| الف ثانی | |||||||||||||||
| -1 | |||||||||||||||
| |||||||||||||||
| |||||||||||||||
Tuesday, October 20, 2009
مجدد الف ثانی ابو بکر شبلیByMuhammadAmirSultanChishti923016778069
مجدد الف ثانی ابو بکر شبلیByMuhammadAmirSultanChishti923016778069
| الف ثانی | |||||||||||||||
| -1 | |||||||||||||||
| |||||||||||||||
| |||||||||||||||
شیخ محمد میر المعروف میاں میر صاحبBuMuhammadAmirSultanChishti923016778069
| شیخ محمد میر المعروف میاں میر صاحب | |||||||||||
| |||||||||||
ولادت:۔ 938ہجری یا 957ہجری میں سہوان (سندھ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم قاضی سائیں دتہ فاروقی تمام سندھ میں نہایت معزز و ممتاز بزرگ شمار کےے جاتے تھے۔ تحفتہ الکرام میں لکھ ہے کہ قاضی سائیں دتہ حضرت عمر فاروق کی اولاد سے تھے۔ اور اپنے وقت کے ممتاز و متحبر علمائے اسلام میں سے تھے۔ آپ کا اسم گرامی شیخ محمد میر تھا مگر میا ں میر کے نام سے شہرت پائی۔ آپ کی والدہ ایک صاحب علم و عمل خاتون تھیں۔آپ نے انہیں سلسلہ قادریہ کے سلوک سے روشناس کرایا اور تعلیم دی اس کے بعد آپ قادری سلسلے کے ایک نامور بزرگ جناب شیخ سیوستانی کے مرید ہو گئے۔ آپ ایک طویل عرصے تک جناب شیخ کی خدمت میں حاضر رہے۔ جب آپ کی عمر پچیس برس کی ہوئی تو آپ جناب شیخ کی اجازت سے لاہور آ گئے۔ یہ اکبر کی حکومت کا زمانہ تھا۔ ان دنوں لاہور میں جناب مولانا سعد اللہ درس قرآن فرمایا کرتے تھے۔ آپ ان کے درس میں شامل ہو گئے۔ اور ان سے خوب استفادہ کیا۔ ان کے علاوہ چند سال مفتی عبدالسلام لاہوری سے بھی اکتساب علم کیا۔ تکمیل علوم ظاہری و باطنی کے بعد آپ نے خلق خدا کی اصلاح و تبلیغ کا سلسلہ جاری کیا۔ جس سے تھوڑی ہی مدت میں تمام لاہور میں آپ کی شہرت پھیل گئی۔ آپ کو نام و نمود اور شہرت سے چونکہ سخت نفرت تھی اس لیے چند روز کے لیے لاہور سے عازم سر ہند ہو گئے۔ ایک سال سرہند میں قیام کرنے کے بعد آپ لاہور میں واپس تشریف لے آئے۔ اور پھر آخر عمر تک یہیں رہے۔ جس مقام پر آپ نے قیام کیا۔ اسے محلہ باغبان کہتے ہیں جسے ان دنوں خانپورہ بھی کہتے ہیں ۔آپ نے سرہند سے واپس آ کر درس و تدریس کا سلسلہ پھر سے جاری کیا اور ایسے شاگردوں کی تعداد تیار کی جنہوں نے اسلام پھیلانے میں بڑا نمایاں کام کیا۔ آپ اپنے مریدوں اور شاگردوں پر خاص توجہ فرماتے۔ ان کی اصلاح فکر اور تہذیب نفس کو مقدم جانتے تھے۔ اور یہ کام چونکہ بڑا سخت ہے ۔ اس لیے آپ کسی کو اپنا مرید نہیں بناتے تھے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ جو شخص آپ کو ملنے کے لیے حاضر ہوتا۔ آپ اس سے بڑی خوش خلقی اور خنداں پیشانی سے پیش آتے ۔ اور ان کے حال پر اتنی شفقت فرماتے کہ اسے اس کا سو فیصدی پورا یقین ہو جاتا۔ کہ آپ صرف میرے حال پر ہی کرم فرماتے ہیں۔ لیکن اپنے مریدوں کے احوال پر خاص کر کڑی نظر رکھتے۔ ان سے اگر کوئی خلاف شریعت کام ہو جاتا تو انہیں سختی سے منع کرتے۔ اور آئیندہ کے لیے تنبیہہ فرما دیتے۔ ایک مرتبہ آپ کے مرید و خلیفہ ملاّ خواجہ بہاری نے آپ کی خدمت میں ایک واقعہ عرض کیا۔ بہاری نے کہا ایک روز کچھ لوگ میرے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک مکان گر جانے کے آثار پیدا ہوئے۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ فوراً باہر چلے جاو?۔ سب لوگ اٹھ کر باہر چلے گئے۔ لیکن میں وہیں جم کے بیٹھا رہا۔ اور با آواز بلند کلمہ طیب پڑھتا رہا۔ حتٰی کہ چھت گری اور دو لکڑیاں آپس میں اس طرح ملیں جن کے درمیان میں سلامتی کے ساتھ بیٹھا ہوا ورد کر رہا تھا۔ جب آپ نے یہ واقعہ سنا تو آپ نے خواجہ بہاری سے کہا۔ ہائے مرتبہ ہائے مرتبہ۔ آپ نے خواجہ بہاری سے کہا کیا تم نے کلمہ طیب کو بلند آواز سے اس لیے پڑھا کہ لوگوں کے دل میں تمہاری درویشی کی قدروقیمت پیدا ہو جائے۔ اور لوگ تمہارے بارے میں یہ کہیں کہ کتنا بڑا درویش ہے کہ مرتے وقت بھی خدا کو یاد کرتا رہا۔ تمہیں چاہیے تھا کہ بلند آواز سے پڑھنے کی بجائے آہستہ آہستہ پڑھتے۔ آپ کی بات صرف مریدوں تک ہی محدود نہ تھی ۔ بلکہ خود بھی ایسا کرتے۔ چنانچہ آپ کو تمام عمر کسی شخص نے کبھی ہاتھ میں تسبیح لیے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ کا معمول یہ تھا کہ رات کو حجرے کا دروازہ بند کئے بیٹھے رہتے۔ اور ذکر خدا میں مشغول رہتے۔ یہی سبب ہے کہ آپ سندھ سے لاہور تشریف لانے کے بعد بھی چالیس برس تک لاہور کے لوگوں میں گمنام رہے۔ عبادت و ریاضت اور مجاہدے سے انسان کی طبیعت ضبط نفس کو پا لیتی ہے۔ اور انسان میں جب یہ قدرت پیدا ہو جاتی ہے تو اس کی روحانیت کا یہ لازمہ ہے کہ وہ مخالف کی تمام قوتوں کو مسخر کر لیتی ہے۔ پھر دنیا کی محبت اور کسی حاکم کی قوت نہ اسے اپنا غلام بنا سکتی ہے نہ اسے جیت سکتی ہے۔ سیر ت نگاروں نے لکھا ہے کہ اکثر بڑے بڑے امراءو وزراءاور بادشاہ جو آپ کے معتقد تھے۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور بڑی بھاری بھاری رقمیں بطور نزرانہ پیش کرتے آپ فرماتے تم مجھے دنیا کا فقیر سمجھ کر یہ نذرانے لائے ہو۔ جاو? اسے لے جا کر مستحق لوگوں میں تقسیم کر دو میں دنیا کا فقیر نہیں اللہ کا ہوں۔ دارا لشکوہ نے لکھا ہے کہ میں نے کسی اللہ والے کو دنیا کو اتنا حقیر سمجھنے والا نہیں دیکھا جیسا کہ اپ تھے۔ جہانگیر نے تزک جہانگیری میں لکھا ہے کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ لاہور میں سندھ کے رہنے والے شیخ محمد نام کے ایک عالم باعمل اور نہایت فاضل و قابل بزرگ رہتے ہیں توّکل اور گوشہ عزلت ان کا شعار ہے۔ تو مجھے ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ اور میں نے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ کیا۔ لیکن بوجہ چند میرے لیے لاہور پہنچنا دشوار ہو گیا۔ ناچار میں نے ان کی خدمت میں ایک عریضہ ارسال کیا۔ اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی ۔ چنانچہ آپ میری درخواست پر دہلی تشریف لائے۔ اور ایک طویل عرصے تک مجھے ان کے ساتھ بیٹھنے کا موقع میسر آیا۔ اور بہت سے حقائق ومعارف ہاتھ آئے ۔ میں نے ہر چند ان کی خدمت میں کچھ ہدیے اور نذرانے پیش کرنے کی کوشش کی ۔ مگر ان کی شان فقر کو دیکھ کر اظہار کرنے کی جرا?ت نہ ہوئی۔ اس ملاقات پر جہانگیر نے آخر میں آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ میرے لیے کوئی خدمت ارشاد فرمائیں کسی چیز کی خواہش کریں۔ آپ نے فرمایا بس تم سے خواہش یہ ہے کہ اب مجھے رخصت کرو ۔ چنانچہ جہانگیر نے آپ کو نہایت ادب وا حترام کے ساتھ رخصت کیا۔ اور آپ لاہور واپس تشریف لے آئے۔ اس کے بعد جہانگیر نے آپ سے باقاعدہ خط و کتابت جاری رکھی۔ اکثر خود اپنے ہاتھ سے خط لکھتا اور آپ کے مقام و منصب اور ادب وا احترام کو ملحوظ رکھتا۔ ایک خط میں آپ کو یوں لکھا ?پیر دستگیر میر ازیں نیاز مند درگاہِ الٰہی جہانگیر? جہانگیر کےبعد جب شاہجہاں تخت حکومت پر بیٹھا اس نے بھی اپنے والد کی طرح بلکہ جہانگیر سے کچھ زیادہی آپ کی قدرو منزلت کی۔ وہ دو مرتبہ آپ کی خدمت میں لاہور حاضر ہوا اور بحوالہ دارالشکوہ دونوں مرتبہ اپنے باپ کے ہمراہ آیا۔ دارالشکوہ لکھتا ہے کہ جب شاہجہاں آپ کے حجرے میں داخل ہوا تو آپ نے سب سے پہلی بات جو شاہجہاں سے کہی وہ یہ تھی کہ عادل و منصف بادشاہ کو اپنی رعیت و سلطنت کی خبر گیری کرتے رہنا چاہئے۔ اور تمام قوتوں کو مملکت کے آباد و خوش حال کرنے کے لیے صرف کرنا چاہئے۔ کیونکہ رعیت اگر خوش حال اور ملک آباد ہے تو فوج میں اطمینان اور خزانے میں دولت کے انبار لگے رہیں گے۔ دارالشکوہ لکھتا ہے کہ بیس برس کی عمر میں ایک مرتبہ مجھے ایک ایسا مرض لاحق ہوا کہ بچنے کی امید نہ رہی۔ جب تمام طبیب عاجز آ گئے۔ کسی کی دوا کار گر نہ ہوئی تو شاہجہاں مجھے آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ اور عرض کیا کہ میرا یہ بیٹا کسی لاعلاج مرض میں مبتلا ہے۔ تمام حکیموں نے جواب دے دیا ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفا کے لیے دعا فرمائیں آپ نے یہ سن کر دعا فرمائی ۔ اور پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مٹی کا وہ پیالہ جس میں خود پانی پیا کرتے تھے۔ پانی سے بھر کر مجھے دیا۔ جسے میں نے پی لیا۔ قدرت خدا کہ چند ہی روز میں بیماری بالکل ہی جاتی رہی۔ اور میں تندرست ہو گیا۔ علامہ اقبال نے اسرارورموز میں آپکی شان فقر سے متعلق ایک واقعہ نظم کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ شہنشاہ ہند آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ ایک عرصے سے میں دکن کی مہم میں مصروف ہوں لیکن مہم سر ہونے میں نہیں آتی۔ آپ نے یہ سن کر خاموشی اختیار کی۔ اتفاق سے اسی وقت ایک مرید آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور چاندی کے چند سکےّ آپ کی خدمت میں پیش کر کے عرض کیا۔ میں نے انہیںبڑی محنت و مشقت کے ساتھ جائز طور پر کمایا ہے ۔ آپ انہیں بطور نذرانہ قبول فرما لیں۔ آپ نے فرمایا۔ یہ سکے شہنشاہ ہند کو دے دو جو باوجود بادشاہ ہونے کے اب بھی فقیر و گدا ہے۔ اگرچہ اس کی حکومت چاند سورج اور ستاروں پر ہے لیکن پھر بھی حرص و ہوس میں گرفتار ہو کر اپنے آپ کو مفلس خیال کرتا ہے۔ دنیا بھر کی دولت میسر آنے کے باوجود اس کی نیت نہیں بھری ۔ وہ دوسروں کے دستر خوان پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ اور حرص و ہوس کی بھوک نے اسے تمام جہان کو ہڑپ کرنے پر آمادہ کیا ہوا ہے۔ اس کی اس ناداری و ضرورت مندی سے خلق خدا سخت پریشان ہے۔ اس کی سطوت اہل دنیا کی دشمن ہے۔ اس کا کارواں نوعِ انسانی کا رہزن ہے۔ اس کی فکر خام نے لوٹ مار و قتل و غارت گری کا نام تسخیر رکھا ہے۔ خود اس کا لشکر اور اس کے غنیم کا لشکر اس کی بھوک کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ شاید اسے معلوم نہیں کہ فقیر کی بھوک کی آگ تو اسی کی حد تک محدود رہتی ہے ۔ لیکن بادشاہ کی بھوک کی آگ ملک وملت سب کو فنا کرد یتی ہے۔ اور شاید اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ جو شخص غیروں کے لیے تلوار اٹھاتا ہے ہو خود اپنے سینے میں خنجر گھونپتا ہے۔ جناب میاں میر کتاب و سنت پر عمل کرتے اور حدود شریعت سے قطعاً باہر نہیں جاتے تھے۔ آپ کے اوصاف حمیدہ و اخلاق حسنہ کے بارے میں دارالشکوہ نے لکھا کہ اگر یہ چیزیں با شکل انسان ہوتیں توجناب میاں میر ہوتے۔ آپ کا لباس ہمیشہ سادہ اور بہت معمولی قیمت کا ہوتا تھا۔ آپ سر پر پگڑی اور ایک موٹے کپڑے کا کرتہ پہنا کرتے تھے۔مگر صفائی اور پاکیزگی کا بھی خیال رکھتے تھے۔ جب کبھی کپڑے میلے ہو جاتے انہیں دریا پر لے جاتے اور خود اپنے ہاتھ ہی سے دھوتے ۔ مریدین اور معتقدین کو بھی یہی تاکید فرمایا کرتے کہ اپنا کام خود اپنے ہاتھ ہی سے کرنا چاہیے۔ اور لباسوں میںمعلوم نہیں ہوتا کہ وہ امیر ہے یا غریب ۔ خرقہ جو صوفیوں کا خاص لباس ہے آپ نے اس کے پہننے کا مطلق رواج نہیں دیا۔ آپ نے تمام عمر کچھ ایسی گوشہ? نشینی و گمنامی پسند فرمائی کہ باوجود اتنے بڑے عالم و فاضل اور صاحب فضل و کمال ہونے کے اپنی کوئی تصنیف نہیں چھوڑی ۔ آپ کے مضامین کی ندرت کو دیکھ کر بڑے بڑے علماءوفضلاءعش عش کر اٹھتے۔ اور نہایت عالمانہ انداز سے مسائل کو ایک ثانہ کی مہلت میں یوں حل کر کے رکھ دیتے کہ بڑے بڑے علماءدنگ رہ جاتے۔ لیکن اگر کوئی شخص آپ کے مضامین کو قلم بند کرنے کی کوشش کرتا ۔ آپ اسے منع فرما دیتے تھے۔ آپ کے مریدوں کی تعداد بے شمار ہے۔ آپ قادری سلسلے کے بزرگ ہیں ۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنے خلفاءسے فرمایا کہ دیکھو تم دوسروںکی دیکھا دیکھی کہیں میری ہڈیاں نہ بیچنے لگنا۔ اور میری قبر پر دوسروں کی طرح دکان نہ کھول لینا۔ آپ آخر عمر میں اسہال کی بیماری میں مبتلا ہوئے۔ پانچ دن تک بیمار پڑے رہے۔ 7ربیع الاول 1054ہجری میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ آپ نے وفات اسی محلہ خان پور میں اپنے حجرے میں پائی۔ جس میںآخر تک آپ بیٹھے رہے۔ اور وہیں مدفون ہوئے۔ آپ کا مزار اورنگزیب عالم گیر نے تیار کروایا تھا۔ مگر اس کے مسالے کا اہتمام پہلے سے دارالشکوہ نے کیا تھا۔ مگر اسے موت سے مہلت نہیں ملی۔ کہ حکومت کے جھگڑوں میں قتل ہو گیا۔ میاں میر مسلک:۔ہندستان میں قادر ی سلسلے کا آغازسلطان سکندر لودھی کے زمانے میں جناب سید محمد غوث نے کیا جن کا سلسلہ نسب نوواسطوں سے جناب شیخ سید عبدالقادرجیلانی تک پہنچتا ہے۔ جناب سید محمد غوث 4128ہجری میں ملتان کے قریب روچھ نام کے ایک مقام پر آ کر مقیم ہوئے۔ اسلام کی تبلیغ شروع کی اور تصوف کے قادری سلسلے کو فروغ دیا ۔ اس زمانے میں وحدت الوجود کے خیالات مسلمانوں میں عام تھے جن کا آگے چل کر نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوو?ں اور مسلمانوں کے خیالات کو یکجا کر کے بھگتی کے نام سے ایک مذہبی تحریک جاری ہوئی جس کے بانی بھگت کبیر کہے جاتے ہیں۔ جو 1440ہجری میں پیدا ہوئے۔ جس زمانے میں جناب مجدد الف ثانی کی عالم گیر شخصیت قادری سلسلے کی راہ سے بالکل ہٹ کر قادریوں کے نظریہ وحدت الوجود کے خلاف اپنے مشہور نظریہ توحید شہودی کو پھیلا رہی تھی۔ اور تصوف میں ان کا سلسلہ نقشبند ی ہندوستان کے کونے کونے میں فروغ پا رہا تھا۔ جناب میاں میر صاحب جنہوں نے قادری سلسلے کی تعلیم اپنی والدہ محترمہ سے پائی۔ لاہور میں اکیلے تن تنہا سب سے الگ تھلگ بیٹھ کر قادری سلسلے کو ترقی دے رہے تھے۔ اگرچہ میاں میر صاحب وحدت الوجود کے قائل تھے ہر چند یہ نظریہ مغل بادشاہوں کے مزاج کے موافق تھا۔ جہانگیر ، شاہجہاں اور دارالشکوہ آپکے مرید تھے اور آپ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ لیکن اس سے یہ رائے قائم کرنا کہ چونکہ میاں میر صاحب وحدت الوجود کے قائل تھے اور یہ نظریہ مغلوں کے مزاج سلطنت کے لیے نہایت مفید تھا اس لیے وہ آپ کے ارادت مند و عقیدت کیش تھے۔ سرا سر بے انصافی ہے درحقیقت یہ نتیجہ آپ کے صلح کل مشرب اختیار کرنے کا تھا ? جس نے آپ کو اس قدر جاذبیت و مقبولیت عطا کی کہ اپنے تو اپنے غیروں تک نے آپ کی غلامی کا طوق اپنے زیب گلو کیا ۔ جس کی ایک زندہ مثال امر تسر کا دربار صاحب ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جناب میاں میر ہی نے سکھوں کی درخواست پر اپنے دست مبارک سے اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ جیسا کہ ایک مرتبہ جہانگیر نے آپ کو آگرے تشریف لانے کی دعوت دی آپ چلے تو گئے۔ لیکن جہانگیر کے پاس پہنچ کر اس کے سامنے حسب معمول پندو نصائخ کے دفتر کھولے۔ اور جہانگیر نے جب مطمئن ہو کر آپ سے عرض کیا کہ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو ارشاد فرمائیں آپ نے فرمایابس تمھارے لائق ایک ہی خدمت ہے کہ ہم فقیروں کو آئندہ اپنے پاس بلانے کی زحمت نہ دو۔ شہزادہ دارالشکوہ اپنی کتاب سفینتہ الاولیاءمیں لکھتا ہے کہ جناب میاں میر طریقت کے لحاظ سے اپنے زمانے کے جنید تھے۔ کسی کو آسانی سے اپنی ارادت مندی کے حلقے میں داخل نہیں کرتے تھے۔ اور جب کسی کو اپنا مرید بنا لیتے اسے منزل مقصود تک پہنچا دیتے تھے۔ آپ کی عادت یہ تھی کہ اپنے مریدوں کو مرید کہنے کی بجائے دوست کہتے۔ جب کسی کو بلانا ہوتا تو فرماتے جاو? ہمارے فلاں دوست کو بلا لاو?۔ اور وقت کے حاکموں اور بادشاہوں سے کسی صورت میں بھی نذر و نیاز یا ہدیے اور تحفے قبول نہیں کرتے تھے ۔ آپ اکثر یہ شعر پڑھا کرتے۔ شرط اول در طریق عاشقی دانی کہ چیست ترک کردن ہر دو عالم راو?پشت پازون | |||||||||||
مخدوم علاو?الدین کلیری ByMuhammadAmirSultanChishti923016778069
| مخدوم علاو?الدین کلیری | |||||||||||
| |||||||||||
592ھ کوتوال ضلع ملتان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم جناب سید عبدالقادر جیلانی کے پوتے اور آپ کی والدہ محترمہ جناب فرید الدین مسعود گنج شکر کی حقیقی بہن تھیں۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ اس کے بعد آٹھ سال کی عمر میں آپ اپنے ماموں جان کی خدمت میں پاکپتن آ گئے۔ 603ہجری میں ان سے بیعت کی۔ جناب مخدوم کلیری اپنے ماموں کے لنگر کے انچارج تھے۔ فقیروں ، درویشوںاور دوسرے حاجت مندوں میں آپ ہی کھانا تقسیم کیا کرتے تھے۔ سب کو خوب پیٹ بھر کر کھانا کھلاتے مگر خود بھوکے رہتے تھے۔ اسی رعایت سے آپ کو جناب فرید الدین نے صابر فرمایا جو آگے چل کر آپ کی شہرت کا سبب ہوا۔ جب علوم ظاہری و باطنی میں کمال حاصل کر چکے۔ تو آپ کو دین اسلام کی تبلیغ اور علوم دین کی اشاعت کے لیے جناب فرید نے شہر فیض بخش کلیر کو جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ پاکپتن سے کلیر تشریف لے گئے۔ اور وہاںپہنچ کر اپنے فرض منصبی کو ادا کرنا شروع کر دیا۔ابھی کلیر میں آئے ہوئے آپ کو تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ آپ کے کمالات علمی کی ہر طرف دھوم مچ گئی۔ ایک خلق خدا آپ سے فیض پانے لگی۔ ایک مرتبہ آپ جمعةالمبارک کی نماز ادا کرنے کے لیے اپنے درویشوں کے ساتھ شہر کی جامع مسجد میں گئے۔ اور اس صف میں جا کر بیٹھ گئے جو شہر کے معززین کے لیے مخصوص تھی۔ جب شہر کے امراءو مشائخ آئے تو انہوں نے آ پ اور آپ کے درویشوں سے تعرض کیا۔ اور سختی سے کہا کہ یہ ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ یہاں سے اٹھ جاو? ظاہر ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں امیر و غریب ، شاہ و گدا سب برابر ہیں ۔ ان کا تعرض کرنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف تھا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ بات پسند نہ آئی۔ چنانچہ اس نے فوراً ہی انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ کہتے ہیں شہر کی جامع مسجد گر گئی۔ اور ہزاروں آدمی اس کے نیچے دب کے مر گئے اور شہر تمام کا تمام برباد ہو گیا۔ طاعون کی ایسی بیماری پڑی کہ بارہ بارہ کوس تک کوئی چرند پرند ، حیوان اور انسان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ آپ کی طبیعت میں جلال بہت زیادہ تھا۔ یہی سبب ہے کہ آپ کے رعب و داب سے متعلق لوگوں نے طرح طرح کے قصے پھیلا رکھے ہیں۔ ہمیں ان قصوں سے مطلق غرض نہیں۔ ہمارے نزدیک ستائش کا پہلو تو یہ ہے کہ آپ خلاف شریعت نہ خود چلے نہ دوسروں کو چلتا دیکھ سکتے تھے۔ بلکہ احکام اسلام کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سختی سے ڈانٹتے تھے۔ جب شہر کلیر برباد ہوا تو اس کے بعد لوگوں پر آپ کی روحانی قوت کی اتنی ہیبت چھا گئی۔ کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہوئے انہیں خوف آتا تھا۔ آپ کے خلفاءمیں جناب شیخ شمس الدین ترک پانی پتی آپ کے ممتاز خلیفہ ہیں۔ وہ آپ کی خدمت میں کامل بتیس برس تک رہے۔ اور کبھی آپ سے جدا نہیں ہوئے جب ترک پانی پتی آپ سے روحانی تحصیل کر چکے تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ جاو? سواروں میں جا کر ملازم ہو جاو? اور دیکھو جس روز تمہاری کوئی دعا کسی کے حق میں قبول ہو جائے۔ سمجھ لینا کہ میں دنیا سے چلا گیا۔ چنانچہ ترک پانی پتی مرشد کے حکم سے شاہی فوج میں نوکر ہو گئے۔ اور سلطان علاو?الدین خلجی کے ساتھ چتور گڑھ کی مہم کو سر کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ سلطان نے بڑی کوشش کی اور ایک طویل عرصے تک قلعہ کا محاصرہ کیے رکھا۔ مگر قلعہ فتح نہ ہوا۔ اسی دوران میں ایک روز رات کو ایسی آندھی چلی کہ تمام لشکر کے چراغ پٹ ہو گئے۔ مگر ایک چراغ جل رہا تھا جسے دیکھ کر سلطان کو بڑا تعجب ہوا۔ سلطان معلوم کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک شخص خیمے میں قرآن پڑھ رہا ہے۔ وہ یہ ماجرا دیکھ کر چپ چاپ مو?دب کھڑا رہا ۔ جب ترک پانی پتی قرآن حکیم کی تلاوت سے فارغ ہوئے۔ تو سلطان کو باہر کھڑا دیکھ کر جلدی سے اس کی تعظیم کے لیے آگے بڑھے اور پوچھا کہ حضور نے اس وقت کیسے زحمت فرمائی۔ سلطان نے کہا میرا قصور معاف کر دیجیے۔ اور اللہ کی بارگاہ میں دعا کیجیے۔ کہ قلع فتح ہو جائے۔ آپ نے یہ سن کر کہا کہ میں تو آپ کی فوج کا ایک ادنیٰ سا ملازم ہوں۔ مجھے ایسی مقبولیت کہاں نصیب ہے جو میری دعا قبول ہو جائے۔ آپ کو شاید کسی نے بہکا دیا ہے۔ سلطان نے اصرار کیا کہ نہیں ایسا نہ کہیے۔ آپ دعا کیجیے۔ اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائے گا۔ چنانچہ ترک پانی پتی نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ اللہ نے دعا قبول فرما لی۔ اور قلعہ فتح ہو گیا۔ قدرت خدا جناب مخدوم کلیری کی بات پوری ہوئی۔ جس روز ترک پانی پتی کی دعا قبول ہوئی۔ اسی روز جناب مخدوم کلیری کا انتقال ہو گیا۔ ترک پانی پتی کے دل نے اس واقعہ ناگزیر کی گواہی دی ۔ چنانچہ وہ کلیر پہنچے اور اپنے مرشد کے تجہیز و تکفین کے فرض کو سر انجام دیا۔ جناب مخدوم علاو?الدین کلیری صابری نے690ھ میں انتقال فرمایا۔ آپ کا مزار کلیر ضلع سہارن پور میں نہر گنگ کے کنارے پر واقع ہے۔ شہنشاہ نور الدین جہانگیر نے اپنے عہد میں آپ کے مزار کا گنبد تعمیر کرایاتھا۔ آپ کے مزار پر ہر سال عرس ہوتا ہے۔ تمام مذاہب کے لوگ بلا امتیاز و تخصیص کے اس میں شامل ہوتے ہیں۔ خواجہ حسن نظامی نے آپ کے عرس کی ایک کیفیت لکھی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ربیع الاول کی پہلی تاریخ سے چودہ تک جناب مخدوم کلیری کا عرس ہوتا ہے۔ جس میں دو لاکھ کے قریب مجمع ہوتا ہے۔ صابریہ سلسلے کے تمام مشائخ اور ان کی خانقاہوں کے سجادہ نشین اس میں شامل ہوتے ہیں۔ نذرونیاز اور لنگر کے طعام کے لیے کم سے کم پانچ لاکھ روپیہ خرچ کیا جاتا ہے۔ یہ رقم وہ ہے جو سال بھر تک ہر درویش اپنے مریدین سے لنگر کے خرچ کے لیے نذر ونیاز قبول کر کے جمع کرتا ہے۔ اور عرس کے موقع پر یہاں لا کر خرچ کر دیتا ہے۔ سینکڑوں بنیے گھی، قند، اور چاول وغیرہ مسلمان زائرین کے ہاتھ فروخت کر کے چند ہی دنوں میں مالا مال ہو جاتے ہیں۔ تقسیم طعام کی یہ صورت ہوتی ہے کہ ہر فقیر کے پاس بریانی کے چاولوں اور خمیری روٹیوں کا ایک انبار لگ جاتا ہے۔ جہاں تک وہ کھا سکتے ہیں کھاتے ہیں جو خشک ہو سکتا ہے اس کو سکھا کر بطور تبرک اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ صابریہ سلسلہ کے بعض بعض مشائخ ایسے بھی آتے ہیں ۔ جو ہزار ہزار روپیہ کا کھانا پکوا کر فقیروں اور غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ حلوے اور مٹھائیوں پر نیاز دلواتے ہیں۔ غرض عرس کی دھوم دھام کہاں تک بیان کریں۔ یہ موقع دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ سماع کی محفلیں، فاتحہ خوانی، اور ذکر و شغل کے حلقے ، حال وقال اور وعظ و نصیحت کے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں۔ | |||||||||||
خواجہ معین الدین چشتیByMuhammadAmirSultanChishti923016778069
| خواجہ معین الدین چشتی | |||||||
| |||||||
