلہ لینے کے لیے پھر سے پر تول رہا تھا۔ اس زمانے میںہندوئوں کی نگاہ میں مسلمانوں کی جو کچھ وقعت و حیثیت تھی سو وہ ظاہر ہے۔ نہا یت حقارت سے دیکھے جاتے تھے۔ اجمیر میں ان دنوں پرتھوی راج کی حکومت تھی۔ آپ نے وعظ و تلقین کا سلسلہ شروع کیا لیکن جیسا کہ قاعدہ ہے کہ اللہ والوں کے مزاج میں تلخی نہیں ہوتی وہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے بڑے تحمل اور نرمی سے کام لیتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے بھی کچھ ایسا ہی طرز عمل اختیارکیا کہ پر تھوی راج کو آپ سے مطلق شکا یت پیدا ہوئی۔ ایک خلق خدا آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہو رہی تھی۔ آپ کا علم وعمل لوگوں کی نگاہ میں اثر پیدا کر رہا تھا۔ لیکن سیاسی احوال یہ تھے کہ شاہان اسلام ہندوستان پر بار بار حملہ کر رہے تھے اور فطر تاً مسلمانوں کے خلاف ہندوئوں کے دلوں میں بغض و عناد پیدا ہو رہا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ تمام مسلمانوں کو پھر سے ہندو بنا لیا جائے۔ چنانچہ مصلحت ملکی کو سامنے رکھتے ہوئے پرتھو ی راج جناب خواجہ معین الدین چشتی کے خلاف ہو گیا۔ ایک روز پرتھوی راج نے پنے درباریوں کو مخا طب کر کے کہا یہ شخص( خواجہ)جانے لوگوں پر کیا جادو کر ارہا ہے کہ لوگ اس کے پاس کھنچے چلے آتے ہیں اور مسلمان ہو جاتے ہیں۔ مگر ہم پوچھتے ہیں کہ اسے ہمارے ملک میں آنے کا کیا حق ہے؟ کہتے ہیں یہ الفاظ کسی نے جناب خواجہ کو جا سنائے۔ آپ جوش میں آ گئے اور فرمایا وہ ہمیں یہاں سے نکالے نہ نکالے مگر ہم نے اسے نکال دیا۔ فرشتہ نے لکھا ہے شہاب الدین غوری کے مقابلہ میں پہلی جنگ میں پرتھوی راج دو لاکھ سوار لے کر پہنچا تھا۔ دوسری مرتبہ جو لڑائی ہوئی اس میں اس کے تین لاکھ سوار تھے۔ ہندوستان کے تمام راجا اس کے جھنڈے کے نیچے جمع تھے۔ جو تعداد میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ہوں گے اور تین ہزار ہاتھی تھے۔ تراواڑی کے میدان میں مقابلہ ہوا۔ خوب گھمسان کا رن پڑا۔ بڑے بڑے راجائوں نے شکست کھائی اور مارے گئے۔ پرتھوی راج نے بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کی مگر دریائے گنگا سے آگے نہیں پہنچنے پایا تھا کہ ایک دلیر آدمی نے تعاقب کر کے گرفتار کر لیا اور شہاب الدین غوری کے حضور میں پیش کر دیا ۔ جہاں اسے ملک فنا کو روانہ کر دیا گیا اور اس طرح جناب خواجہ کی پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں کے دلوں میں جناب خواجہ کی شخصی عظمت اور علمی فضیلت نے پہلے سے زیادہ گھر کر لیا۔ وہ لوگ جو آپ کے دست حق پرست پر اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، مسلمان ہو گئے۔ جو لوگ اسلام کو الزام دیتے ہیں وہ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ شہاب الدین غوری نے فتح یاب ہونے کے بعد ہندوستان میں اقامت اختیار نہیں کی بلکہ وہ اجمیر آیا۔ پرتھوی راج کے بیٹے کو اپنا مطیع و باج گزار بنا کر واپس چلا گیا۔ صرف قطب الدین ایبک جو بعد میں ہندوستان کا شہنشاہ بنا اس فتح کے بعد ہندوستان میں شہاب الدین غوری کا نائب تھا اگر غوری یہاں رہتا تو آج ہندوستان کی حالت کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔

ہندوستان میں اسلام پھیلا تو انہی خواجہ معین الدین چشتی جیسے بریہ نشینوں کے طفیل پھیلا ہے۔ ہر چند شاہان اسلام خواہ کتنے ہی عمدہ مسلمان کیوں نہ ہوں۔ لیکن ان کے بارے میں یہ کبھی نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے سرکاری طور پر اسلام کی تبلیغ کی یا عیسائیوں کی طرح مشینری اسکول اور کالج قائم کیے۔ یہ صرف اولیائے کرا م ہی کی کوششوں کا حصہ ہے کہ آج پاک و ہند کے بام و در اسلام کے نام سے آشنا ہیں۔
خواجہ معین الدین چشتی کے بیان میں ایک بات خاص ذکر کے قابل ہے۔ وہ یہ کہ جناب سید حسن مشہدی جنہیں خنگ سوار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قطب الدین ایبک نائب ہند کی طرف سے اجمیر کے داروغہ مقرر کے گئے۔ خنگ سوار نہایت نیک نفس ، پاک باطن اور پابند صوم و صلوٰة بزرگ تھے۔ لیکن باوجود اثنا عشری شیعہ ہونے کے جناب خواجہ کے ممدو معاون تھے ۔ حالانکہ جناب خواجہ شیعہ نہیں تھے۔ لیکن ان کے طرز عمل اور حسنِ اخلاق نے انہیں اپنا ایسا گرویدہ بنایا کہ خنگ سوار ہر قدم پر خواجہ کے ساتھ رہے۔ جس سے اسلام کی اشاعت کرنے اور خلق خدا کی خدمت کرنے میں بڑی مددملی۔ خواجہ معین الدین چشتی نے ہندوستان میں سلسلہ چشت کو ایسا پھیلایا کہ آج پاک و ہند میں چشتی سلسلے کے بزرگ ہر جگہ موجود ہیں ۔ اور ان کے لاکھوں مریدین ہیں۔

سیرت العارفین میں لکھا ہے۔ آپ نے ستانوے برس کی عمر میں وفات پائی۔ تاریخ وفات 6 رجب المرجب 336ھ ہے۔ آپ اجمیر میں فوت ہوئے۔ اور یہیں آپ کا مزار پر انوار مرجع خلائق ہے۔ آپ کی تصنیفات کے بارے میں لکھا ہے اگرچہ آپ نے کوئی مستقل تصنیف نہیں چھوڑی البتہ آپ کے ملفوظات کو جمع کر کے مختلف کتابیں مرتب کر لی گئیں ۔ جن میں سے ایک ?دلیل العارفین? ہے۔ جسے آپ کے خلیفہ و مرید جناب بختیار کاکی نے مرتب کیا ہے۔