630ھ سیستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم جناب خواجہ سیدغیاث الدین ایک خدا رسیدہ اور صاحب اثر و دولت بزرگ تھے۔ آپ کے زمانے میں غز ترکوں نے سلجوقی بادشاہ سلطان سنجر پرحملہ کیا۔ سیتان کا حاکم سنجر کی طرف سے بڑی بے جگری سے لڑا۔ مگر کامیاب نہ ہو سکا ۔ وہ غز ترکوں کے ہاتھ گرفتار ہوا۔ سلطان سنجر نے راہ فرار اختیار کی۔ غز ترکوں کے حملے سے سیتان میں جو تباہی وبد نظمی پھیلی اس نے خواجہ غیا ث الدین کو دلبرداشتہ کر دیا۔ وہ سیتاں کو چھوڑ کر خراسان آ گئے۔ جہاںخواجہ معین الدین کی ابتدائی نشو ونما ہوئی۔٩٤٥ ھمیں جب خواجہ معین الدین بمشکل تیرہ برس کے ہوں گے۔ انہوں نے غر ترکوں کی ہولناکیوں اور تباہیوں کا نقشہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سلطان سنجر کو غزترکوں کے مقابلے میں دوبارہ شکست ہوئی ۔ اور وہ ان کے ہاتھ گرفتار ہو گیا۔ اب سیستان کو بے دست و پا کر کے ترکوں نے جو آفت مچائی۔ خدا کی پناہ، ایک ایک کر کے تمام بڑے بڑے آدمی قتل کر دیے گئے۔ جن میں علماء، فضلائ، شیوخ اور شہر کے دولت مند لوگ شامل تھے۔ عورتوں کی عصمت دری کی ۔ مسجدوں کو ویران کیا گیا۔ ان واقعات نے خواجہ معین الدین کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ دنیا سے یکسر بیزار ہو گئے۔ ١٥٥ھ میں کہ جب خواجہ معین الدین پندرہ برس کے تھے۔ آپ کے والد محترم انتقال کر گئے۔ معلوم نہیں آپ کل کتنے بہن بھائی تھے۔ مگر ترکے کی تقسیم سے پتہ چلتا ہے کو دو چار ضرور ہوں گے۔ باپ کے ترکہ سے آپ کے حصے میں ایک باغ اور چکی ملی تھی ۔ جس کو آپ نے اپنی روزی کا ذریعہ بنایا۔ یعنی آپ خود ہی باغ کی دیکھ بھال کرتے۔ پانی پہنچاتے اور خود ہی فصل کاٹتے تھے۔ ایک روز اپنے باغ میں درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ اوپر سے ایک عارف کامل اور صاحب علم وعمل بزرگ کا گزر ہوا۔ آپ نے ان کی بڑی تعظیم کی۔ ایک سایہ دار درخت کے نیچے لا کے بٹھایا اور ایک تازہ انگوروں کے خوشہ سے تواضع کی۔ اور نہا یت ادب کے ساتھ دو زانو ہو کر ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ یہ بزرگ ابراہیم تندوزی تھے۔ انہوں نے ایک ہی نظر میں اندازہ لگا لیا کہ یہ نوجوان اپنے دل میں حقیقت کو پانے کا جزبہ رکھتا ہے۔ ع ۔ نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں۔ابراہیم تندوزی کی ملاقات نے خواجہ معین الدین کے دل پر بہت گہرا اثر کیا۔ آپ نے باغ اور چکی فروخت کر کے اس کی رقم غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کر دی اور حق کی تلاش میں سر گرداں ہوئے۔ خواجہ خراسان سے چل کر سمر قند و بخارا آئے۔ یہاں آپ نے قرآن حکیم حفظ کیا تفسیر ، حدیث، فقہ اور دوسرے علوم دین میں تکمیل حاصل کی۔ اور اس کے بعد نیشا پور کے ایک قصبے ہارون میں ا گئے۔ یہاں ایک خدا رسیدہ صاحب علم و تقوے ٰ بزرگ شیخ عثمان ہارون تشریف رکھتے تھے اور ایک خلق خدا ان کے فیوض علمی سے فیض پا رہی تھی۔ خواجہ معین الدین ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہو گئے۔ شیخ عثمان ہارونی تصوف میں چشتی سلسلے کے بزرگ تھے۔ ان کی طریقت کا سلسلہ یوں ہے۔ کہ عثمان ہارونی چشتی جناب شیخ زندنی چشتی کے مرید تھے۔ زندنی جناب خواجہ مودود چشتی کے مرید تھے۔ مودود چشتی خواجہ ناصر الدین چشتی کے مرید تھے۔ جناب ناصر چشتی ، خواجہ محمد اسحاق بانیءسلسلہ چشت کے مرید تھے۔ خواجہ محمد اسحاق چونکہ خراسان کے اطراف میں چشت نامی ایک گائوں کے رہنے والے تھے اسی مناسبت سے چشتی کہلائے اور ان سے آگے جو ارادت مندی کا سلسلہ چلا یعنی جن بزرگوں نے ان کے ہاتھ پر بعیت کی انہیں چشتی کہا گیا ۔ ہر چند جناب اسحاق شام کے رہنے والے تھے مگر ایک مدت سے یہاں آ رہے تھے اور یہاں برسوں رہ کر اپنے فیوض باطنی سے لوگوں کو فیض پہنچایا اور یہیں مدفون ہوئے اس لیے انہیں چشتی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ تصوف کے کئی ایک سلسلے خواجہ حسن بصری کے واسطے سے جناب علی کرم اللہ وجہ?? تک پہنچتے ہیں۔ چنانچہ چشتی سلسلہ کا شجرہ طریقت ملاحظہ کریں۔ خواجہ محمد اسحاق بانیءسلسلہ چشت، خواجہ ممشا د علی دینوری کے مرید تھے۔ دینوری خواجہ ہبیرہ بصری کے مرید تھے۔ بصری خواجہ حزیفہ مرعشی کے مرید تھے۔ مرعشی حضرت سلطان ابراہیم ادھم کے مرید تھے۔ ادھم حضرت فضیل بن عیاض کے مرید تھے۔ فضیل بن عیاض عبدالواحد زید کے مرید تھے۔ زید حبیب عجمی کے مرید تھے۔ عجمی جناب خواجہ حسن بصری کے مرید تھے۔ ا ور حسن بصری جناب علی کرم اللہ وجہ? کے شاگرد اور مرید تھے۔ پاک وہند میں سلسلہ چشت جناب خواجہ معین الدین چشتی سے پھیلا۔ یہاں نیچے جا کر چشتی سلسلے کی دو شاخیں ہو جاتی ہیں۔ ایک چشتیہ نظامیہ ، اور دوسرے چشتیہ صابریہ۔ خواجہ معین الدین اپنے پیرومرشد سے خرقہ درویشی و سند ولایت حاصل کرنے کے بعد ٣٦٥ھ کے آخر میں بغداد آئے۔ تذکرہ نویسوں نے لکھا ہے کہ خواجہ معین الدین بغداد میں جناب سید عبد القادر جیلانی سے ملے۔ لیکن یہ صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ جیلانی ماہ ربیع الاول کے آخر میں عالم جاودانی کو سدھار چکے تھے۔ لکھا ہے کہ آپ نے شیخ یوسف ہمدانی سے ملاقات کی۔ مگر ہمدانی کا زمانہ بھی بہت پہلے کا ہے۔ وہ جناب عبدالقادر جیلانی کے ابتدائی زمانے میں ہو چکے تھے۔ اس لیے یہ بیان بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ کہ خواجہ کی ہمدانی سے ملاقات ہوئی۔ بغداد میں جن بزرگوں نے خواجہ معین الدین چشتی سے اکتساب کیا اور ان سے فیض اٹھا یا ان میں جناب شیخ دائود کرمانی اور شیخ الشیوخ جناب شہاب الدین عمر سہر وردیکے نام نمایاں ہیں۔ بغداد سے پھر خواجہ نے ہمدان کی راہ لی۔ یہاں ٹھہرے کچھ دن قیام کر کے اور بزرگان دین کے فیوض باطنی سے فائدہ اٹھا کر پھر تبریز آگئے۔ یہاں شیخ ابو سعید تبریزی سے ملے۔ شیخ تبریزی بڑے خدا رسیدہ اور عارف کامل بزرگ تھے۔ شیخ نظام دین محبوب الٰہی جیسے بلند مرتبہ بزرگ ان کی پارسائی و علمی فضیلت کے معترف تھے۔ تبریز کے بعد جناب خواجہ اصفہان گئے۔ یہاں جناب خواجہ بختیار کاکی کو آپ سے ملنے کا موقع ملا۔ جناب کاکی آپ کے مرید ہو گئے۔ اصفہان سے چلے تو خرقان پہنچے پھر استر آباد آئے اور یہاں کے مشہور بزرگ جناب شیخ ناصرالدین استر آبادی کے فیوضات باطنی سے استفادہ کیا۔ غرض یہ کہ سیاحت میں استر آباد کے بعد ہرات، سبزوار، حصار، بلخ اور غزنین پہنچے۔ غزنین علم و فضل کا مرکز تھا ۔ مگر ان دنوں سلطان محمود غزنوی کی اولاد کی حالت بہت پتلی تھی اور غوری خاندان کا ستارہ اقبال چمک رہا تھا مولانا عبدالحلیم شرر لکھتے ہیں کہ آپ ٣٦٥ھمیں وارد بغداد ہوئے اور ٨٥٥ھ یا ٠٦٥ھ میں غزنین پہنچے۔ بات کا پتہ نہیں چلتا۔ ٣٦٥ھ میں تو بغداد گئے، پھر وہاں سے مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے غزنین کیسے پہنچ گئے۔ بہر کیف جناب خواجہ غزنین میں ضرور پہنچے۔ علاءاور حسین غوری نے ان دنوں غزنوی خاندان کے بادشاہ ناصر الدین شاہ کے عہد میں غزنین کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ لیکن دو ہی برس گذرنے پائے تھے کہ ناصرالدین کے انتقال کے بعد حسین غوری کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد حسین غوری کا بیٹا سیف الدین محمد غوری تخت پر بیٹھا۔ بیس برس کا سن بھرپور جوانی مگر شعور پختہ نہیں تھا۔ سلطنت کو وسیع کرنے کے خیال سے وہ ایک لشکر جرار لے کر ترکان غز کے استیصال کے لیے اٹھا۔ لیکن ایک موقع پر غزوں کو اکیلا ہاتھ آگیا۔ اور انہوں نے موقع پا کر مار ڈالا۔ دوسرے سال خود ترکان غز نے پہل کی ۔ مگر ملک شاہ غوری ان کے مقابلہ سے بھاگ کھڑا ہوا ۔ اور لاہور میں آ کر پناہ لی۔ غزوں نے شہر کو تاخت و تاراج کیا۔ خوب لوٹ کھسوٹ مچائی قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا۔ اور اس کے بعد غزنین میں اپنا ایک نائب چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کے چلے جانے کے بعد ملک شاہ غزنین آیا۔ اس نے ترکان غز کے نائب کو وہاں سے نکالا اور غزنین پردوبارہ قبضہ کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام دل دوز واقعات جناب خواجہ معین الدین چشتی کی نگاہوں کے سامنے ہوئے۔ خواجہ نے دیکھا کہ مسلمان بے عمل ہو چکے ہیں۔ عیش پرستی و ہو س کو شی نے ان کے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔ اور یہی ان کی خانہ ویرانی کا سبب ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تبلیغی سر گرمیوں کو تیز کر دیا۔ اور لوگوں کے ذہن کو جہاد کی طرف پھیرا۔ غزنین کے بعد آپ نے پاک وہند کا رخ کیا۔ ان دنوں یہاں کے رہنے والوں کی جو حالت تھی وہ دنیا بھر کے جاہلوں کے مقابلہ میں سب سے بد تر تھی۔ ہندومذہب کا دور دورہ تھا۔ بت پرستی عام تھی۔ بندوں نے مالک سے رشتے توڑ کر غیروں سے جوڑ رکھے تھے۔ اورغیروں کی یہ حالت سامنے ہونے کے باوجود کہ اگر کوئی کتا بھی ٹانگ اٹھا کر ان پر پیشاب کر جائے تو وہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ اس کے بعد ان کے سامنے سر جھکاتے اور انہیں استمداد کا ذریعہ جانتے تھے۔ جناب خواجہ معین الدین پاک وہند کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی سب سے پہلے لاہور میں وارد ہوئے۔ اور مخدوم علی ہجویری کے مزار پر چلہ کیا۔ اس کے بعد آپ لاہور سے آگے بڑھے تو دہلی ہوتے ہوئے اجمیر پہنچے۔ ان دنوں شہاب الدین غوری دہلی اور اجمیر کے راجائوںسے شکست کھا کے گیا تھا۔ اور اس شکست کا بدلہ لینے کے لیے پھر سے پر تول رہا تھا۔ اس زمانے میںہندوئوں کی نگاہ میں مسلمانوں کی جو کچھ وقعت و حیثیت تھی سو وہ ظاہر ہے۔ نہا یت حقارت سے دیکھے جاتے تھے۔ اجمیر میں ان دنوں پرتھوی راج کی حکومت تھی۔ آپ نے وعظ و تلقین کا سلسلہ شروع کیا لیکن جیسا کہ قاعدہ ہے کہ اللہ والوں کے مزاج میں تلخی نہیں ہوتی وہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے بڑے تحمل اور نرمی سے کام لیتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے بھی کچھ ایسا ہی طرز عمل اختیارکیا کہ پر تھوی راج کو آپ سے مطلق شکا یت پیدا ہوئی۔ ایک خلق خدا آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہو رہی تھی۔ آپ کا علم وعمل لوگوں کی نگاہ میں اثر پیدا کر رہا تھا۔ لیکن سیاسی احوال یہ تھے کہ شاہان اسلام ہندوستان پر بار بار حملہ کر رہے تھے اور فطر تاً مسلمانوں کے خلاف ہندوئوں کے دلوں میں بغض و عناد پیدا ہو رہا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ تمام مسلمانوں کو پھر سے ہندو بنا لیا جائے۔ چنانچہ مصلحت ملکی کو سامنے رکھتے ہوئے پرتھو ی راج جناب خواجہ معین الدین چشتی کے خلاف ہو گیا۔ ایک روز پرتھوی راج نے پنے درباریوں کو مخا طب کر کے کہا یہ شخص( خواجہ)جانے لوگوں پر کیا جادو کر ارہا ہے کہ لوگ اس کے پاس کھنچے چلے آتے ہیں اور مسلمان ہو جاتے ہیں۔ مگر ہم پوچھتے ہیں کہ اسے ہمارے ملک میں آنے کا کیا حق ہے؟ کہتے ہیں یہ الفاظ کسی نے جناب خواجہ کو جا سنائے۔ آپ جوش میں آ گئے اور فرمایا وہ ہمیں یہاں سے نکالے نہ نکالے مگر ہم نے اسے نکال دیا۔ فرشتہ نے لکھا ہے شہاب الدین غوری کے مقابلہ میں پہلی جنگ میں پرتھوی راج دو لاکھ سوار لے کر پہنچا تھا۔ دوسری مرتبہ جو لڑائی ہوئی اس میں اس کے تین لاکھ سوار تھے۔ ہندوستان کے تمام راجا اس کے جھنڈے کے نیچے جمع تھے۔ جو تعداد میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ہوں گے اور تین ہزار ہاتھی تھے۔ تراواڑی کے میدان میں مقابلہ ہوا۔ خوب گھمسان کا رن پڑا۔ بڑے بڑے راجائوں نے شکست کھائی اور مارے گئے۔ پرتھوی راج نے بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کی مگر دریائے گنگا سے آگے نہیں پہنچنے پایا تھا کہ ایک دلیر آدمی نے تعاقب کر کے گرفتار کر لیا اور شہاب الدین غوری کے حضور میں پیش کر دیا ۔ جہاں اسے ملک فنا کو روانہ کر دیا گیا اور اس طرح جناب خواجہ کی پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں کے دلوں میں جناب خواجہ کی شخصی عظمت اور علمی فضیلت نے پہلے سے زیادہ گھر کر لیا۔ وہ لوگ جو آپ کے دست حق پرست پر اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، مسلمان ہو گئے۔ جو لوگ اسلام کو الزام دیتے ہیں وہ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ شہاب الدین غوری نے فتح یاب ہونے کے بعد ہندوستان میں اقامت اختیار نہیں کی بلکہ وہ اجمیر آیا۔ پرتھوی راج کے بیٹے کو اپنا مطیع و باج گزار بنا کر واپس چلا گیا۔ صرف قطب الدین ایبک جو بعد میں ہندوستان کا شہنشاہ بنا اس فتح کے بعد ہندوستان میں شہاب الدین غوری کا نائب تھا اگر غوری یہاں رہتا تو آج ہندوستان کی حالت کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ ہندوستان میں اسلام پھیلا تو انہی خواجہ معین الدین چشتی جیسے بریہ نشینوں کے طفیل پھیلا ہے۔ ہر چند شاہان اسلام خواہ کتنے ہی عمدہ مسلمان کیوں نہ ہوں۔ لیکن ان کے بارے میں یہ کبھی نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے سرکاری طور پر اسلام کی تبلیغ کی یا عیسائیوں کی طرح مشینری اسکول اور کالج قائم کیے۔ یہ صرف اولیائے کرا م ہی کی کوششوں کا حصہ ہے کہ آج پاک و ہند کے بام و در اسلام کے نام سے آشنا ہیں۔ خواجہ معین الدین چشتی کے بیان میں ایک بات خاص ذکر کے قابل ہے۔ وہ یہ کہ جناب سید حسن مشہدی جنہیں خنگ سوار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قطب الدین ایبک نائب ہند کی طرف سے اجمیر کے داروغہ مقرر کے گئے۔ خنگ سوار نہایت نیک نفس ، پاک باطن اور پابند صوم و صلوٰة بزرگ تھے۔ لیکن باوجود اثنا عشری شیعہ ہونے کے جناب خواجہ کے ممدو معاون تھے ۔ حالانکہ جناب خواجہ شیعہ نہیں تھے۔ لیکن ان کے طرز عمل اور حسنِ اخلاق نے انہیں اپنا ایسا گرویدہ بنایا کہ خنگ سوار ہر قدم پر خواجہ کے ساتھ رہے۔ جس سے اسلام کی اشاعت کرنے اور خلق خدا کی خدمت کرنے میں بڑی مددملی۔ خواجہ معین الدین چشتی نے ہندوستان میں سلسلہ چشت کو ایسا پھیلایا کہ آج پاک و ہند میں چشتی سلسلے کے بزرگ ہر جگہ موجود ہیں ۔ اور ان کے لاکھوں مریدین ہیں۔ سیرت العارفین میں لکھا ہے۔ آپ نے ستانوے برس کی عمر میں وفات پائی۔ تاریخ وفات 6 رجب المرجب 336ھ ہے۔ آپ اجمیر میں فوت ہوئے۔ اور یہیں آپ کا مزار پر انوار مرجع خلائق ہے۔ آپ کی تصنیفات کے بارے میں لکھا ہے اگرچہ آپ نے کوئی مستقل تصنیف نہیں چھوڑی البتہ آپ کے ملفوظات کو جمع کر کے مختلف کتابیں مرتب کر لی گئیں ۔ جن میں سے ایک ?دلیل العارفین? ہے۔ جسے آپ کے خلیفہ و مرید جناب بختیار کاکی نے مرتب کیا ہے۔ |
